بس وہ احسان فراموش تھے
احسان فراموش کا مطلب ہے کہ آپ کسی انسان کے ساتھ بھلائی کریں اور وہ آپ کے تمام احسانات اور اچھائیوں کو پس پشت ڈال کر چلتا بنے. آپ کسی دھوپ میں تپتے ہوے انسان کے لیے شجر سایہ دار بنیں اور وہ آپ کے پیروں تلے سے زمین بھی کھینچ لے
جب کسی کو آسرے کی ضرورت ہو تو آپ اسے اپنا کندھا پیش کریں مگر مطلب پورا ہونے کے بعد دوسرا فریق طوطا چشمی کی تمام حدیں عبور کر لے.
آپ نے اکثر بہن بھائیوں میں بھی دیکھا ہو گا کہ کچھ بہن بھائی تمام عمر قربانی کا بکرا بنے رہتے ہیں بچپن سے جوانی اور جوانی سے بڑھاپے تک اپنا پیٹ کاٹ کے اپنی خواہشات کو پس پشت ڈال کر اپنے بہن بھائیوں کے ناز اٹھانے میں لگے رہتے ہیں. اور وہی بہن بھائی جب کسی اچھے عہدے پہ پہنچ جاتے ہیں تو پھر ہر کامیابی کا کریڈٹ خود لے لیتے ہیں اور وہ جو انھیں اس مقام تک پہنچانے کے لیے لیرو لیر ہو جاتے ہیں انہیں مکھن میں سے بال کی طرح نکال کے پاہر کردیتے ہیں اسی کو احسان فراموشی کہتے ہیں.
اسلم کولسری صاحب کا مشہور زمانہ شعر اسی کیفیت کا اظہار ہے.
شہر میں آ کر پر ھنے والے بھول گئے
کس کی ماں نے کتنا زیور بیچا تھا.
میری اپنی ایک نظم بھی اسی خود غرضی کی نشاندہی کرتی ہے.
زمانے کا چلن
ابھی تو سیڑھی کے نچلے پاے پہ
بیٹھ مجھ کو پکارتے ہو
ابھی تو راتوں کے رتجگوں میں
مجھے صدا دے کے ہارتے ہو
اگر بلندی پہ پہنچ کے بھی
مجھے پکارا تو ہے محبت
وگرنہ ہیں ساری جھوٹی باتیں
نری کہاوت نری بناوٹ
کسی مملکت کا بادشاہ بیماری کی وجہ سے قریب المرگ تھا ایک حکیم کے علاج سے روبہ صحت ہو گیا مگر بادشاہ کی کم ظرفی ملا خطہ فرمایے کہ صحت مند ہونے کے بعد اس نے حکیم کو پہچاننے سے ہی انکار کردیا. اسی بری خصلت کو احسان فراموشی کہتے ہیں.
. حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کا مشہور زمانہ قول ہے کہ جس پہ نیکی کرو اس کے شر سے بچو ایک دفعہ ایک عقاب نے ایک لومڑی کو سارے جنگل میں غرور سے اتراتے ہوے دیکھا تو جنگل کے جانوروں سے اس غرور کا سبب پوچھا جانوروں سے معلوم ہوا کہ اس لومڑی نے جنگل کے بادشاہ کو پال پوس کے جوان کیا کیونکہ شیر کی ماں اسے جنم دیتے ہی فوت ہو گی تھی اب شیر نے احسانات کے بدلے لومڑی کو یہ پروٹوکول دے رکھا ہے کہ وہ جنگل میں آزادانہ جہاں مرضی گھومے پھرے اس کا کوئی بال بھی بیکا نہیں کر سکتا. عقاب اس ادا سے بہت متاثر ہوا اس نے اڑتے اڑتے ایک دریا کے اوپر ایک ڈوبتے ہوے سردی سے ٹھنڈے ہوتے ہوے چوہے کو اپنے پروں تلے پناہ دی چوہے کی جب سانسیں درست ہویں تو اس نے اپنی شر پسند فطرت سے مجبور ہو کر عقاب کے ہر کتر ڈالے. اسے بھی احسان فراموشی ہی کہتے ہیں تو نیکی کرنے سے پہلے یہ ضرور دیکھ لیجیے گا کہ نیکی کر کس پہ رہے ہیں کیونکہ دنیا کے ننانوے فیصد لوگ مطلب کے یار ہیں. مطلب پورا ہونے پہ تو کون تے میں کون والا معاملہ ہو ہی جاتا ہے.
ملک خداداد کی تباہی میں بھی انھی احسان فراموش عناصر کا بہت بڑا ہاتھ رہا ہے اور یہ ملک کے محسنوں کو سوچی سمجھی پلاننگ کے تحت ایک ایک کر کے پردہ سکرین سے ہٹاتے گیے اپنے کھیسے بھرتے چلے گیے اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے اس قوم میں اور کوی عیب نہ تھا بس وہ احسان فراموش تھے. اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں تمام احسان فراموشوں کے شر سے محفوظ رکھے.
ڈاکٹر پونم گوندل لاہور
drpunnamnaureen@gmail.com
11
بس وہ احسان فراموش تھے
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0









