*یومِ تکبیر: پاکستان کے ایٹمی سفر، چاغی کے دھماکوں اور قومی کردار کی جامع تاریخی روداد*
*تحریر: جرنلسٹ جاوید صدیقی*
28 مئی پاکستان کی تاریخ کا وہ دن ہے جسے ہر سال یومِ تکبیر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ 28 مئی 1998 کو پاکستان نے بلوچستان کے ضلع چاغی کے پہاڑوں میں جوہری تجربات کرکے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ وہ اپنی قومی سلامتی، خودمختاری اور دفاع کے تحفظ کے لیے فیصلہ کن صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ تجربات بھارت کے مئی 1998 کے جوہری تجربات کے جواب میں کیے گئے اور پاکستان جنوبی ایشیا میں اسٹریٹجک توازن قائم رکھنے والی جوہری ریاست بن گیا۔ حکومتِ پاکستان کے حالیہ سرکاری بیانات بھی اس دن کو قومی اتحاد، خودمختاری اور دفاعی صلاحیت کی علامت قرار دیتے ہیں۔ لیکن یومِ تکبیر کو صرف 28 مئی 1998 کے ایک فیصلے تک محدود کرنا پاکستان کے ایٹمی سفر کی مکمل تاریخ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کامیابی کے پیچھے کئی دہائیوں کی سیاسی سرپرستی، سائنسی تحقیق، انجینئرنگ، ادارہ جاتی محنت، عسکری حکمتِ عملی، مختلف حکومتوں کے فیصلے اور بالآخر ایک انتہائی مشکل سیاسی فیصلہ شامل تھا۔
”ایٹمی سفر کی بنیاد کہاں سے پڑی؟“
پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی سیاسی بنیاد عام طور پر سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سے منسوب کی جاتی ہے۔ 1971 کی جنگ اور سقوطِ مشرقی پاکستان کے بعد پاکستان کی سلامتی کی صورتِ حال انتہائی حساس تھی۔ بھارت پہلے ہی ایٹمی صلاحیت کی طرف بڑھ رہا تھا اور 1974 میں اس نے پوکھران میں اپنا پہلا جوہری تجربہ کیا۔پاکستانی سرکاری مؤقف کے مطابق ذوالفقار علی بھٹو نے اس بدلتے ہوئے علاقائی ماحول میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو قومی سلامتی کی ترجیح بنایا۔ صدرِ پاکستان کے 2026 کے یومِ تکبیر پیغام میں بھی واضح طور پر کہا کہ بھٹو کے دور میں پاکستان کا جوہری پروگرام بھارت کی جوہری پیش رفت کے تناظر میں شروع ہوا۔ اسی لیے اگر سوال یہ ہو کہ “پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی سیاسی بنیاد کس نے رکھی؟” تو ذوالفقار علی بھٹو کا نام سب سے نمایاں طور پر سامنے آتا ہے۔ ڈاکٹر منیر احمد خان اور پاکستان اٹامک انرجی کمیشن پاکستان کے جوہری سفر میں صرف ایک ادارہ یا ایک سائنسدان نہیں بلکہ مختلف سائنسی اداروں اور ماہرین نے کردار ادا کیا۔ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (PAEC) نے جوہری تحقیق، ری ایکٹر ٹیکنالوجی، جوہری مواد، سائنسی تحقیق اور بالآخر جوہری تجربات کی تیاری میں بنیادی کردار ادا کیا۔ ڈاکٹر منیر احمد خان پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے سربراہ رہے اور پاکستان کے جوہری پروگرام کی ترقی میں ان کا کردار انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ بعد کے مراحل میں PAEC نے چاغی کے تجرباتی مقام اور تجربات کی تکنیکی تیاری میں بھی مرکزی ذمہ داری ادا کی۔ یہ نکتہ اس لیے اہم ہے کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی تاریخ کو صرف ڈاکٹر عبدالقدیر خان یا صرف کسی ایک ادارے سے منسوب کرنا مکمل تاریخی تصویر پیش نہیں کرتا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا کردار پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی تاریخ میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا نام ایک غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے بالخصوص یورینیم افزودگی کے شعبے میں پاکستان کی صلاحیت کو آگے بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کیا اور کہوٹہ میں قائم تحقیقی ادارے کے ذریعے پاکستان کے یورینیم افزودگی پروگرام کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی وجہ سے پاکستان میں عوامی سطح پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو طویل عرصے تک “محسنِ پاکستان” اور قومی ایٹمی پروگرام کے اہم ترین معماروں میں شمار کیا جاتا رہا۔ قومی اسمبلی نے بھی ان کے انتقال پر انہیں محسنِ پاکستان قرار دیتے ہوئے ان کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ تاہم علمی اور تاریخی اعتبار سے ایک فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے: ڈاکٹر عبدالقدیر خان پاکستان کے یورینیم افزودگی پروگرام کے مرکزی معماروں میں تھے، لیکن پاکستان کا مکمل جوہری پروگرام متعدد سائنسدانوں، انجینئروں اور اداروں کی اجتماعی کاوش تھا۔ ڈاکٹر ثمر مبارک مند اور چاغی کے تجربات پاکستان کے ایٹمی تجربات کے عملی مرحلے میں ڈاکٹر ثمر مبارک مند اور پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے سائنسدانوں اور انجینئروں کا کردار نمایاں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یومِ تکبیر کے سرکاری پیغامات میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ساتھ ڈاکٹر ثمر مبارک مند، سائنسدانوں، انجینئروں، مسلح افواج اور دیگر متعلقہ اداروں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ وزیراعظم کے 2026 کے پیغام میں بھی بھٹو، نواز شریف، ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ڈاکٹر ثمر مبارک مند سمیت متعدد سائنسدانوں، انجینئروں اور اداروں کی خدمات کا اعتراف کیا گیا۔ بھارت کے 1998 کے ایٹمی تجربات پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا فیصلہ کن موڑ مئی 1998 میں آیا۔ بھارت نے 11 اور 13 مئی 1998 کو پانچ جوہری تجربات کیے۔ ان تجربات کے بعد جنوبی ایشیا کی سلامتی کی صورتِ حال یکسر تبدیل ہوگئی۔ پاکستان کے سامنے بنیادی سوال یہ تھا کہ آیا وہ بھارت کے جوہری تجربات کے بعد خاموش رہے، عالمی دباؤ قبول کرے، یا اپنی جوہری صلاحیت کا عملی مظاہرہ کرکے علاقائی اسٹریٹجک توازن برقرار رکھے۔ پاکستانی ریاستی مؤقف میں بعد ازاں یہ بات بارہا سامنے آئی کہ بھارت کے تجربات نے پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج پیدا کیا تھا۔ پاکستان پر بین الاقوامی دباؤیہ فیصلہ آسان نہیں تھا۔امریکہ اور دیگر عالمی طاقتیں پاکستان کو ایٹمی تجربات سے روکنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ پاکستان کو یہ خدشہ بھی تھا کہ جوہری تجربے کرنے کی صورت میں معاشی اور سفارتی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔یعنی پاکستان کے سامنے صرف دفاعی سوال نہیں تھا بلکہ معیشت، عالمی سفارت کاری، امداد، پابندیوں اور بین الاقوامی تعلقات کے ممکنہ نتائج بھی موجود تھے۔ پاکستانی سرکاری بیانات کے مطابق اس مرحلے پر پاکستان کو شدید عالمی دباؤ، اقتصادی پابندیوں کی دھمکیوں اور مختلف ترغیبات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن بالآخر سیاسی اور عسکری قیادت نے جوہری تجربات کرنے کا فیصلہ کیا۔
”کیا پاکستان نے کسی مخصوص “شرط” کے تحت ایٹمی دھماکہ کیا؟“
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ پاکستان نے کسی ایک تحریری شرط یا معاہدے کے تحت ایٹمی دھماکے نہیں کیے تھے۔ اصل معاملہ ایک پیچیدہ قومی سلامتی کے فیصلے کا تھا۔اہم عوامل یہ تھے: بھارت کے 1998 کے جوہری تجربات۔ بھارت کی جوہری صلاحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والا اسٹریٹجک عدم توازن۔ پاکستان کی قومی سلامتی کے خدشات۔ بھارتی جوہری طاقت کے مقابلے میں قابلِ اعتبار دفاعی صلاحیت کا تصور۔سیاسی اور عسکری قیادت کی مشاورت۔سائنسدانوں کی جانب سے تکنیکی صلاحیت کی موجودگی۔ عالمی دباؤ کے باوجود قومی سلامتی کو ترجیح دینے کا فیصلہ۔ پابندیوں اور معاشی نقصانات کے ممکنہ نتائج کو قبول کرنے کی تیاری۔ بعد کے پاکستانی سرکاری مؤقف میں اسے قومی خودمختاری، علاقائی توازن اور دفاعی صلاحیت کے تناظر میں بیان کیا گیا ہے۔ نواز شریف کے سامنے سب سے بڑا فیصلہ 1998 میں پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف تھے۔ بھارت کے تجربات کے بعد نواز شریف حکومت کو ایک انتہائی مشکل فیصلہ کرنا تھا۔ ایک طرف عوامی جذبات اور قومی سلامتی کا سوال تھا، دوسری طرف امریکہ سمیت بڑی عالمی طاقتوں کا دباؤ، معاشی پابندیوں کا خدشہ اور پاکستان کی کمزور اقتصادی صورتحال تھی۔ بالآخر وزیراعظم نواز شریف نے ایٹمی تجربات کی منظوری دی اور 28 مئی 1998 کو پاکستان نے چاغی میں جوہری تجربات کیے۔ پاکستان کی قومی اسمبلی کے سرکاری ریکارڈ میں بھی اس فیصلے کو نواز شریف کی قیادت اور شدید بین الاقوامی دباؤ کے باوجود کیے گئے تاریخی اقدام کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
”کیا تمام حکومتی شخصیات ایٹمی دھماکے کے حق میں تھیں؟“
یہاں تاریخی احتیاط ضروری ہے۔ یہ کہنا درست نہیں کہ حکومت کی ہر شخصیت یکساں طور پر تجربات کے حق میں تھی۔ دستیاب تاریخی روایات اور بعد کی تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت کے اندر معاشی، سفارتی اور قومی سلامتی کے مختلف زاویے موجود تھے۔ بالخصوص سرتاج عزیز، جو اس وقت وزیر خزانہ تھے، معاشی نتائج اور ممکنہ بین الاقوامی پابندیوں کے بارے میں شدید تحفظات رکھتے تھے۔ ان کا بنیادی نقطۂ نظر یہ تھا کہ پاکستان کی معیشت عالمی پابندیوں کا بوجھ اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔ یہ مخالفت پاکستان کی جوہری صلاحیت سے اصولی انکار سے زیادہ اقتصادی نتائج کے بارے میں تشویش کے طور پر سمجھی جاتی ہے۔ دوسری جانب سیاسی اور عسکری قیادت کے اہم حلقے تجربات کے حق میں تھے۔ عسکری قیادت کا کردار 1998 میں پاکستان کی عسکری قیادت بھی اس تاریخی فیصلے میں اہم فریق تھی۔جنرل جہانگیر کرامت آرمی چیف تھے۔ پاکستان کی دفاعی حکمتِ عملی کے تناظر میں بھارت کے جوہری تجربات کے بعد اسٹریٹجک توازن ایک اہم مسئلہ بن چکا تھا۔اسی طرح فضائیہ اور دیگر دفاعی ادارے بھی قومی دفاع کے اس معاملے میں اہم کردار ادا کر رہے تھے۔ تاہم اس پورے معاملے کو “فوج نے حکم دیا اور حکومت نے عمل کیا” جیسے سادہ جملے میں بیان کرنا تاریخی طور پر مناسب نہیں ہوگا۔ حتمی آئینی و سیاسی منظوری وزیراعظم اور منتخب حکومت کی طرف سے ہوئی۔ ایڈمرل فصیح بخاری کے تحفظات اس وقت بحریہ کے سربراہ ایڈمرل فصیح بخاری کے حوالے سے بھی یہ مؤقف سامنے آتا ہے کہ وہ فوری طور پر ایٹمی تجربات کرنے کے بجائے احتیاط اور مزید انتظار کے حامی تھے۔ ان کے تحفظات میں اسٹریٹجک، سفارتی اور قومی سلامتی کے پہلو شامل تھے۔ یہ بات اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ 1998 کا فیصلہ ہر سطح پر یکساں سوچ کا نتیجہ نہیں تھا؛ بلکہ قیادت کے اندر مختلف آراء موجود تھیں اور بالآخر ایک اجتماعی ریاستی فیصلہ سامنے آیا۔
”بے نظیر بھٹو کا مؤقف“
ایک اور اہم حقیقت یہ ہے کہ ایٹمی تجربات کے وقت محترمہ بے نظیر بھٹو اپوزیشن میں تھیں۔ وہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کی حمایت کرتی تھیں اور بھارت کے تجربات کے بعد پاکستان کے جوابی اقدام کے حق میں آواز اٹھاتی تھیں۔ پاکستان کے 2024 کے سرکاری یومِ تکبیر پیغام میں بھی واضح طور پر محترمہ بے نظیر بھٹو کی اس وقت کے اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے نواز شریف حکومت کے ایٹمی تجربات کے فیصلے کی حمایت کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ پہلو اہم ہے کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ 28 مئی کا فیصلہ محض ایک جماعت کا معاملہ نہیں تھا بلکہ قومی سلامتی کے اس بنیادی سوال پر ملک کی بڑی سیاسی قوتوں میں وسیع حمایت موجود تھی۔
”28 مئی 1998:“
چاغی میں دھماکے بالآخر 28 مئی 1998 کو پاکستان نے بلوچستان کے چاغی کے پہاڑوں میں جوہری تجربات کیے۔ سرکاری پاکستانی بیانات میں 28 مئی کے تجربات کو بھارت کے پانچ تجربات کے جواب میں پاکستان کے چھ جوہری دھماکوں کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ان تجربات کے بعد پاکستان دنیا کی جوہری طاقتوں کی صف میں شامل ہوگیا اور جنوبی ایشیا میں اسٹریٹجک توازن کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ اسی تاریخی موقع کی نسبت سے “یومِ تکبیر” منایا جاتا ہے۔ یومِ تکبیر کا سہرا کس کے سر؟ یہ سوال جذباتی بھی ہے اور تاریخی بھی۔ اگر ہم اسے صرف ایک شخصیت کے نام سے منسوب کردیں تو پاکستان کے ایٹمی سفر کی کئی اہم شخصیات اور ادارے نظرانداز ہوجاتے ہیں۔زیادہ متوازن تاریخی تقسیم یوں بنتی ہے: ذوالفقار علی بھٹو — سیاسی بنیاد اگر سوال ہو کہ: “پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنے والی اہم سیاسی شخصیت کون تھی؟ “تو جواب ذوالفقار علی بھٹو ہے۔ پاکستان کی قومی اسمبلی اور حکومتِ پاکستان کے سرکاری بیانات مسلسل ان کے کردار کو پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد سے جوڑتے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان — محسنِ پاکستان اگر سوال ہو: “پاکستانی عوام محسنِ پاکستان کس کو قرار دیتی ہے؟ “تو اس کا معروف جواب ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہے۔ ان کی سب سے نمایاں شناخت پاکستان کے یورینیم افزودگی پروگرام اور کہوٹہ کے حوالے سے ہے۔ قومی اسمبلی کے ریکارڈ میں بھی ان کے لیے “محسنِ پاکستان” کا لقب استعمال ہوا ہے۔ ڈاکٹر منیر احمد خان — جوہری تحقیق اور PAEC اگر سوال ہو: “پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے ذریعے جوہری پروگرام کو ادارہ جاتی اور سائنسی بنیاد دینے میں کون نمایاں تھا؟ “تو ڈاکٹر منیر احمد خان کا نام نمایاں ہوتا ہے۔ ڈاکٹر ثمر مبارک مند — تجربات کی تکنیکی تکمیل اگر سوال ہو: “چاغی کے جوہری تجربات کو عملی تکنیکی مرحلے تک پہنچانے والے اہم سائنسدانوں میں کون شامل تھا؟ “تو ڈاکٹر ثمر مبارک مند اور PAEC کی سائنسدانوں و انجینئروں کی ٹیم اہم حیثیت رکھتی ہے۔ نواز شریف — حتمی سیاسی فیصلہ اور اگر سوال ہو: “28 مئی 1998 کو ایٹمی تجربات کرنے کی حتمی سیاسی منظوری کس نے دی؟ “تو جواب وزیراعظم میاں محمد نواز شریف ہے۔ حکومتِ پاکستان کے موجودہ سرکاری پیغامات بھی نواز شریف کے اس فیصلے کو شدید عالمی دباؤ کے باوجود تاریخی فیصلہ قرار دیتے ہیں۔ پھر اصل کریڈٹ کس کو دیا جائے؟ تاریخی انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ کریڈٹ کو ایک شخص تک محدود نہ کیا جائے۔ بھٹو نے سیاسی بنیاد رکھی۔ منیر احمد خان اور PAEC نے جوہری تحقیق اور ادارہ جاتی پروگرام کو آگے بڑھایا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کی ٹیم نے یورینیم افزودگی کے شعبے میں اہم صلاحیت پیدا کی۔ ڈاکٹر ثمر مبارک مند اور PAEC کے سائنسدانوں و انجینئروں نے تجربات کی تیاری اور تکمیل میں اہم کردار ادا کیا۔ مسلح افواج نے قومی دفاع اور اسٹریٹجک ضرورت کے حوالے سے اہم کردار ادا کیا۔ مختلف سیاسی حکومتوں نے پروگرام کو مختلف ادوار میں جاری رکھا۔اور نواز شریف نے 1998 میں حتمی سیاسی منظوری دے کر پاکستان کو جوہری تجربات کی منزل تک پہنچایا۔ اسی لیے 2026 کے وزیراعظم پاکستان کے سرکاری یومِ تکبیر پیغام میں بھی بھٹو کی بصیرت، نواز شریف کے فیصلہ کن کردار، ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ڈاکٹر ثمر مبارک مند سمیت سائنسدانوں، انجینئروں، مسلح افواج اور دیگر کارکنوں کو مشترکہ طور پر خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے۔
“محسنِ پاکستان” اور “یومِ تکبیر” میں فرق“
یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے۔محسنِ پاکستان کا عوامی لقب بنیادی طور پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے لیے استعمال ہوتا ہے۔جبکہ یومِ تکبیر کسی ایک فرد کا دن نہیں بلکہ پاکستان کے قومی جوہری تجربات اور اجتماعی قومی عزم کی یادگار ہے۔ اسی طرح 28 مئی کی کامیابی کو صرف “ایٹم بم بنانے” کی کامیابی کہنا بھی محدود تعبیر ہوگی؛ یہ دراصل پاکستان کے کئی دہائیوں پر محیط جوہری پروگرام کے اس مرحلے کی تکمیل تھی جس میں سیاسی قیادت، سائنسدان، انجینئرز، تکنیکی ماہرین، عسکری ادارے اور ریاستی ادارے شریک تھے۔ ایک غیر جانب دار تاریخی نتیجہ یومِ تکبیر کی تاریخ کو اگر غیر جانب دارانہ انداز میں دیکھا جائے تو کسی ایک شخصیت کو مکمل طور پر “پاکستانی ایٹم بم کا موجد” قرار دینا تاریخی پیچیدگی کو نظرانداز کرنا ہوگا۔ ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے جوہری پروگرام کی سیاسی بنیاد رکھنے والی سب سے اہم شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان یورینیم افزودگی اور کہوٹہ پروگرام کے نمایاں ترین سائنسدانوں میں شامل تھے اور پاکستانی عوام میں محسنِ پاکستان کے طور پر سب سے زیادہ معروف ہیں۔ ڈاکٹر منیر احمد خان اور پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے جوہری پروگرام کی سائنسی و ادارہ جاتی ترقی میں بنیادی کردار ادا کیا۔ ڈاکٹر ثمر مبارک مند اور ان کی ٹیم نے چاغی کے تجربات کی تکنیکی تکمیل میں نمایاں کردار ادا کیا۔ مسلح افواج نے قومی دفاع اور اسٹریٹجک توازن کے حوالے سے اہم کردار ادا کیا۔محترمہ بے نظیر بھٹو سمیت ملک کی بڑی سیاسی قوتوں نے اس قومی سلامتی کے فیصلے کی حمایت کی۔ اور وزیراعظم نواز شریف نے شدید عالمی دباؤ، ممکنہ معاشی پابندیوں اور دیگر خطرات کے باوجود 28 مئی 1998 کو جوہری تجربات کی حتمی سیاسی منظوری دی۔ لہٰذا تاریخ کا زیادہ منصفانہ فیصلہ یہی ہے کہ:”پاکستان کا ایٹمی پروگرام کسی ایک فرد کی ایجاد نہیں بلکہ قومی سطح کی کئی دہائیوں پر محیط اجتماعی کاوش تھا؛ تاہم اس سفر میں بھٹو سیاسی بنیاد، ڈاکٹر عبدالقدیر خان یورینیم افزودگی کے نمایاں معمار، PAEC اور اس کے سائنسدان جوہری تحقیق و تجربات کے اہم ستون، اور نواز شریف 28 مئی 1998 کے حتمی سیاسی فیصلے کے مرکزی کردار تھے۔ “یومِ تکبیر اسی اجتماعی جدوجہد، قومی عزم، سائنسی صلاحیت اور ریاستی فیصلے کی علامت ہے۔
قائداعظم زندہ باد ، پاکستان پائندہ باد۔۔۔۔۔!!









