کر کہا تم میری بہو نہیں بیٹی ہو اور بس یہی ان کے آخری الفاظ تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فجر سے پہلے ان کی روح پرواز کر گئی۔جنازے کے بعد گھر کے در و دیوار پہ اک عجب سا سناٹا تھا۔یحی پہلی بار تنہائ سے خوف زدہ ہوا اسے پہلی بار احساس ہوا کہ اس کی ماں کی خدمت کرنے والی صرف ایک بہو نہ تھی بلکہ ایک نرم دل اور انتہا کی مہربان تھی وہ تھکا ہارا ملگجے کپڑوں میں ملیحہ کے سامنے آ کھڑا ہوا اس کے ہاتھ بندھے ہوے اور پپوٹے سوجے ہوے تھے میں تم سے معافی مانگتا ہوں ،میں نے تمہارے ساتھ شدید ظلم کیا تم چاہو تو مجھے چھوڑ سکتی ہو۔۔۔۔ملیحہ نے کہا میں خدمت سے نہیں آپ کے دیئے ہوے دھوکے سے ہاری ہوںُ وہ سیاہ لباس میں ڈائمنڈ کے سیٹ سمیت ہر شے کو پیچھے چھوڑ آہ،دوسری بیوی کے لیبل کا ٹیگ اپنی پیشانیُسے مٹاتی ایک نیک،مہربان اور پاکیزہ عورت کے روپ میں
ڈاکٹر پونمُ نورین گوندل لاہور
9









