8

نور احمد نوری — قلم، کردار اور صحافت کا معتبر استعارہ خصوصی تحریر: راجہ نورالٰہی عاطف

نور احمد نوری — قلم، کردار اور صحافت کا معتبر استعارہ

خصوصی تحریر: راجہ نورالٰہی عاطف

صحافت محض خبر رسانی کا نام نہیں بلکہ سچائی، دیانت، جرات اور قومی شعور کو زندہ رکھنے کا ایک مقدس فریضہ ہے۔ اس میدان میں وہی لوگ اپنی پہچان قائم رکھتے ہیں جو اصولوں پر سمجھوتہ کیے بغیر حقائق کو عوام تک پہنچانے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ ایسے ہی باوقار، باصلاحیت اور اصول پسند صحافیوں میں نور محمد نوری کا نام نہایت احترام اور اعتماد کے ساتھ لیا جاتا ہے۔
رینالہ خورد کی سرزمین نے متعدد اہلِ علم و ادب کو جنم دیا، مگر نور احمد نوری نے اپنی علمی، صحافتی اور فکری صلاحیتوں کے باعث ایک منفرد مقام حاصل کیا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر رینالہ خورد میں حاصل کی، جبکہ اعلیٰ تعلیم کے لیے پنجاب یونیورسٹی کا رخ کیا، جہاں انہوں نے صحافت اور سیاسی علوم کا گہرا مطالعہ کیا۔ یہی علمی بنیاد آگے چل کر ان کی صحافتی زندگی کی مضبوط اساس ثابت ہوئی۔
نور احمد نوری نے تقریباً چھتیس برس محکمہ تعلیم میں بطور استاد خدمات انجام دیں۔ انہوں نے گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول شیرگڑھ میں اپنی پوری تدریسی زندگی گزاری اور ہزاروں طلبہ کی علمی و اخلاقی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ ایک بہترین استاد کی حیثیت سے انہوں نے نوجوان نسل میں علم، کردار اور شعور کی شمع روشن کی، جبکہ بطور صحافی معاشرے میں آگہی اور فکری بیداری پیدا کرنے کی ذمہ داری بھی پوری دیانت داری سے نبھائی۔
1988ء میں انہوں نے صحافت کے میدان میں قدم رکھا۔ اس وقت سے لے کر آج تک ان کا قلم مسلسل متحرک ہے۔ انہوں نے پاکستان کے مختلف قومی اخبارات میں اپنی صحافتی خدمات انجام دیں اور روزنامہ ایکسپریس اور ایکسپریس نیوز جیسے معتبر اداروں سے بھی وابستہ رہے۔ ان کی رپورٹنگ، تجزیاتی مضامین اور حالات حاضرہ پر گہری نظر نے انہیں صحافتی حلقوں میں ممتاز مقام عطا کیا۔
بطور جنرل سیکرٹری شیرگڑھ پریس کلب انہوں نے صحافی برادری کی فلاح، اتحاد اور پیشہ ورانہ وقار کے لیے قابلِ قدر خدمات انجام دیں۔ ان کی قیادت میں صحافتی اقدار کو فروغ ملا اور نوجوان صحافیوں کو رہنمائی اور حوصلہ افزائی حاصل ہوئی۔
نور احمد نوری کی کالم نگاری ان کی شخصیت کا ایک درخشاں پہلو ہے۔ ان کے کالم محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ فکر، تحقیق، مشاہدے اور قومی درد کا حسین امتزاج ہوتے ہیں۔ وہ پیچیدہ سیاسی اور سماجی مسائل کو نہایت سادہ مگر مؤثر انداز میں بیان کرتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں دلیل کی قوت، زبان کی شائستگی اور حقیقت پسندی نمایاں نظر آتی ہے، جس کی وجہ سے ان کے قارئین کی تعداد مسلسل بڑھتی رہی ہے۔
بطور تجزیہ کار بھی نور محمد نوری اپنی مثال آپ ہیں۔ وہ ملکی سیاست، سماجی حالات اور قومی معاملات کا غیرجانبدارانہ اور مدلل تجزیہ پیش کرتے ہیں۔ ان کی رائے جذبات کے بجائے حقائق اور تجربے پر مبنی ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کے تجزیوں کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔
صحافت میں حق گوئی اور بے باکی ان کا نمایاں وصف ہے۔ انہوں نے ہمیشہ سچ کو سچ اور غلط کو غلط کہنے کی روایت کو زندہ رکھا۔ انہوں نے کبھی ذاتی مفاد کو قومی مفاد پر ترجیح نہیں دی بلکہ ہر دور میں اصولی صحافت کو اپنا شعار بنایا۔ یہی کردار انہیں دیگر صحافیوں سے ممتاز کرتا ہے۔
ان کی گراں قدر صحافتی خدمات کے اعتراف میں انہیں قومی اور صوبائی سطح پر مختلف اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ یہ اعزازات ان کی محنت، دیانت، علمی بصیرت اور صحافتی خدمات کا اعتراف ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ نور احمد نوری کی شخصیت کو چند صفحات میں سمیٹنا ممکن نہیں۔ وہ ایک ایسے استاد، صحافی، کالم نگار، تجزیہ کار، دانشور اور سماجی رہنما ہیں جن کی زندگی خدمت، علم، تحقیق اور اصول پسندی کا روشن استعارہ ہے۔ ان کا قلم آج بھی معاشرے میں شعور، سچائی اور مثبت سوچ کو فروغ دے رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ نور احمد نوری کو صحت، تندرستی، درازیٔ عمر اور مزید توفیق عطا فرمائے تاکہ وہ اپنی علمی، ادبی اور صحافتی خدمات کے ذریعے آنے والی نسلوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ ان کی زندگی اس حقیقت کا عملی ثبوت ہے کہ مخلص قلم کار اپنے کردار، علم اور اصولوں کے باعث ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں