عنوان. جوانی اتنی سندر ہے
کالم نگار. ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
شہر کے مشہور میڈیکل کالج میں فاینل ایر کی سرجری کی کلاس سر رندھاوا لے رہے تھے کچھ اساتذہ کرام کی شخصیت میں اتنی مقناطیسی کشش ہوتی ہے کہ سٹوڈنٹس گرمی سردی کی پروا کیے بغیر دیوانہ وار علم کے موتی سمیٹنے کے لیے شمع پہ پروانوں کی طرح جان نثار ہونے کے لیے دیوانہ وار تیار رہتے ہیں. سر رندھاوا ایسا ہی علم کا مینارہ تھے پڑھائی کے ساتھ لطیفے، چٹکلے طلباء و طالبات کو خوب محظوظ کرتے اور چالیس منٹ کی کلاس ہنستے مسکراتے ہی تمام ہو جاتی علم کے خزانے کی منتقلی کے ساتھ ساتھ. نہ وہ ڈراونے مستقبل سے ڈراتے نہ زمانے کی بے ثباتی کا رونا روتے کبھی اپنے پنڈ کے قصے کہانیاں اور کبھی اپنے ہنستے مسکراتے بچپن کی جھلکیاں دکھاتے اور کبھی زمانے کے چلن پہ ہلکی ہلکی چوٹ لگا جاتے مگر ایک بات ہے کہ استاد ہو سرجن رندھاوا جیسا جو جب تھیوری پڑ ھا نے پہ آتا تو ایک ایک لفظ کو کھول کھول کے بیان کر تا اور جب پریکٹیکل کی باری آتی تو وہ اتنی محنت اور محبت سے ڈرپوک، بزدل اور کانپتے ہوے دل اور لرزتے ہوے ہاتھ والے سٹوڈنٹس کے ہاتھ پکڑ پکڑ کے اپنے ہنر کے تمام جوہر انھیں سکھانے کی جی جان سے کوشش کرتا کیسے کیسے قد آور اور بھلے اساتذہ تھے جنہیں اس بات کی فکر رہتی تھی کہ وہ یہ دنیا چھوڑنے سے پہلے اپنے شاگردوں کو اپنا تمام ہنر منتقل کر جایں نہ کہ ایسے کنجوس، شقی القلب Highlyy Conservative اساتذہ کرام جو نہ صرف شاگردوں کو سکھاتے کچھ نہیں بلکہ انہیں ڈراتے ڈراتے ہی اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں
No
No
Don’t touch the patient
اور میر تقی میر، شہنشاہے غزل کا کیا ہی خوبصورت شعر ہے کہ
اس دور میں الہی محبت کو کیا ہوا
چھوڑا وفا کو ان نے مروت کو کیا ہوا
پتا نہیں ہم انسان، انسان بن کے کیوں نہیں رہتے. ہم ایک دوسرے سے پیار محبت اور خلوص کے بندھن کیوں نہیں باندھتے ہمیں یہ بے ایمانی عذاب کی شکل میں کہاں سے گلے پڑ گئی ہے. ہم اتنے کمینے، اتنے تھوڑ دلے کب سے ہو گءے کب ہماری مواخات کی ادا کو بے حسی کی عینک لگی کہ ہم اپنے پرکھوں سے لینے والا علم و ہنر بنا اپنی آنے والی نسلوں تک منتقل کیے دنیا سے رخصت ہونے لگ گیے.
کوئی نوحہ ہے یا عذاب ہے یہ
لوگ، لوگوں سے خار کھاتے ہیں
بستیوں کو نظر لگی کیسی
خواب، خوابوں سے مار کھاتے ہیں
تو یہ بنی نوع انسان کی بد قسمتی ہے کہ وہ ایک معاشرتی جانور ہوتے ہوے بھی
صرف میں کی تھیلی تک سمٹ آیا. سارے مسائل کی جڑ یہ موی اور بد بخت میں ہی ٹھہری. تو پروفیسر رندھاوا پڑھاتے پڑھاتے اچانک بولتے کہ لوگوں کو اپنی صحت اتنی پیاری ہے کہ وہ طاقت کے ٹیکے یوں لگواتے ہیں کہ
Gutters of lahore are full of Neurobion.نیروبیون مرک کمپنی کا طاقت والا ٹیکہ ہے جسمیںوٹامن ب B 6
Vit B12 پاے جاتے ہیں اور تقریباً تین دہائیاں پہلے یہ ٹیکہ. پاکستانی عوام پانی کی طرح طاقت کے لیے اتنا بے دریغ استعمال کرتی تھی کہ اس وقت کے پروفیسر جو یہ الفاظ کہنے پڑ گءے کہ لاہور کے گٹر نیورو بیان سے بھرے پڑے ہیں اور آج کے دور میں لاہور گٹر بالوں کو رنگنے والے کالے رنگ سے بھرے پڑے ہیں ہم اپنے سفید ہونے
والے بالوں کو کالا کیوں کرتے ہیں. بیوٹی پارلرز کا جادو کیوں سر چڑھ کر بولتا ہے بیوٹی پارلرز پہ خوبصورت دکھنے والوں کا ایک جم غفیر کیوں ہوتا ہے.
اور آج کل Aesthetic medicine کیوں اتنی اوپر جا رہی ہے پلاسٹک سرجری نے طب کی دنیا کو ایک نءی دنیا سے متعارف کروا دیا ہے اب کوی بھی بوڑھا نظر آنا نہیں چاہتا ڈھلکے ہوے چہرے اور جھریوں کا خاتمہ asthetcs کے بایں ہاتھ کا کھیل ہے تو جوانی اتنی ہی سندر اور قابل محبت ہے کہ آج کے دور کا ہر انسان بلا تفریق جنس و نسل، بلا تفریق عقیدہ و مذہب خوبصورت اور جوان دکھنے کے لیے ہر طرح کی درد اٹھانے کے لیے تیار ہی نہیں بلکہ بہت سارے تکلیف دہ مراحل سے بھی ہنسی خوشی گزرنے کو تیار ہے پلاسٹک surgeonsaاور Aesthetics کو مننہ مانگے دام دینے کو تیار ہے
جوانی اتنی سندر ہے
جوانی اتنی سندر ہے
کسی مندر کی مورت ہے
ہمیں انساں سے کیا لینا
ہمیں اپنی ضرورت ہے
جوانی اتنی سندر ہے
دنیا کے تمام جوانوں اور حسن پرستوں کے نام
ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
drpunnamnaureen@gmail.com
ڈی پی او افس دیر بالا میں نمایاں کارکردگی پر افسران و جوانوں کی حوصلہ افزائی۔
میلسی بیو رو چیف و ہا ڑ ی او سی*آر پی او ملتان عثمان اکرم گوندل کی میلسی میں کھلی کچہری، شہریوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایات*
بیو رو چیف و ہا ڑ ی )میلسی: اسسٹنٹ کمشنر سعد بن خالد کا بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام دفتر کا دورہ
سکھر بیورو چیف سید نصیر حسین زیدی سندہ ہائی کورٹ سکھر نے گھوٹکی کے تھانہ میرپور پر محکمہ جنگلات کے گارڈ کے خلاف دائر ایف آئی آر پر کاروائی روک دی
*مئیر میرپورخاص کا دور اختتام پذیر/ مالی و انتظامی اختیارات میونسپل کمشنر کے سپرد،باوثوق ذرائع*