10

عنوان. بے بسی دل کو چیر دیتی یے کالم نگار. ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور

عنوان. بے بسی دل کو چیر دیتی یے
کالم نگار. ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
drpunnamnaureen@gmail.com
بے بسی دل کو چیر دیتی ہے
میرے بخیے ادھیڑ دیتی ہے
بے تحاشا مجھے رلاتی ہے
بے تحاشا مجھے ستاتی ہے
در بدر ٹھوکریں میں کھاتی ہوں
میرے نینوں میں ڈال کر مرچیں
بند گلی میں گھسیڑ دیتی ہے
میرے کردار کے سب دھاگوں کو
بے تحاشا لبیڑ دیتی ہے
میری سانسوں کو روک لیتی ہے
میرے بخیے ادھیڑ دیتی یے
کبھی آپ نے بے بسی کے عذاب چکھے ہیں کبھی بے بسی کے جال میں پھنسے ہیں آپ کبھی بے بسی نامی عذاب میں گرفتار ہوے ہیں اللہ کرے کہ نہ ہوے ہوں مگر جو جو لوگ بے بسی کے عذاب میں گرفتار ہوے ہیں جنہیں بے بسی کی آزمائش میں سے گزرنا پڑا وہ بہتر سے جانتے ہیں کہ یہ بے بسی نامی عذاب کتنا جان لیوا، ہر آشوب اور زہریلا ہوتا ہے.
چھین لیتا ہے یہ خوشیاں ساری
یہ تو جیون کی موت ہوتا ہے
بہتے دریاوں کے کناروں پہ
یہ نرا روگ سوگ ہوتا ہے
بے بسی ایک خوف ہوتا ہے
تین سالہ حورین کی ماں ایک روڈ ساییڈ ایکسیڈنٹ میں گزر گءی حورین جسے ماں کی چھاتی سے لپٹ کے سونے کی عادت تھی کو جب ماں سے جدای برداشت کرنی پڑی تو وہ روتی، چلاتی، بلکتی ہوی معصوم بچی بے بسی کی انتہا وں پہ تھی بہتیرے دادای، پھپھی، خالہ نے بچی کو بہلانے کی کوشش کی مگر ایک تین سالہ معصوم بچی کی بے بسی وہی جان سکتا ہے جو بے بسی کے عذاب میں مبتلا رہ چکا ہو.
بے بسی حد حساب سے بڑھ کر
غم کی لمبی قطار سے بڑھ کر
جانے والے نے سوچا تو ہو گا
آخری سانس جب لی ہو گی
جیسے جی پایں گے بچنے والے
تو ان معصوم، چھوٹے بچوں کی بے بسی بہت ہی رلاتی ہے جن کی مایں بچپن میں جان سے چلی جاتی ہیں اور ان کے ابا حضور ان کی پرورش کے نام پہ سوتیلی والدہ کا بھوت بچوں کے سروں پہ مسلط کر دیتے ہیں. اور پھر یہ گھر کی مالکن اور رانیاں مہارانیاں ان مسکین بچوں سے نہ صرف گھر کے تمام کام کرواتی ہیں بلکہ انھیں اپنے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنانے کا کوی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتیں اب ان بدنصیب بچوں کی قسمت کہ وہ دھکے کھا کھا کے کسی بہتر مقام تلک پہنچ جائیں یا پھر ساری عمر چھوٹے کی پوسٹ کے ہو کر ہی زندگی گزار دیں.
ایک عورت کی بے بسی ملاحظہ ہو کہ اس کا اکلوتا بیٹا ذہنی طور پر معذور ہے اور اس کی آنکھوں کے سامنے اس کی کروڑوں کی جائیداد پہ شریکے برادری والے قابض ہیں اور عورت سب کچھ دیکھ کر بھی بے بس و مجبور ہے.
صالحہ ایک مزدور کی بیٹی ہے جو اپنی شبانہ روزمحنت کے بل بوتے پہ دھکے کھا کھاکے میڈیکل سپیشلسٹ تو بن جاتی ہے مگر نوکری سے محروم رہتی ہے کیونکہ اس کی غربت، سفارش اور رشوت کی عدم دستیابی بے بسی ہے اس کی اور یہ بے بسی اس کا اس کی ڈگریوں کا مذاق اڑاتی ہے. اسے نیچا دکھاتی ہے. اسے بے حد رلاتی ہے.
غریبوں کی بیٹیاں جہیز کی عدم دستیابی کے باعث والدین کے گھروں میں بر کے انتظار میں بیٹھی بیٹھی بوڑھی ہو جاتی ہیں نہ پیسے ہوتے ہیں نہ جہیز کا بندوبست ہو پاتا ہے نہ ہی ان کے ڈولے اٹھتے ہیں بے بسی غربت کے ماروں کا منہ چڑاتی ہے ٹھٹھے لگاتی ہے.
سلمان کے گردے پیدایشی طور پہ خراب تھے چودہ سال کی عمر میں گردے بالکل ناکارہ ہو چکے تھے ڈاکٹرز نے رینل ٹرانسپلا نٹ کا کہا سلمان رینل ٹرانسلانٹ کے لیے ڈونر اور رقم کی عدم دستیابی کے باعث جان کی بازی ہار بیٹھا بے بسی کی انتہا.
عامر قریشی کے گردے فیل ہوے تو اس کے مل اونر باپ نے لاکھوں روپے لگا کے ڈونر اور رینل ٹرانسلانٹ تو کروا دیا مگر tissue rejection کے باعث عامر قریشی بھی جا بر نہ ہو سکا یہ بھی بے بسی کی انتہا ہے بھری جی کے ساتھ بھی آپ بے بس ہو جاتے ہیں تو اس دعا کے ساتھ اجازت کہ اللہ پاک ہم سب کو بے بسی کے عذاب سے پناہ میں رکھے.
ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
drpunnamnaureen@gmail.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں