7

*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کیخلاف کارروائی تیز کرنے کا حکم دے دیا*

*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کیخلاف کارروائی تیز کرنے کا حکم دے دیا*

*وزیراعلیٰ ہائوس میں اعلیٰ سطح کا اجلاس، گندم برآمدگی آپریشن پر تبادلہ خیال*

*گندم ایک اسٹریٹجک جنس ہے، کسی قسم کی کمی برداشت نہیں کی جائےگی، وزیراعلیٰ سندھ*

*اب تک ایک لاکھ 72 ہزار ٹن چھپائی گئی گندم برآمد کی جا چکی ہے، وزیراعلیٰ سندھ*

*آئندہ 8 ماہ کےلیے سندھ کو 21 لاکھ 10 ہزار میٹرک ٹن کی کمی کا سامنا ہوگا، بریفنگ*

*متعلقہ محکمے پیشگی اقدامات کریں، آٹے کی قلت نہیں ہونی چاہیے، وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت*

کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے گزشتہ روز گندم ذخیرہ کرنے والوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کرنے کا حکم دیتے ہوئے محکمہ خوراک کو ہدایت کی ہے کہ مارچ 2027 تک متوقع 21 لاکھ 10 ہزار میٹرک ٹن گندم کی کمی پوری کرنے کے لیے اضافی گندم کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہیں بتایا گیا کہ نافذ العمل کارروائیوں کے دوران اب تک ایک لاکھ 72 ہزار میٹرک ٹن سے زائد چھپائی گئی گندم برآمد کی جا چکی ہے جس سے مارکیٹ میں دستیابی بہتر ہوئی ہے اور صوبے بھر میں آٹے کی قیمتوں میں کمی آئی ہے۔انہوں نے یہ ہدایات وزیراعلیٰ ہاؤس میں صوبے میں گندم کے ذخائر، مارکیٹ میں دستیابی، کھپت کے رجحانات اور آئندہ ضروریات کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔ وزیراعلیٰ نے محکمہ خوراک کو ہدایت کی کہ سندھ بھر میں گندم اور آٹے کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور مصنوعی قلت یا قیمتوں میں ہیرا پھیری روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں۔اجلاس کو بتایا گیا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران 47 لاکھ میٹرک ٹن گندم کی پیداوار اور ایک لاکھ 40 ہزار میٹرک ٹن گزشتہ سال کے ذخیرے کے باوجود مارچ 2027 تک سندھ کو تقریباً 21 لاکھ 10 ہزار میٹرک ٹن گندم کی کمی کا سامنا ہوگا جس کی بنیادی وجوہات کھپت کی ضروریات اور صوبے سے باہر گندم کی منتقلی ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ گندم ایک اسٹریٹجک جنس ہے جو براہِ راست غذائی تحفظ اور عوامی فلاح سے وابستہ ہے، اس لیے مناسب ذخائر برقرار رکھنے اور مارکیٹ میں قیمتوں کو مستحکم رکھنے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں صوبائی وزراء شرجیل انعام میمن، مکیش کمار چاولہ، جام خان شورو، مخدوم محبوب الزماں، محمد بخش خان مہر، وزیراعلیٰ کے مشیر گیان چند اسرانی، چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ، کمشنر کراچی حسن نقوی، چیئرمین وزیراعلیٰ انسپیکشن ٹیم بلاول میمن، سیکریٹری وزیراعلیٰ آصف جمیل، سیکریٹری زراعت زمان ناریجو، سیکریٹری خوراک غلام عباس نائچ اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔محکمہ خوراک نے اجلاس کو گندم کی پیداوار، کھپت، دستیاب ذخائر اور آئندہ ضروریات سے متعلق جامع بریفنگ دی۔ بریفنگ کے مطابق مالی سال 2026-27 کے لیے سندھ میں گندم کی مجموعی دستیابی 48 لاکھ 40 ہزار میٹرک ٹن ہے جس میں 47 لاکھ میٹرک ٹن موجودہ پیداوار اور ایک لاکھ 40 ہزار میٹرک ٹن گزشتہ سال کا ذخیرہ شامل ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ 15 جولائی 2026 تک صوبے میں اندازاً 26 لاکھ میٹرک ٹن گندم استعمال یا منتقل ہو چکی ہے، جس میں 19 لاکھ میٹرک ٹن انسانی استعمال، 5 لاکھ میٹرک ٹن صوبے سے باہر منتقلی اور آئندہ بوائی کے لیے 2 لاکھ میٹرک ٹن بیج کے طور پر محفوظ رکھا گیا ہے۔ اس طرح صوبے میں اندازاً 22 لاکھ 40 ہزار میٹرک ٹن گندم کا ذخیرہ باقی ہے۔تاہم محکمہ خوراک نے بتایا کہ سپلائی چین میں اس وقت صرف 12 لاکھ 30 ہزار میٹرک ٹن گندم نظر آ رہی ہے، جس میں محکمہ خوراک کے پاس 81 ہزار 812 میٹرک ٹن، کارروائیوں کے دوران برآمد ہونے والی ایک لاکھ 72 ہزار 20 میٹرک ٹن گندم، فلور ملوں کے پاس 4 لاکھ 80 ہزار میٹرک ٹن اور کاشتکاروں کے ذاتی استعمال کے لیے محفوظ 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم شامل ہے۔وزیراعلیٰ نے نشاندہی کی کہ تقریباً 6 لاکھ 10 ہزار میٹرک ٹن گندم کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں، جو ممکنہ طور پر چھپا کر رکھی گئی ہے یا مارکیٹ میں نہیں لائی جا رہی۔ انہوں نے محکمہ خوراک کو ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کرنے اور چھپائی گئی گندم برآمد کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ محکمہ خوراک کے پاس اس وقت مجموعی طور پر 3 لاکھ 93 ہزار 832 میٹرک ٹن گندم موجود ہے، جس میں ایک لاکھ 40 ہزار میٹرک ٹن گزشتہ سال کا ذخیرہ، موجودہ سیزن میں خریدی گئی 81 ہزار 812 میٹرک ٹن گندم اور انتظامی و انسدادِ ذخیرہ اندوزی کارروائیوں کے دوران برآمد ہونے والی ایک لاکھ 72 ہزار 20 میٹرک ٹن گندم شامل ہے، جس کے باعث آٹے کی قیمتوں میں کمی آئی ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ 15 جولائی 2026 سے 15 مارچ 2027 تک آئندہ آٹھ ماہ کے دوران سندھ کو تقریباً 43 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن گندم درکار ہوگی۔ دستیاب 22 لاکھ 40 ہزار میٹرک ٹن گندم کے مقابلے میں صوبے کو 21 لاکھ 10 ہزار میٹرک ٹن کی کمی کا سامنا ہوگا۔کمی پوری کرنے کے لیے پاکستان زرعی ذخیرہ و خدمات کارپوریشن نے سندھ کو 2 لاکھ 20 ہزار میٹرک ٹن گندم 4 ہزار 150 روپے فی 40 کلوگرام کے حساب سے فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے، جو خیرپور، نوشہروفیروز، شہید بینظیر آباد اور سانگھڑ کے گوداموں میں دستیاب ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس پیشکش کے بعد بھی صوبے کو تقریباً 18 لاکھ 90 ہزار میٹرک ٹن گندم کی کمی کا سامنا رہے گا۔محکمہ خوراک نے اس کمی کو پورا کرنے کے لیے پاکستان زرعی ذخیرہ و خدمات کارپوریشن سے مزید گندم کے حصول، پنجاب سے گندم کی ترسیل میں سہولت فراہم کرنے اور ضرورت پڑنے پر درآمدات کی تجاویز پیش کیں۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ملک بھر میں گندم اور آٹے کی موجودہ قیمتوں کا بھی جائزہ لیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ سندھ میں فی 40 کلوگرام گندم کی قیمت کراچی میں 11 ہزار روپے، حیدرآباد میں 10 ہزار 800 روپے، سکھر میں 10 ہزار 750 روپے اور لاڑکانہ میں 10 ہزار 250 روپے ہے۔ اسی طرح فی کلو آٹے کی خوردہ قیمت کراچی میں 130 روپے، حیدرآباد میں 125 روپے، سکھر اور لاڑکانہ میں 118 روپے ہے۔وزیراعلیٰ نے محکمہ خوراک کو ہدایت کی کہ متوقع کمی کو پورا کرنے اور سال بھر مناسب ذخائر برقرار رکھنے کے لیے فوری طور پر گندم کے انتظام کا جامع منصوبہ تیار کیا جائے۔ انہوں نے چیف سیکریٹری کو ہدایت کی کہ صوبے بھر میں ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں جبکہ تاجروں، فلور ملوں اور بڑے ذخیرہ کنندگان کے پاس موجود گندم کے ذخائر کی درست نگرانی اور رپورٹنگ یقینی بنائی جائے۔وزیراعلیٰ نے محکمہ خوراک کو ہدایت کی کہ مارکیٹ میں قیمتوں پر کڑی نظر رکھی جائے، مصنوعی قلت پیدا نہ ہونے دی جائے اور گندم کے ذخائر، خریداری، کارروائیوں اور مارکیٹ کے رجحانات سے متعلق ہر پندرہ روز بعد رپورٹ پیش کی جائے۔عوام سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے یقین دلایا کہ صوبائی حکومت گندم کی صورتحال پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہے اور غذائی تحفظ یقینی بنانے کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں اس وقت گندم کی کوئی فوری قلت نہیں ہے۔ حکومت گندم کے ذخائر اور مارکیٹ کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور مناسب قیمتوں پر گندم اور آٹے کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائے گی۔ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔مراد علی شاہ نے کہا کہ غذائی تحفظ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پیشگی اقدامات کریں تاکہ آنے والے مہینوں میں سندھ کے عوام کو گندم اور آٹے کے حصول میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں