*میرا سوال ھے آپ سب سے*
*تحریر: جاوید صدیقی جرنلسٹ ڪراچی*
میرا سوال ہر پاکستان میں بسنے والے مسلمانوں سے ھے، ان سے بھی جو لسانیت عصبیت تعصب قوم پرستی اور فرقہ پرستی پر یقین رکھتے ہوئے خود کو الگ تنہاء کرتے ہیں اور ان سے بھی خاندان قبیلہ اور رم و رواج کیساتھ ساتھ روایت کو ترجیح دیتے ہوئے الگ تھلگ تشخص بنائے بیٹھے ہیں۔ کیا کبھی مجھ سمیت آپ سب نے سوچا سمجھا اور غور کیا یا کوشش کی کہ ھم من حیث القوم مسلمان اور مومن ھونے کا دعویٰ تو بہت کرتے ہیں لیکن کیا عملاً ھم مسلمان یا مومن ہیں کہ نہیں۔ کیا ھم نے قرآن پاک کو سمجھنے اور اسکے احکامات کو بجا لانے کی کوشش بھی کی کہ نہیں۔ کیا ھم اس دینِ محمدی ﷺ پر عمل پیرا ہیں کہ نہیں جو رسولِ خدا نے ہمیں دیا۔ کیا ھم اس سنتِ رسول ﷺ پر چل رھے ہیں جن پر اہلبیت کرام ؓ و اصحاب اجمعین ؓ نے عمل کیا۔ کیا ھم اسی طرز عمل پر قائم ہیں کہ نہیں اگر نہیں تو پھر ھم کس کی تقلید کررھے ہیں۔ کیا جب محمد بن عبداللہ تشریف لائیں گے جو زمانے کے آخری امام مھدی ؑ ہونگے۔ آپ کا کیا مسلک اور دین ہوگا کبھی اس بابت خود سے تحقیق و مشاہدہ و مطالعہ کیا۔ کیا ھم صرف دنیا پرستی کیلئے آئے ہیں جو ہمیں دنیاوی امور سے فرصت ہی نہیں کہ دین کی متعلق جانیں سمجھیں اور غور کریں۔ پاکستان کے ہر صوبے ہر ضلع اور تقریباً ہر شہر میں صوفی، بزرگ، اور اولیاء اللہ کے مزارات و انکی تعلیمات موجود ہیں اور بیشمار کامل ولی اللہ، پیر و مرشد کامل رہنماء و استاد بھی ہیں تو پھر یہ مریدین و طفلِ مکتب دینِ محمدی ﷺ کی اصل روح سے کوسوں دور کیوں؟؟ شیعہ، سنی، وہابی، بریلوی، اہلحدیث اور نجانے کس کس القابات و تشخص سے پہچان کرانے میں فخر محسوس کرتے ہیں لیکن مسلمان یا مومن کہلاتے ہوئے ہچکچاتے کیوں ہیں، کیوں نہیں فخر سے کہتےکہ ھم مسلمان ہیں ھم مومن ہیں۔ جبکہ اللہ تبارک تعالیٰ نے خود محمد عرابی ﷺ کی امت کیلئے یہ دو نام پسند فرمائے اور قرآن میں دیئے ایک مسلمان دوسرا مومن۔ گویا ھم اللہ اور اس کے حبیب ﷺ کی عطا کردہ نام سے بندوں کی پسند کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں اس کا مطلب ھے کہ ھم اللہ اور اس کے حبیب ﷺ کی عطا کیساتھ بندوں کو شریک و معتبر ٹھہراتے ہیں۔ (نعوذباللہ) امام زمانہ حضرت مھدی ؑ اپنے دادا حضور اکرم محمد مصطفیٰ نورِ خدا خاتم النبین ﷺ امام الانبیاء کی اسی دین پر عمل پیرا ہونگے جو آپ ﷺ نے حج الوداع کے موقع پر خطبہ میں کہا تھا کہ آج کے دن دینِ محمدی ﷺ مکمل ہوگیا گواہ رہنا اور بعد کی امت تک میرا یہ پیغام پہنچادینا۔ کاش ھم سمجھ جائیں تو آج دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد امتِ محمدی ﷺ پوری دنیا میں دین کا جھنڈا گاڑ سکتی ھے۔ علامہ اقبال کا شعر یہاں میرے ذہن میں آرھا ھے آپ ؒ فرماتے ہیں ” ایک ھوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے، نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک کاشغر “ ۔۔۔۔!!