11

اگر زمین اچانک گھومنا بند کر دے تو کیا ہوگا؟

اگر زمین اچانک گھومنا بند کر دے تو کیا ہوگا؟

ذرا تصور کریں…

آپ صبح اٹھیں، کھڑکی کھولیں اور اچانک خبر سنیں کہ زمین نے گھومنا بند کر دیا ہے۔

پہلی نظر میں شاید یہ کوئی بڑی بات نہ لگے، کیونکہ ہمیں زمین کی حرکت محسوس ہی نہیں ہوتی۔ لیکن حقیقت میں اگر زمین اچانک رک جائے تو یہ انسانی تاریخ کی سب سے بڑی تباہی ہوگی۔

زمین خطِ استوا (Equator) کے قریب تقریباً 1670 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گھوم رہی ہے۔ ہم، سمندر، عمارتیں، گاڑیاں، درخت، حتیٰ کہ فضا بھی اسی رفتار سے حرکت کر رہے ہیں۔

اگر زمین ایک لمحے میں رک جائے تو زمین تو رک جائے گی، لیکن اس پر موجود ہر چیز اپنی رفتار کے باعث آگے بڑھتی رہے گی۔

اس کا مطلب؟

لوگ، گاڑیاں، عمارتوں کا سامان، درخت اور بہت سی چیزیں سیکڑوں کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اچھل سکتی ہیں۔ سمندروں میں دیو ہیکل لہریں پیدا ہو سکتی ہیں جو براعظموں تک کو متاثر کر دیں۔

لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔

زمین کا گھومنا دن اور رات بناتا ہے۔ اگر زمین رک جائے تو دنیا کا ایک حصہ مسلسل سورج کے سامنے رہے گا جبکہ دوسرا حصہ مسلسل اندھیرے میں ڈوب جائے گا۔

ایک طرف شدید گرمی اور دوسری طرف انتہائی سردی پیدا ہو سکتی ہے۔

سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ ہمیں روزمرہ زندگی میں زمین کی اس حیرت انگیز رفتار کا کوئی احساس نہیں ہوتا۔ ہم اس عظیم خلائی سفر کا حصہ ہیں اور ہر لمحہ ہزاروں کلومیٹر کی رفتار سے خلا میں سفر کر رہے ہیں، مگر ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم بالکل ساکن ہیں۔

یہی کائنات کا حسن ہے؛ بعض اوقات سب سے غیر معمولی چیزیں ہمارے لیے سب سے معمولی بن جاتی ہیں۔

اب ذرا سوچیں…

آپ اس وقت ایک ایسی گیند پر کھڑے ہیں جو خلا میں سفر بھی کر رہی ہے، اپنے محور پر گھوم بھی رہی ہے، اور سورج کے گرد چکر بھی لگا رہی ہے، لیکن آپ کو ایک لمحے کے لیے بھی اس کا احساس نہیں ہوتا۔

سوال: اگر آپ کو خلا میں جا کر زمین کو ایک بار اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا موقع ملے تو کیا آپ جانا پسند کریں گے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں