چاے کا کپ بھی ہوا مے خانہ
چاے کے ایک کپ میں کیا جادو ہے؟
کیا نشہ ہے؟
کیسا چھو منتر ہے?
یہ چاے کی محبت میں دیوانے ہی بہتر جانتے ہیں.
پراونے ہی بہتر جانتے ہیں.
کچھ لوگوں کی تو صبح ہی نہیں ہوتی جب تک وہ چاے نہ پی لیں, اس لیے کچھ چاے کے عاشق گھرانوں میں صبح فجر کے بعد گھر کی سگھڑ خواتین دیدہ زیب ٹی سیٹس میں مزیدار چاے بنانے کے جتن میں مصروف ہو جاتی ہیں اور ساتھ ساتھ موسم کی اداوں کے ساتھ ساتھ لوازمات بھی اپنی اپنی جگہ بناتے رہتے ہیں کبھی نمکین اور کبھی میٹھے کی آنکھ مچولی جاری رہتی ہے. مگر چاے اپنے پورے طمطراق اور جاہ و جلال کے ساتھ اپنا اعزاز برقرار رکھتی ہے.
کوی بھی محفل ہو کوی بھی دعوت ہو مل بیٹھنے کا کوی بھی بہانہ ہو چاے کے کپ کے بغیر ادھورا ہی سمجھا جاتا ہے. اور کبھی کبھار تو ہم اپنے stress
اپنی Anxiety
اپنی Depression کو چاے کے ایک کپ سے ہی کوسوں میل دور بھگا دیتے ہیں اور کبھی کبھی نہ سلجھنے والے مسایل بھی چاے کے ایک کپ سے ہی حل ہو جاتے ہیں اور کبھی کبھار مسائل چاے کے سلگتے ہوے کپ کے سامنے بھی مسایل کا انبار بن کے پھنکارنے لگ جاتے ہیں.
اک سلگتا ہوا کپ چاے کا
اک سلگتا ہوا کپ چائے کا
کاش شکوے سبھی مٹا دیتا
باندھ دیتا یہ بند جدائی پہ
کیی بچھڑوں کو یہ ملا دیتا
سر میی یاد کے جھروکوں کو
تھوڑا سا اور جگمگا دیتا
اک سلگتا ہوا کپ چاے کا
اور کچھ تو بھلے نہ کر پاتا
یادوں میں آگ سی لگا دیتا
باندھ دیتا جدائی پر یہ بند
بچھڑے یاروں کو تو ملا دیتا
اک سلگتا ہوا کپ چاے کا
تو چاے کے کپ کے بے شمار فوائد ہیں یہ بچھڑوں کو ملاتا ہی نہیں جدائیوں پہ بند بھی باندھ دیتا ہے.
یہ چاے کے قدر دان ہی بہتر سے جانتے ہیں کہ چاے کا ایک کپ اور اس کی طلب کیا مقام رکھتی ہے.
چاے اور میل ملاقات
لوگ، لوگوں سے ملتے ملاتے رہے
چاے پیتے رہے، پلاتے ریے
امن کی بانسری بجاتے رہے
قصےاک دوجے کو سناتے رہے
سکول سے واپسی پہ، کام سے واپسی پہ، دفاتر سے واپسی، روزے کی افطاری پہ چاے پینا ایک معمول کی بات ہے بلکہ آج کل تو یہ جملہ ایک معمول ہی بن چکا ہے
Have a cup of tea with me
ایک مصنفہ نے اپنی سہیلی کو بڑے لاڈ سے اپنے گھر بلاتے ہوے کہا بینا ہم لان میں بیٹھ کے چاے پییں گے. ایک مشہور بزنس مین نے اپنی پرانی کلاس فیلو کو عرصہ دراز بعد ملنے پہ second cup پہ چاے کے لیے مدعو کر لیا اور ہمارے پنجاب کے کلچر میں جو مقام اور رتبہ چاے پراٹھا کو حاصل ہے اس تک کوی دوسرا کھاجا پہنچ ہی نہیں سکتا تو اسی کمزوری کو کیش کراتے کراتے شہر چاے پراٹھا کی ہر طرح کی دوکانوں سے سج گیا. چاے بھی ہر قسم کی دستیاب ہے بس آپ چاے پینے والے بنیں.
بیوٹی سیلونز، کلینکس، سنیاروں غرض ہر شے کی خریداری پہ چاے کافی کا کلچر ان دنوں خوب ہی پروان چڑھ چکا ہے اور مجھے سوہنی ہی کی طرح کی بھولی بھالی اور معصوم لڑکی ذونیرہ احتشام کی یاد آ گیی جسے چاے اور وہ بھی محبوب کے ہاتھوں کی چاے پینے کا بے حد ارمان تھا اور اس کے محبوب نے بھی اسے اپنے ہاتھوں سے چاے بنا کے پلانے کا وعدہ کر رکھا تھا مگر اس محبت کے بخت میں جداییاں، کٹھنا ییاں اور جگ ہنسا ییا ں بہت زیادہ ہیں وہ عاشق محبوبہ کو چاے پلانے سے پہلے ہی ایک فضائی حادثے کا شکار ہو کے دنیا سے منہ موڑ گیا.
ایک چاے کے کپ کا وعدہ تھا
کوئی وعدہ تھا یا ارادہ تھا
کسی لو دیتی ہوی تنہائی میں
یہ ایک دل کا دل سے وعدہ تھا
اپنے ہاتھوں سے بنا کے چاے
اپنے محبوب کو پلائیں گے
پانی میں پتی کو پکائیں گے
دودھ پتی سی چاء بنائیں گے
ذایقہ میٹھا محبت جیسا
سونف، الَا یچی بھی ڈالیں گے
چاے مزیدار سی بنایں گے
اپنے دلدار کو پلائیں گے
راوی کے سر سبز کناروں پہ
بھیڑ کی بھاگتی قطاروں میں
ظلم کی اونچی ان دیواروں میں
جیتنے والوں میں اور ہاروں میں
ان خزاوں میں یا بہاروں میں
ایک بے ضرر سی خواہش پونم
اک معصوم سا ارادہ تھا
میں بھی نیت کی صاف تھی لیکن
میرا محبوب بہت سادہ تھا
اک تمنا تھی خاک ہونے لگی
میلی آنکھوں کی راکھ ہونے لگی
شام کے ساتھ شام ہونے لگی
سانسوں کی ڈوری ختم ہونے لگی
زندگی اختتام ہونے لگی
کب لنڈھاے تھے ہم نے جام پہ جام
ایک چاے کے کپ کا وعدہ تھا
تو آپ سب چاے پیتے اور پلاتے رہیے اپنے اپنے چاے کے مہ خانے سجاتے رہیے.
ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
drpunnamnaureen@gmail.com
چاے کا کپ بھی ہوا مے خانہ چاے کے ایک کپ میں کیا جادو ہے؟
*کسبِ حرام اور اس کے انسانی زندگی پر تباہ کن اثرات* جمعرات 18 جون 2026 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
میلسی(بیو رو چیف و ہا ڑ ی ) راؤ محمد حسین شاہین نے حج کی سعادت حاصل کر لی .
میلسی (بیو رو چیف و ہا ڑ ی ) پیسٹی سائیڈ یونین میلسی کے سینئر ممبر میاں رشید احمد نے وزیر اعلیٰ
میلسی:( بیو رو چیف و ہا ڑ ی ) چیف انجینئر میپکو سرکل وہاڑی انجینئر عظمت علی خان نے میلسی میں