12

*ظاہری دین داری بمقابلہ حسنِ اخلاق اور حقوق العباد* بدھ 10 جون 2026 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

*ظاہری دین داری بمقابلہ حسنِ اخلاق اور حقوق العباد*

بدھ 10 جون 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

دین اسلام صرف چند ظاہری عبادات یا چّلے لگانے کا نام نہیں، بلکہ اس کا اصل جوہر
اخلاقیات، حسنِ کردار اور حقوق العباد کی پاسداری ہے

۱۔ چلے لگانا یا عبادت کرنا، نجات کا اکیلا لائسنس نہیں
تبلیغ، چّلے یا دین کا کوئی بھی کام بذاتِ خود ایک عظیم ذریعہ ہے، لیکن یہ کسی کے لیے “مغفرت کا لائسنس” یا دوسروں پر برتری کا سرٹیفکیٹ نہیں بن سکتا۔ اسلام میں اصل وزن “اخلاص اور تقویٰ” کا ہے۔

قرآنِ کریم کا فرمان ہے:
“بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے (الحجرات)

اگر کوئی شخص چّلے لگا کر اپنے اندر تکبر محسوس کرتا ہے اور دوسروں کو حقیر سمجھتا ہے، تو وہ فائدے کے بجائے نقصان اٹھا رہا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہوگا۔” (صحیح مسلم)

۲۔ علمِ دین کی اہمیت اور خود پسندی کی نفی
یہ سوچنا کہ “صرف ہم ہی حق پر ہیں اور باقی سب علم و عمل سے فارغ ہیں”، ایک مہلک روحانی بیماری ہے جسے(خودپسندی)کہتے ہیں۔
علم کے بغیر دین داری انسان کو گمراہی یا تکبر میں مبتلا کر دیتی ہے۔ امام غزالیؒ فرماتے ہیں کہ جاہل عابد کا فتنہ، فاسق عالم کے فتنے سے بھی بڑا ہو سکتا ہے۔
جہاں تک دوسروں کو خاطر میں نہ لانے کا تعلق ہے، تو صحابہ کرامؓ کا یہ حال تھا کہ وہ خود کو سب سے چھوٹا سمجھتے تھے۔ حضرت عمر فاروقؓ جیسے جلیل القدر صحابی فرماتے تھے:
“اگر آسمان سے منادی پکارے کہ تمام لوگ جنت میں جائیں گے سوائے ایک کے، تو مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ ایک میں ہی نہ ہوں۔”

پھل دار درخت کا جھک جانا ہی اس کی بندگی کی علامت ہے، جب کہ اکڑنا صرف کانٹے دار جھاڑیوں (کیکر) کا شیوہ ہے۔

۳۔ حقوق العباد اور قرض کی ادائیگی میں کوتاہی:
قرض لے کر نہ لوٹانا وہ اس وقت ہمارے مذہبی طبقے کا ایک بہت بڑا المیہ بن چکی ہے۔ حقوق اللہ (نماز، روزہ، تبلیغ) کی معافی اللہ کے اختیار میں ہے، لیکن حقوق العباد تب تک معاف نہیں ہوں گے جب تک بندہ خود معاف نہ کرے۔

قیامت کے دن کا مفلس (المفلس):
رسول اللہ ﷺ نے ایک بار صحابہ سے پوچھا کہ جانتے ہو مفلس کون ہے؟ صحابہ نے عرض کیا جس کے پاس مال و متاع نہ ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
“میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ (اور تبلیغ و نفل) لے کر آئے گا، لیکن اس نے دنیا میں کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا (قرض دبا کر) یا کسی کا خون بہایا ہوگا۔ پس اس کی نیکیاں ان مظلوموں میں بانٹ دی جائیں گی، اور اگر اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں تو مظلوموں کے گناہ اس کے کھاتے میں ڈال کر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ (رواہ مسلم)

*شہادت بھی قرض معاف نہیں کرتی*
آپ ﷺ نے فرمایا: “اللہ تعالیٰ شہید کے تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے سوائے قرض کے۔” (صحیح مسلم)۔ جب راہِ خدا میں جان دینے والے کا قرض معاف نہیں ہوتا، تو چّلے لگانے والے کا کیسے ہو سکتا ہے؟

۴۔ بعثتِ محمدی ﷺ کا اصل مقصد: حسنِ اخلاق
یہ بات سو فیصد سچ ہے کہ ہمارے آقا ﷺ نبوت سے پہلے بھی “صادق و آمین” تھے، یعنی آپ ﷺ کا کردار آپ کے دعوے کی دلیل تھا۔
رسول اللہ ﷺ نے اپنی بعثت کا مقصد خود بیان فرمایا:
“بے شک مجھے اس لیے بھیجا گیا ہے تاکہ میں مکارمِ اخلاق (اعلیٰ اخلاق) کی تکمیل کروں۔” (مسند احمد)

ایمان کا معیار کردار ہے:
آپ ﷺ سے پوچھا گیا کہ مومنین میں سب سے کامل ایمان والا کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: “جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔” (سنن ابوداؤد)

حضرت عائشہؓ سے جب آپ ﷺ کے اخلاق کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: “آپ ﷺ کا اخلاق قرآن ہی تو تھا۔” یعنی قرآن ایک کتاب ہے اور محمد ﷺ کا کردار اس کی عملی تفسیر۔

*حاصلِ کلام اور اصلاحی پہلو:*

ہمارا ایمان اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم سب خواہ ہم کسی بھی دینی جماعت، مکتبہ فکر یا تحریک سے وابستہ ہوں۔ اپنا محاسبہ کریں۔ دین نام ہے ظاہر اور باطن کے مجموعے کا۔

اگر نمازیں لمبی ہو رہی ہیں لیکن زبان کے بول کڑوے ہیں، تو دین ادھورا ہے۔

اگر چّلے اور دورے لگ رہے ہیں لیکن امانت و دیانت غائب ہے، تو یہ سراسر “خود فریبی” ہے۔
مومن کا ایمان اس کے مصلے سے زیادہ اس کے معاملات، اس کی دکان، اس کے اخلاق اور اس کے برتاؤ سے جھلکنا چاہیے۔

الدعاء:
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ظاہر کے ساتھ ساتھ اپنے باطن کی اصلاح کرنے اور حقوق العباد کو کماحقہ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں