*آئمہ اربعہ کے چار مصلے*
پیر یکم جون 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
تاریخی طور پر حرمین الشریفین (مسجد الحرام اور مسجد نبوی) میں فقہ حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی کے پیروکار ایک ہی وقت میں الگ الگ امام کی قیادت میں نماز ادا کرتے تھے۔ اس نظام کے تحت کعبہ کے چاروں اطراف چار مستقل مصلے (جائے نماز) قائم تھے جہاں چاروں مکاتب فکر کے لوگ اپنی اپنی فقہ کے مطابق نماز پڑھتے تھے۔ان چار مصلوں کی تفصیل درج ذیل ہے:
مقام حنفی:
یہ سب سے نمایاں مصلہ تھا، جو عموماً کعبہ کے شمال یا ملتزم کے سامنے ہوتا تھا اور اس کی امامت احناف کے مفتی یا مقرر کردہ عالم کرتے تھے۔
مقام شافعی:
کعبہ کے مشرق کی جانب (زمزم کے کنویں کے قریب) قائم یہ مصلہ شافعی مسلک کے ماننے والوں کے لیے مختص تھا۔
مقام مالکی:
حطیم کی دیوار کے پاس واقع یہ مقام مالکی مکتب فکر کے پیروکاروں کی عبادت کے لیے مخصوص تھا۔
مقام حنبلی:
یہ مصلہ عام طور پر کعبہ کے جنوب یا رکن عراقی کے قریب ہوتا تھا جس پر حنبلی مسلک کے لوگ نماز ادا کرتے تھے۔
پس منظر اور خاتمہ:
یہ نظامِ تقسیم عباسی یا عثمانی دورِ حکومت میں قائم کیا گیا تھا۔ اس کا بنیادی مقصد مسلمانوں کو ہر چار فقہی مذاہب میں سہولت فراہم کرنا تھا۔ تاہم، اس طریقہ کار کے باعث ایک ہی وقت میں ایک ہی مسجد میں چار الگ الگ جماعتیں ہونے کے شرعی اور انتظامی مسائل سامنے آئے۔سعودی حکومت کے قیام کے بعد، 1924ء اور 1925ء میں مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے منتظمین نے ان چاروں مصلوں کو ختم کرکے ایک ہی امام (امامِ واحد) کی قیادت میں متفقہ طور پر باجماعت نماز کا نظام قائم کیا جو تاحال کامیابی سے جاری ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333