نظم — سدرہ منور
اک گھر ہوگا جو میرا ہوگا
نہ کوئی شور
نہ کوئی جھگڑا
نہ کوئی روک
نہ کوئی ٹوک
سکون کا صرف بسیرا ہوگا
اک گھر ہوگا جو میرا ہوگا
پیار، محبت اور سکون سے
جس کا اک اک کونہ روشن ہوگا
آنگن میں جس کے پنچھی چہکے
روشن تارے چمکے جس پہ
چاند کا جس پر پہرا ہوگا
اک گھر ہوگا جو میرا ہوگا
خوابوں کی تعبیر سا ہوگا
میری کل جاگیر سا ہوگا
خالی پتھر گھر نہیں ہوتے
احساس، محبت، مان ہو جس میں
ایسا ایک نشیمن ہوگا
اک گھر ہوگا جو میرا ہوگا
مقبول خبریں
نیوز لیٹر میں شمولیت
تازہ ترین خبریں روزانہ اپنے میل باکس میں حاصل کرنے کے لیے ہمارے نیوز لیٹر میں سبسکرائب کریں۔ بے فکر رہیں، ہمیں بھی سپیمنگ سے نفرت ہے!
[contact-form-7 id="287" title="subscribe"]اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں
مزید پڑھیں
مقبول خبریں
نیوز لیٹر میں شمولیت
تازہ ترین خبریں روزانہ اپنے میل باکس میں حاصل کرنے کے لیے ہمارے نیوز لیٹر میں سبسکرائب کریں۔ بے فکر رہیں، ہمیں بھی سپیمنگ سے نفرت ہے!
[contact-form-7 id="287" title="subscribe"]