14

نظم — سدرہ منور اک گھر ہوگا جو میرا ہوگا نہ کوئی شور نہ کوئی جھگڑا

نظم — سدرہ منور
اک گھر ہوگا جو میرا ہوگا
نہ کوئی شور
نہ کوئی جھگڑا
نہ کوئی روک
نہ کوئی ٹوک
سکون کا صرف بسیرا ہوگا
اک گھر ہوگا جو میرا ہوگا
پیار، محبت اور سکون سے
جس کا اک اک کونہ روشن ہوگا
آنگن میں جس کے پنچھی چہکے
روشن تارے چمکے جس پہ
چاند کا جس پر پہرا ہوگا
اک گھر ہوگا جو میرا ہوگا
خوابوں کی تعبیر سا ہوگا
میری کل جاگیر سا ہوگا
خالی پتھر گھر نہیں ہوتے
احساس، محبت، مان ہو جس میں
ایسا ایک نشیمن ہوگا
اک گھر ہوگا جو میرا ہوگا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں