24

*قرآن مجید نے زکواۃ کے 8 مصارف بیان فرمائے ہیں* ہفتہ 30 مئی 2026 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

*قرآن مجید نے زکواۃ کے 8 مصارف بیان فرمائے ہیں*

ہفتہ 30 مئی 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

زکوٰۃ اسلام کا ایک بنیادی رکن ہے، اور اس کے مصرف (مصارف) اللہ تعالیٰ نے خود قرآنِ مجید میں مقرر فرمائے ہیں۔ اسی لیے اس مسئلے میں جذبات کے بجائے علمی دیانت اور انصاف ضروری ہے۔

✦ زکوٰۃ کے اصل مصارف اور مدارس کا مسئلہ ✦
✦ کیا زکوٰۃ صرف انہی آٹھ مدات میں خرچ ہو سکتی ہے؟ ✦

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
الحمد للّٰہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین، وعلی آلہ واصحابہ اجمعین۔

اسلام میں زکوٰۃ محض مالی عبادت نہیں بلکہ ایک عظیم معاشی، سماجی اور انسانی نظام ہے، جس کا مقصد:
• غربت کا خاتمہ،
• معاشی توازن،
• ضرورت مندوں کی مدد،
• اور معاشرے میں عدل و تعاون کو فروغ دینا ہے۔

قرآنِ مجید نے زکوٰۃ کے مصارف کو واضح طور پر بیان کر دیا ہے، اور یہی وہ اصول ہے جس کی پابندی خود رسول اللہ ﷺ بھی فرماتے تھے۔

✦ زکوٰۃ کے آٹھ مصارف ✦

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللّٰهِ وَابْنِ السَّبِيلِ﴾(التوبہ: 60)
ترجمہ:
“زکوٰۃ صرف:
• فقیروں،
• مسکینوں،
• زکوٰۃ وصول کرنے والوں،
• تالیفِ قلب والوں،
• غلام آزاد کرانے،
• قرض داروں،
• اللہ کی راہ میں،
• اور مسافروں کے لیے ہے۔”

یہ آٹھ مصارف اللہ تعالیٰ نے خود مقرر فرمائے ہیں۔

✦ رسول اللہ ﷺ کا واضح طرزِ عمل ✦

روایات میں آتا ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے زکوٰۃ مانگی تو آپ ﷺ نے فرمایا:

“اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کے بارے میں نہ کسی نبی کی رائے پر فیصلہ چھوڑا اور نہ کسی اور کے، بلکہ خود آٹھ حصے مقرر فرمائے۔ اگر تم ان میں سے ہو تو تمہیں دوں گا، ورنہ نہیں۔” (سنن ابی داؤد)

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ:
زکوٰۃ کے مصارف انسانی خواہش یا ادارہ جاتی مفادات سے نہیں بلکہ وحیِ الٰہی سے متعین ہوتے ہیں۔

✦ کیا مدارس کا ذکر قرآن میں ہے؟ ✦

یہ حقیقت ہے کہ:
قرآنِ مجید میں “مدرسہ” بطور ادارہ زکوٰۃ کے مستقل مصرف کے طور پر مذکور نہیں۔

اسی لیے فقہاء نے یہ اصول بیان کیا کہ:
• زکوٰۃ کسی “عمارت”،
• “ادارے”
• یا “تنظیم”
کی ملکیت میں براہِ راست نہیں دی جا سکتی،
جب تک کہ وہ رقم کسی مستحق فرد کی ملکیت میں نہ دی جائے۔

✦ پھر مدارس کو زکوٰۃ کیوں دی جاتی ہے؟ ✦

اہلِ سنت کے فقہاء کی اکثریت یہ کہتی ہے کہ:

اگر:
• مدرسے میں پڑھنے والے طلبہ غریب اور مستحق ہوں،
• یا مدرسے کے بعض اساتذہ واقعی نادار ہوں،

تو ان افراد کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے۔
یعنی:
زکوٰۃ “مدرسے” کو نہیں،
بلکہ “مستحق طلبہ” کو دی جاتی ہے۔
اسی بنیاد پر مدارس زکوٰۃ وصول کرتے ہیں۔

✦ اہم سوال: کیا موجودہ نظام میں اصلاح کی ضرورت ہے؟ ✦

یہ ایک حقیقت ہے کہ:
آج پاکستان سمیت کئی مسلم ممالک میں زکوٰۃ کا ایک بڑا حصہ مدارس کو چلا جاتا ہے۔

اس کے ساتھ یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ:
• کیا زکوٰۃ کے تمام مستحق طبقات تک حق پہنچ رہا ہے؟
• کیا یتیم، بیوہ، بیمار، بےروزگار، قرض دار اور ہنرمندی سے محروم لوگ نظر انداز تو نہیں ہو رہے؟
• کیا زکوٰۃ کو غربت کے مستقل خاتمے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے؟
• کیا زکوٰۃ صرف کھانے پینے تک محدود ہو گئی ہے؟
• کیا معاشی خود کفالت پر کام ہو رہا ہے؟

یہ سوالات بالکل جائز اور قابلِ غور ہیں۔

✦ زکوٰۃ کا اصل مقصد ✦

زکوٰۃ کا مقصد صرف وقتی امداد نہیں بلکہ:
• معاشی بحالی،
• غربت کا خاتمہ،
• اور انسان کو خود کفیل بنانا بھی ہے۔

اگر:
• زکوٰۃ سے ہنر سکھائے جائیں،
• چھوٹے کاروبار شروع کروائے جائیں،
• قرض داروں کو سہارا دیا جائے،
• یتیموں کی تعلیم و تربیت کی جائے،
• مریضوں کا علاج ہو،
• اور بیروزگاروں کو روزگار ملے، تو معاشرہ چند سال میں بدل سکتا ہے۔

✦ مدارس کی خدمات اور تنقید میں توازن ✦

یہ بھی انصاف کا تقاضا ہے کہ:
تمام مدارس کو ایک ہی نظر سے نہ دیکھا جائے۔

حقیقت یہ ہے کہ:
• بہت سے مدارس خالص دینی خدمت انجام دے رہے ہیں،
• لاکھوں بچوں کو قرآن پڑھا رہے ہیں،
• دینی علوم محفوظ کر رہے ہیں،
• اور غریب طلبہ کو مفت تعلیم، رہائش اور کھانا فراہم کرتے ہیں۔

البتہ:
یہ بھی حقیقت ہے کہ:
• بعض اداروں میں مالی شفافیت کا فقدان ہے،
• بعض جگہ زکوٰۃ کے استعمال پر سوالات اٹھتے ہیں،
• اور اصلاح، نگرانی اور احتساب کی ضرورت موجود ہے۔

اصلاح کی بات کرنا دین دشمنی نہیں بلکہ خیر خواہی ہے۔

✦ اعتدال کا راستہ ✦
درست رویہ یہ ہے کہ:
• زکوٰۃ صرف انہی آٹھ مصارف میں خرچ کی جائے جو قرآن نے مقرر کیے،
• مدارس کو صرف اس صورت میں زکوٰۃ دی جائے جب مستحق افراد تک ملکیت منتقل ہو،
• زکوٰۃ کے استعمال میں شفافیت ہو،
• اور غربت کے مستقل خاتمے کے منصوبوں پر بھی توجہ دی جائے۔

دین صرف مسجد تک محدود نہیں، بلکہ:
• معاشی انصاف،
• انسانی خدمت،
• اور معاشرتی فلاح
بھی دین کا حصہ ہیں۔

✦ خلاصۂ کلام ✦
• زکوٰۃ کے آٹھ مصارف قرآنِ مجید نے مقرر کیے ہیں۔
• رسول اللہ ﷺ نے انہی حدود کی پابندی فرمائی۔
• مدارس بطور ادارہ قرآن میں مستقل مصرف کے طور پر مذکور نہیں۔
• البتہ غریب طلبہ اور مستحق افراد کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے۔
• زکوٰۃ کے نظام میں شفافیت، اصلاح اور معاشی خود کفالت کی ضرورت ہے۔
• تمام مدارس کو یکساں انداز میں دیکھنا بھی انصاف نہیں۔
• زکوٰۃ کا اصل مقصد غربت کا خاتمہ اور معاشرتی عدل ہے۔

الدعاء:
اللہ تعالیٰ ہمیں زکوٰۃ کے صحیح فہم، دیانت دارانہ استعمال اور حقیقی خدمتِ خلق کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

✍️ انجینیئر نذیر ملک
سرگودھا
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں