13

*ایک اسلام، ایک امت: فلاحِ دارین کا واحد راستہ* جمعہ 05 جون 2026 قلم: انجینئر نذیر ملک (سرگودھا)

*ایک اسلام، ایک امت: فلاحِ دارین کا واحد راستہ*

جمعہ 05 جون 2026
قلم: انجینئر نذیر ملک (سرگودھا)

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
میرے عزیز مسلمان بھائیو اور بہنو! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

آج امتِ مسلمہ جس زوال، فکری انتشار اور تفرقہ بازی کا شکار ہے، اسے دیکھ کر ہر درد مند دل خون کے آنسو روتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ ہمیں ایک مکمل، واضح اور روشن دین دے کر گئے تھے۔ نبوت کا دروازہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا ہے، قرآن مجید اپنی اصلی حالت میں آج بھی ہمارے پاس محفوظ ہے اور قیامت تک رہے گا، کیونکہ اس کی حفاظت کا ذمہ خود ربِ ذوالجلال نے لیا ہے۔
جب ہمارا اللہ ایک، رسول ایک، قرآن ایک اور دین اسلام ایک ہے، تو پھر ہم مسلمان چار اور پانچ فرقوں اور مسالک میں کیوں تقسیم ہیں؟ آخر ہم ایک اسلام پر اکٹھے کیوں نہیں ہو سکتے؟
آئیے، چند بنیادی حقائق پر ٹھنڈے دل سے غور کرتے ہیں:
1۔ فکری آلائشیں اور فرقہ پرستی کا عذاب
آج دنیا میں فرقہ پرستی، شخصیت پرستی، پیر پرستی اور قبر پرستی جیسی فکری آلائشیں دینِ اسلام کا حصہ معلوم ہونے لگی ہیں۔ حالانکہ ائمہ اربعہ (امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل) نے کبھی تفرقہ بازی کی تعلیم نہیں دی۔ یہ عام لوگوں کی جہالت ہے کہ انہوں نے علمی فہم کو حق و باطل کا معیار بنا کر امت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ اس فکری دلدل میں پھنس کر کوئی بھی ناجیہ (نجات پانے والا) ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان سر جوڑ کر بیٹھیں اور اپنی یکجہتی کو یقینی بنائیں۔
2۔ نظامِ سلطانی اور نظامِ صلوٰۃ کا نفاذ
ہم نے دنیا میں حقوق الناس دلوانے کے لیے تھانے، کچہریاں اور عدالتیں تو قائم کر دیں، لیکن حقوق اللہ کے لیے کوئی عملی کام نہ کیا۔ اصول یہ ہے کہ اللہ کے قانون کو “سلطان” (ریاست) نافذ کرتا ہے۔ کسی بھی اسلامی حکومت کی اولین ترجیح “نظامِ صلوٰۃ” کا قیام ہونی چاہیے۔ قرآن گواہ ہے کہ جب اقتدار والے نماز قائم کرتے ہیں، تو زمین پر اللہ کی مدد آتی ہے۔ چوری، ڈکیتی اور جرائم کو صرف دنیاوی پولیس نہیں روک سکتی، جرائم کو انسان کے اندر موجود خوفِ خدا روکتا ہے جو نماز سے پیدا ہوتا ہے۔ جب ہم اللہ کے دین کی مدد کریں گے، تو وہ ہماری مدد کرے گا۔
3۔ زبانی دعوے اور معاشرتی منافقت
آج ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ “ہم نیک نظر آنا چاہتے ہیں، مگر نیک بننا نہیں چاہتے۔” ہم زبان سے تو ضرور کہتے ہیں کہ ہمارا اللہ اور آخرت پر ایمان ہے، مگر عمل اس کے برعکس ہے۔ اگر واقعی اللہ پر ایمان ہو، تو انسان تنہائی میں بھی غلط کام کر ہی نہیں سکتا۔ اور اگر انسانی کمزوری کی وجہ سے کوئی گناہ کر بھی گزرے، تو اس کا ایمان اسے تڑپا دیتا ہے اور وہ فوراً اللہ سے رو کر معافی مانگ لیتا ہے، کیونکہ اس کے علم میں ہوتا ہے کہ آخرت میں ایک ایک سیکنڈ کا حساب دینا ہے۔ ہم دراصل خود کو اور دنیا کو دھوکہ دے رہے ہیں، لیکن اللہ کو دھوکہ نہیں دیا جا سکتا۔
## کلامِ آخر اور مخلصانہ اپیل:
آج مسلم ممالک میں قرآن کا قانون نافذ العمل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ فتنوں کو جڑ سے اکھاڑنے اور حکومت کی رٹ (Writ) قائم کرنے کے لیے وہی فاروقی عزمِ مصمم درکار ہے جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی شہادت کے وقت شوریٰ کو حکم دیتے ہوئے دکھایا تھا، تاکہ امت کسی انتشار کا شکار نہ ہو۔ فرمانِ نبویؐ ہے کہ عادل خلیفہ پر اللہ کا سایہ ہوتا ہے۔
آئیے! فرقہ واریت کی تمام دیواروں کو گرا کر، قرآن و سنت اور آثارِ صحابہ کی روشنی میں خالص توحیدی معاشرہ تشکیل دیں، تاکہ دنیا و آخرت میں ہماری بخشش ہو سکے اور یہی فلاحِ دارین ہے۔
کتا اچھا ہو کہ مسلمان بھی ایک ہو جائیں!
شاید کہ اتر جائے کسی کے دل میں میری بات۔۔۔

وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ
داعیِ الخیر:
انجینیئر نذیر ملک، سرگودھا
رابطہ نمبر: 00923008604333

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں