7

**دینِ اسلام: رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرامؓ کے آئینے میں** پیر 08 جون 2026 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک، سرگودھا

**دینِ اسلام: رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرامؓ کے آئینے میں**

پیر 08 جون 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک، سرگودھا

**رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کے حضور ہماری شکایت کریں گے!**

وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَٰذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا۔
ترجمہ: “اور رسول کہیں گے: اے میرے رب! بے شک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔” (سورۃ الفرقان: 30)
مفسرین نے “قرآن کو چھوڑنے” (مہجور بنانے) کی کئی صورتیں بیان کی ہیں:
* قرآن نہ پڑھنا۔
* قرآن پڑھنا مگر اسے سمجھنے کی کوشش نہ کرنا۔
* سمجھنا مگر اس پر عمل نہ کرنا۔
* زندگی کے فیصلوں میں قرآن کی رہنمائی کو نظر انداز کرنا۔
* قرآن پر غور و تدبر ترک کر دینا۔
آج ہمارے معاشرے میں یہی بہت بڑا المیہ جنم لے چکا ہے، حکیم الامت علامہ محمد اقبال نے اسی حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا تھا:

وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور ہم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر

**برادرانِ اسلام!**
ہم نے زندگی بھر کی نافرمانیوں، سستیوں اور فرائض سے فرار کے لیے دین میں ایسے “شارٹ کٹس” (Shortcuts) اور رسمیں ایجاد کر لی ہیں جن کا اصل اسلام سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے۔ آئیے شریعت کی عدالت میں اپنی اس خود فریبی کا جائزہ لیں:

**۱۔ کیا پیسے کے بل بوتے پر
بخشش ممکن ہے؟**

ہمارے ہاں یہ رواج بن چکا ہے کہ ایک شخص زندگی بھر (حتیٰ کہ 60 سال کی عمر تک بھی) نہ نماز پڑھتا ہے، نہ روزے رکھتا ہے، نہ زکوٰۃ دیتا ہے اور نہ کبھی مسجد کے قریب سے گزرتا ہے۔ لیکن مرنے کے اگلے ہی دن گھر والے قرض اٹھا کر یا مال کے زور پر دیگیں چڑھا دیتے ہیں، اور “ایک بار الحمد اور تین بار قل شریف” پڑھنے کا ایک من گھڑت فارمولا چلا کر سمجھتے ہیں کہ میت بخشوائی گئی۔

یاد رکھیے! اللہ کی عدالت میں انصاف (عدل) ہوتا ہے۔ مالی عبادات یا صدقہ و خیرات کبھی بھی بدنی فرائض (نماز اور روزے) کا متبادل نہیں بن سکتے۔ اگر وارثین کروڑوں روپے بھی بہا دیں، تب بھی 60 سال کی نمازوں کا حساب میت کو خود دینا پڑے گا۔ اللہ کا صریح قانون ہے:
وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ
ترجمہ: “اور یہ کہ انسان کے لیے کچھ نہیں ہے مگر وہ جس کی اس نے خود کوشش کی۔” (سورۃ النجم: 39)

**۲۔ اجرت پر قرآن خوانی اور قرآنی تجارت**

آج کل یہ تماشا بھی عام ہے کہ مدرسوں میں الماریوں کے ریکس میں بند قرآن مجید کے نسخوں کو “پڑھے پڑھائے قرآن” کہہ کر بخشش کے لیے بیچ دیا جاتا ہے، یا مدرسے کے بچوں کو گھر بلا کر ان سے قرآن خوانی کروائی جاتی ہے اور بچوں کو بریانی کھلا کر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ایصالِ ثواب ہو گیا۔
حقیقت یہ ہے کہ قرآن زندوں کے لیے ہدایت کی کتاب بن کر آیا تھا («لِّيُنْذِرَ مَنْ كَانَ حَيًّا»)، مگر ہم نے اسے صرف مرنے والوں کو بخشوانے کا وظیفہ بنا دیا۔ نہ نبی کریم ﷺ کی وفات پر، اور نہ ہی سیدنا ابوبکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم کی شہادتوں پر کبھی ایسی تجارتی “قرآن خوانیوں” کا کوئی ثبوت ملتا ہے۔
*یاد دہانی:* اصل اسلام وہی ہے جو صحابہ کرامؓ کے پاس تھا، اس کے بعد دین کے نام پر جو خود ساختہ رسمیں ایجاد ہوئیں، وہ بدعت ہیں۔

**۳۔ عیسائیوں کے “مغفرت
ناموں” کی نقل**

ہم عیسائیوں پر ہنستے تھے کہ وہ چرچ میں فادر کو پیسے دے کر گناہ معاف کرواتے ہیں، لیکن آج مسلمانوں نے بھی پیسے دے کر، کھانے پکا کر اور رسمیں کر کے جنت خریدنے کا وہی انداز اپنا لیا ہے۔ یاد رکھیے! اللہ کے ہاں عمل کا وزن دیکھا جاتا ہے، پیسے کی قیمت نہیں! ایک غریب کی اخلاص سے روئی ہوئی آنکھ کا آنسو اور دلی دعا، کسی امیر کی دکھاوے کی سو دیگوں سے زیادہ وزنی ہے۔
حدیث شریف کے مطابق انسان کے انتقال کے بعد اس کے عمل کا سلسلہ رک جاتا ہے، سوائے تین چیزوں کے، جن میں سے ایک “ولدِ صالح” (نیک اولاد) کی دعا ہے جو عرش کو ہلاتی ہے، نہ کہ کرائے کے لوگوں کی رسمیں یا محلے والوں کی روایتی قل خوانی۔

ڈاکٹر اسرار احمد رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ مالی عبادت کبھی بدنی عبادت کا بدل نہیں ہو سکتی۔ مگر افسوس کہ پاکستان کے کچھ نام نہاد مذہبی و رفاہی ادارے اب تقریباً ایک لاکھ 20 ہزار روپے سالانہ فیس لے کر سال بھر کی نمازوں کا فدیہ دینے کی ذمہ داری لے رہے ہیں اور بخشش کے سرٹیفکیٹ بانٹ رہے ہیں۔

**۴۔ توبہ کا مغالطہ اور حقوق العباد**
لوگ سمجھتے ہیں کہ زبان سے صرف “توبہ توبہ” کہہ لینے سے سب معاف ہو جاتا ہے۔ ایسا ہرگز نہیں! توبہ سے صرف صغیرہ گناہ یا اللہ کے حقوق (جن کا تعلق توبہ سے ہو) معاف ہوتے ہیں۔ جن گناہوں پر قرآن نے سزائیں (حدود) مقرر کی ہیں یا جن کا تعلق *حقوق العباد* سے ہے (جیسے چوری، زنا، قتلِ ناحق، کسی کا حق مارنا)، وہ تب تک معاف نہیں ہوتے جب تک کہ مظلوم بندہ خود معاف نہ کرے یا اس کا حق ادا نہ کیا جائے۔ (حوالہ: صحیح مسلم، حدیث نمبر 2581، “میری امت کا مفلس کون ہے؟”)
**۵۔ شفاعتِ رسول ﷺ کا غلط تصور**
ہم نے شفاعت کو گناہوں کا لائسنس بنا لیا ہے کہ “زندگی جیسے مرضی نافرمانیوں میں گزارو، محشر میں نبی ﷺ بخشوا لیں گے” (معاذ اللہ)۔
حقیقت یہ ہے کہ شفاعت برحق ہے، لیکن اس کی پہلی شرط اللہ کی اجازت اور رضا ہے۔ شفاعت ان اہلِ ایمان کے لیے ایک سہارا ہوگی جو بالکل کنارے پر ہوں گے (جیسے اصحابِ اعراف جن کی نیکیاں اور گناہ برابر ہوں گے)، نہ کہ ان سرکشوں کے لیے جو زندگی بھر جان بوجھ کر اللہ کے باغی رہے۔

**لمحہ فکریہ!**
آج ہمارے ملک میں بڑی مشکل سے ۱۰ فیصد لوگ بھی باقاعدہ نمازی نہیں ہیں۔ ہم اللہ کا رزق کھاتے ہیں، اس کی ہوا میں سانس لیتے ہیں، لیکن اسے سجدہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ جب جہنمیوں سے پوچھا جائے گا کہ تمہیں کس چیز نے جہنم میں ڈالا؟ تو قرآن کہتا ہے کہ ان کا پہلا جواب ہوگا:
قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ
“وہ کہیں گے کہ ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہ تھے۔” (سورۃ المدثر: 43)

حاصل کلام:
شارٹ کٹس پر بھروسہ چھوڑئیے۔ نجات کا واحد راستہ ایمانِ خالص، سچی توحید اور عملِ صالح (خصوصاً نماز) ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی صحیح فہم اور رسومات سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین

(براہِ کرم اس پیغام کو آگے پہنچا کر صدقہ جاریہ میں حصہ لیں)

**تحقیق و تحریر:**
انجینیئر نذیر ملک، سرگودھا
Please visit us at www.nazirmalik.com | Cell: 00923008604333

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں