11

قلم کی عظمت از قلم: فیصل جنجوعہ

قلم کی عظمت

از قلم: فیصل جنجوعہ

دنیا کی تاریخ میں دو طاقتیں ہمیشہ ایک دوسرے کے مقابل کھڑی نظر آتی ہیں: ایک بندوق کی طاقت اور دوسری قلم کی طاقت۔ بندوق جسموں کو زخمی کرتی ہے جبکہ قلم ذہنوں کو بیدار کرتا ہے۔ بندوق کا اثر وقتی ہوتا ہے، لیکن قلم کا اثر نسلوں تک باقی رہتا ہے۔
کسی دانشور نے کیا خوب کہا ہے کہ بندوق سے نکلنے والی گولی کا فاصلہ میٹر اور گز سے ناپا جاتا ہے، جبکہ قلم سے نکلنے والے الفاظ کا سفر وقت میں ناپا جاتا ہے۔ گولی چند لمحوں میں اپنے ہدف تک پہنچ کر اپنی کہانی ختم کر دیتی ہے، لیکن قلم سے نکلا ہوا ایک لفظ صدیوں تک زندہ رہ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض کتابیں، بعض خیالات اور بعض تحریریں اپنے مصنفین کی وفات کے بعد بھی انسانیت کی رہنمائی کرتی رہتی ہیں۔ تاریخ کے صفحات اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ طاقت کے زور پر قائم ہونے والی سلطنتیں آخرکار مٹ گئیں، مگر علم و دانش کی بنیاد پر قائم ہونے والے افکار آج بھی زندہ ہیں۔ سکندر اعظم کی فتوحات اپنی جگہ، لیکن ارسطو کے خیالات آج بھی علمی دنیا میں زیرِ بحث ہیں۔ تلواروں اور توپوں کی گھن گرج وقت کے ساتھ خاموش ہو گئی، مگر اہلِ قلم کی آواز آج بھی سنائی دیتی ہے۔ قلم کی عظمت کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ اس نے انسان کو شعور عطا کیا۔ قلم نے تہذیبوں کو محفوظ کیا، علوم کو منتقل کیا اور نسلوں کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا۔ اگر قلم نہ ہوتا تو انسان اپنے تجربات، مشاہدات اور علم کو آنے والی نسلوں تک منتقل نہ کر سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی ترقی کی پوری داستان قلم کے گرد گھومتی ہے۔ افسوس یہ ہے کہ آج بھی دنیا کے کئی حصوں میں اختلافِ رائے کا جواب دلیل سے نہیں بلکہ طاقت سے دیا جاتا ہے۔ بندوق آج بھی خاموشی مسلط کرنے کی کوشش کرتی ہے، لیکن قلم ہر دور میں اس خاموشی کو توڑ دیتا ہے۔ صحافی، ادیب، شاعر، استاد اور دانشور اپنے قلم کے ذریعے معاشرے میں شعور پیدا کرتے ہیں اور حقائق کو سامنے لاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آمرانہ قوتیں ہمیشہ قلم سے خوفزدہ رہی ہیں۔ تعلیم یافتہ معاشرے دراصل قلم کی طاقت کو پہچاننے والے معاشرے ہوتے ہیں۔ جن قوموں نے کتاب، استاد اور قلم کو عزت دی، وہ ترقی کی منازل طے کرتی گئیں۔ اور جنہوں نے علم کی بجائے طاقت کو ترجیح دی، وہ انتشار اور پسماندگی کا شکار ہوئیں۔ کسی بھی قوم کا مستقبل اس کے اسلحہ خانوں میں نہیں بلکہ اس کے تعلیمی اداروں، لائبریریوں اور تحقیق گاہوں میں پوشیدہ ہوتا ہے۔
آج کے دور میں جب معلومات کی دنیا پہلے سے کہیں زیادہ وسیع ہو چکی ہے، قلم کی ذمہ داری بھی بڑھ گئی ہے۔ اب قلم صرف کاغذ تک محدود نہیں رہا بلکہ ڈیجیٹل دنیا میں کروڑوں لوگوں تک رسائی حاصل کر چکا ہے۔ ایک مثبت اور سچی تحریر معاشرے کی سمت بدل سکتی ہے، جبکہ ایک غلط سوچ نسلوں کو گمراہ بھی کر سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو بندوق کی نہیں، قلم کی طاقت سے روشناس کرائیں۔ انہیں یہ سکھائیں کہ دلیل، علم اور شعور ہی وہ راستہ ہے جو انسانیت کو ترقی کی طرف لے جاتا ہے۔ گولی جسم کو زخمی کر سکتی ہے، مگر قلم ذہن کو روشن کرتا ہے۔ آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ بندوق کی گونج چند لمحوں کی مہمان ہوتی ہے، لیکن قلم کی بازگشت صدیوں تک سنائی دیتی رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قلم محترم ہے، کیونکہ وہ صرف الفاظ نہیں لکھتا بلکہ تاریخ، تہذیب اور مستقبل تعمیر کرتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں