17

انسان اپنے آخری دن کی صبح بھی ویسے ہی اٹھتا ہے جیسے ہمیشہ اٹھتا تھا۔

انسان اپنے آخری دن کی صبح بھی ویسے ہی اٹھتا ہے جیسے ہمیشہ اٹھتا تھا۔
وہ چائے یا قہوہ پیتا ہے، گھر والوں سے باتیں کرتا ہے، ہنستا ہے، مسکراتا ہے، مستقبل کے منصوبے بناتا ہے۔ اسے کیا معلوم کہ یہ اس کی زندگی کی آخری صبح ہے، آخری مسکراہٹ ہے، آخری گفتگو ہے، آخری سانسوں کا دن ہے۔

زمین پر سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا ہوتا ہے، مگر آسمان پر اس کے نام کا آخری حکم صادر ہو چکا ہوتا ہے۔

پھر اچانک وہ لمحہ آ جاتا ہے جس سے کوئی بادشاہ بچ سکا، نہ کوئی فقیر، نہ کوئی طاقتور، نہ کوئی کمزور
موت کا حکم نامہ لیکر
فرشتے اترتے ہیں۔
اگر بندہ مؤمن ہو تو رحمت کے فرشتے جنت کی خوشخبری لے کر آتے ہیں، اور اگر بداعمال ہو تو عذاب اور انجام کی خبر سنانے والے فرشتے اس کے سامنے حاضر ہو جاتے ہیں۔

یہ اس سفر کا پہلا مرحلہ اورآغاز ہے جس سے واپس لوٹ کر کوئی نہیں آیا۔

پھر روح نکلنے کا دوسرامرحلہ شروع ہوتا ہے۔

ملک الموت اللہ کے حکم سے روح کو جسم کے پاؤں سے کھینچنا شروع کرتے ہیں۔
آنکھوں کی چمک مدھم پڑ جاتی ہے۔
زبان خاموش ہونے لگتی ہے۔
طاقت جواب دینے لگتی ہے۔
وہ شخص جو کل تک اپنے فیصلوں پر ناز کرتا تھا، آج اپنے ہاتھ تک نہیں ہلا سکتا۔
وہ سب کو دیکھ رہا ہوتا ہے مگر آہستہ آہستہ دنیا اس کی نظروں سے دور ہوتی جا رہی ہوتی ہے۔

پھر تیسرا وہ مرحلہ آتا ہے جب روح سینے سے اوپر اٹھتے ہوئے ہنسلی کی ہڈیوں تک پہنچ جاتی ہے۔

یہ وہ لمحہ ہے جس کا نقشہ قرآن نے کھینچا ہے:

﴿كَلَّا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِي ۝ وَقِيلَ مَنْ ۜ رَاقٍ ۝ وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِرَاقُ﴾

“ہرگز نہیں! جب جان ہنسلی کی ہڈیوں تک پہنچ جاتی ہے، اور لوگ کہتے ہیں: کون ہے جو اسے بچا لے؟(آج کوئی نہیں بچا سکتا )اور وہ خود یقین کر لیتا ہے کہ اب جدائی کا وقت آ گیا ہے۔”

اس وقت ڈاکٹر بے بس ہو جاتے ہیں۔
دوائیں بے اثر ہو جاتی ہیں۔
مال و دولت خاموش کھڑے رہتے ہیں۔
اولاد کچھ نہیں کر سکتی۔
دوست کچھ نہیں کر سکتے۔
دنیا کا ہر سہارا ٹوٹ جاتا ہے۔
پھر روح حلقوم تک پہنچ جاتی ہے۔

کمرے میں لوگ جمع ہوتے ہیں۔
کوئی روتا ہے۔
کوئی دعا کرتا ہے۔
کوئی بے بسی سے چہرہ دیکھتا رہتا ہے۔

مگر موت کا سفر کسی کے لیے نہیں رکتا۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿كَلَّا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ ۝ وَأَنْتُمْ حِينَئِذٍ تَنْظُرُونَ ۝ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنكُمْ وَلَٰكِن لَّا تُبْصِرُونَ﴾

“ہرگز نہیں! جب جان حلق تک پہنچ جاتی ہے، اور تم اسے دیکھ رہے ہوتے ہو، اور ہم اس سے تمہاری نسبت زیادہ قریب ہوتے ہیں، لیکن تم دیکھ نہیں سکتے۔”

یہ چوتھا مرحلہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان کو وہ سب کچھ نظر آنا شروع ہو جاتا ہے جس پر وہ زندگی بھر ایمان لانے یا انکار کرنے کے درمیان کھڑا رہا تھا۔

پھر اچانک…

ایک سانس آتی ہے۔

اور واپس نہیں جاتی۔

آنکھیں ایک جگہ ٹھہر جاتی ہیں۔

ہونٹ خاموش ہو جاتے ہیں۔

دل دھڑکنا بند کر دیتا ہے۔

اور دنیا اعلان کر دیتی ہے:

“فلاں شخص فوت ہو گیا۔”

بس اتنی سی بات۔

جس کے لیے دنیا چھوٹی پڑتی تھی، آج وہ چند گز کفن میں لپٹا ہوا ہوتا ہے۔
جس نے محل بنائے تھے، اب قبر اس کا گھر بننے والی ہوتی ہے۔

جس نے مال جمع کیا تھا، وہ دوسروں میں تقسیم ہو رہا ہوتا ہے۔

جس نے رشتے بنائے تھے، سب قبرستان کے دروازے تک ساتھ جاتے ہیں، پھر واپس لوٹ آتے ہیں۔

اور وہ اکیلا رہ جاتا ہے۔

صرف اپنے اعمال کے ساتھ۔

صرف اپنے رب کے سامنے۔

صرف اپنے انجام کے ساتھ۔

پھر انسان کو سمجھ آتی ہے کہ اصل زندگی تو اب شروع ہوئی ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ﴾

“ہر جان نے موت کا مزہ چکھنا ہے۔”

آج ہم دوسروں کے جنازے اٹھاتے ہیں۔

کل کوئی ہمارا جنازہ اٹھائے گا۔

آج ہم دوسروں کی قبروں پر کھڑے ہوتے ہیں۔

کل لوگ ہماری قبر پر کھڑے ہوں گے۔

آج ہم دوسروں کے لیے دعا کرتے ہیں۔

کل ہمیں دعاؤں کی ضرورت ہوگی۔

کاش انسان موت کو صرف ایک خبر نہ سمجھے بلکہ اپنی آنے والی حقیقت سمجھے۔

کاش قبر میں اترنے سے پہلے اپنے اعمال کا حساب کر لے۔

کاش آخری سانس آنے سے پہلے اپنے رب سے تعلق مضبوط کر لے۔

اے اللہ! ہمیں موت سے پہلے توبہ نصیب فرما، موت کے وقت کلمہ نصیب فرما، قبر میں راحت نصیب فرما، اور قیامت کے دن اپنی رحمت کے سائے میں جگہ عطا فرما۔
آمین یا رب العالمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں