*ٹائٹل: بیدار ھونے تک *
*عنوان: دین کی سمجھ ہر مسلمان پر فرض ھے*
*کالمکار: جاوید صدیقی*
دین اسلام اللہ تبارک تعالیٰ کا پسندیدہ ترین دین مذہب ھے جو رب العزت نے اپنے پیارے نبی آخری الزمان ختم الرسل ختم الانبیاء امام الرسل امام الانبیاء محمد الرسول اللہ ﷺ پر نازل کیا۔ دین محمدی کو عرش بریں سے عرش اعلیٰ کونوں مکاں سے ارض و سماں گو کہ رب العزت نے ہر ظاہری و باطنی و پوشیدہ ہر علم ہر راز کو محبوب خدا ﷺ کے سامنے عیاں کردیا سب سے بڑھ کر سدرة المنتہیٰ کی بلندی سے بھی آگے اپنے محبوب ﷺ کو طلب کرلیا جہاں صرف اور صرف رب العزت واحد لاشریک کی ذات اقدس ھے۔ جنتیوں کو بعد موت جنت میں رب دیدار کرائے گا لیکن محبوب خدا ﷺ کو انکی حیاتی میں ہی جسم و جاں لباس و لعین سمیت اپنے دربار اور اپنی ذات مبارکہ کے دیدار سے مشرف کیا۔ اسی لئے رب العزت نے اپنے ربیت کا اعلان کیا وہی محبوب ﷺ کی رحمت کا بھی عندیہ دیدیا تاکہ رب کی مخلوقات کو کچھ کہنے کا موقع نہ ملے خاص کر ابلیس و شیاطین سمیت اسکے گروہوں کو۔ اب ذرا عشق و ادب کو جھکا کر دیکھئے کہ رب نے جب اپنے محبوب پر اپنا دین نازل کیا تو سید الفرشتہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے محبوب کو پہلا کلمہ اقراء پڑھایا ترجمہ: ”اپنے رب کے نام سے پڑھو جس نے پیدا کیا۔ انسان کو خون کے لوتھڑے سے بنایا“ (بحوالہ: پارہ تیس ، سورة العلق)۔ آپ ﷺ نے اپنی امت کو علم سے سرفراز رہنے کی تلقید کی یہاں تک مشہور ھے کہ علم حاصل کرو چاہے تمہیں کوسوں دور ہی کیوں نہ جانا پڑے۔ علم مسلمان کی میراث ھے مگر افسوس کہ دین کے ٹھیکیداروں اور تخت و تاج کے لالچی حکمرانوں نے علم کو برباد اور دفن کرنے کی بہت کوششیؔ کیں کیونکہ وہ خود ہی اول نمبر کے جاہل مطلق ہیں۔ علم دشمنی درحقیقت اسلام اور دین محمدی ﷺ سے بغاوت و دشمنی ھے اور افسوس رہتا ھے کہ عوام کا ایک بڑا طبقہ انہیں اپنا حاکم رہنما ہدایت کنندہ سمجھتے ہوئے ان منافقوں جھوٹوں دھوکہ بازوں مداریوں اور جاہلوں کو ہی سمجھتے ہیں، آج پاکستان اور امت مسلمہ کے بیشمار ممالک ان ہی جاہل علم دشمن حکمرانوں سپہ سالاروں بادشاہوں سے بھری پڑی ھے۔۔۔۔ معزز قارئین!! موجودہ ترقی یافتہ جدید دور میں ہماری دنیا یعنی میڈیا انڈسٹری میں سچ حق پر کھڑے رہنا قطعاً مالکان کو پسند نہیں وہ تو صرف منافع اور فوائد کو نقطہ مرکز سمجھتے ہیں اس بابت فریب منافقت جھوٹ جیسے مکروہ فعل ان کے نزدیک بے معنی رہتے ہیں انہیں سب سے زیادہ چڑ ان ماتحتوں سے ہوتی ھے جو سچ و حق کیلئے آنکھوں میں آنکھ ڈال کر بات کریں۔ انہیں قابلیت ذہانت اہلیت رکھنے والے قطعاً پسند نہیں یہی سبب ھے کہ دین محمدی ﷺ کا پرچار کرنے والے دینی چینلز صرف مسلک کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں انہیں نہ صحیح علوم سے دلچسپی اور نہ ہی تحقیقی مواد سے غرض ھے یہی سبب ھے کہ ضعیف احادیث کا پرچار اور قرآنی آیات کا مفہوم ذاتی مفادات کی رخ کرکے بیان کیا جاتا رھا ھے جبکہ قرآن شمع ہدایت، نور زندگی اور قرب خدا کی ضامن ھے۔۔۔۔ معزز قارئین!! اب ذرا ان اسلام کے ٹھیکیداروں کے فتوے و اعتراضات پر نظر دوڑائیں تو پتا چلتا ھے کہ لاؤڈ اسپیکر اور مائیکرو فون ایجاد ہوا تو مولویوں نے اس کے خلاف فتوے جاری کیے، مولانا اشرف علی تھانوی نے لاؤڈ اسپیکر میں آذان سے منع کر کے فتویٰ جاری کردیا. بھاپ سے چلنے والا انجن ایجاد ہوا تو مولویوں نے ٹرین کے خلاف فتویٰ جاری کردیا. ایران کے آیت اللہ نے ٹرین کو شیطانی چرخہ کہا، احادیث میں سے قیامت کی نشانی تلاش کی گئی کہ لوہے پر لوہا چلنا قیامت کی نشانی ہے لہٰذا ایران میں ایک لمبے عرصے تک ٹرین سروس نہیں بنائی گئی. یہ صرف ٹرین یا لاؤڈ اسپیکر تک محدود نہیں، عالمِ اسلام میں جدید سائنس، ٹیکنالوجی اور سماجی تبدیلیوں کے خلاف بارہا فتوے دیے گئے. سر سید احمد خان نے جب سائنسی فکر کی بات کی تو انہیں “نیچری” کہا گیا. پرنٹنگ پریس آیا تو کہا گیا کہ قرآن ہاتھ سے لکھا جائے گا، مشین سے نہیں۔ فوٹوگرافی آئی تو “تصویر حرام” کے نام پر کیمرے کے خلاف مہم چلائی گئی، پھر انہی علماء کی تصویریں پوسٹروں، کتابوں اور یوٹیوب تھمب نیلز پر نظر آنے لگیں۔ برصغیر میں ریلوے کے خلاف مولویوں نے دلیل فراہم کی مختلف مذاہب اور ذاتوں کے لوگ ایک ہی ڈبے میں بیٹھیں گے، طہارت اور سماجی تفریق ختم ہو جائے گی. کئی علماء سمجھتے تھے کہ قرآن کی طباعت سے غلطیاں پھیلیں گی اور کاتبوں کا مقدس پیشہ ختم ہو جائے گا. ریڈیو کو “شیطانی ڈبہ” کہا گیا۔ سعودی عرب میں ریڈیو کے خلاف شدید مخالفت کی گئی، مفتی اعظم سعودی عرب ابن باز نے ریڈیو سننے سے منع فرما دیا. ٹیلی ویژن آیا تو پاکستان میں جیسے بھونچال آ گیا. ضیاء الحق کے دور میں سڑکوں پر احتجاج ہوتے اور ٹی وی کو چوک میں آگ لگائی جاتی. اس کارِ خیر میں جماعت اسلامی، تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی پیش پیش تھیں. کیمرا اور تصویر حرام قرار دی گئی، مولوی حضرات شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے لیے بھی تصویر نہیں بنواتے تھے. انگریزی تعلیم کو کفر کا نظام قرار دیا گیا، مولوی صاحب اپنے بچے اسکول نہیں مدرسے بھیجتے تھے، لڑکیوں کو اسکول بھیجنے کے خلاف باقاعدہ فتوے جاری کئیے گئے. جمہوریت حرام قرار دی گئی (یاد رھے ہمارے ہاں جمہوریت ہی نہیں بلکہ جمہریت کی شکل میں آمریت ھے، اسی لئے میں اس جمہوریت کے مخالف ھوں) مولوی لوگ ووٹ ڈالنے کو حرام کہتے اور جو شخص ووٹ ڈالتا اس کے نکاح فسخ کر دیتے. عورت کی حکمرانی حرام قرار دی گئی. (مادر ملت فاطمہ جناح پر بھٹو نے اعتراض کیا لیکن اپنی بیٹی بینظیر بھٹو کو حکمران بنانے کیلئے سیاست میں لایا) آج مولوی حضرات بڑے شوق سے بےنظیر بھٹو اور مریم نواز کے غیر مرئی اثاثہ جات اٹھاتے ہیں. سعودی عرب نے ایک عرصے تک خواتین کی ڈرائیونگ پر پابندی عائد کیے رکھی. گاڑی کی ایجاد کے ڈیڑھ سو سال بعد خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت ملی. افغانستان میں آج بھی عورتوں کی تعلیم اور ڈرائیونگ وغیرہ پر خاموش پابندی عائد ہے. سچ تو یہ ہے کہ ہم مسلمان موجودہ دنیا سے پانچ سو سال پیچھے ہیں. مزے کی بات یہ ہے کہ مسلمان ساڑھے چودہ سو سال پیچھے جانا چاہتے ہیں. خلافت کا خیالی نظام نافذ کرنا چاہتے ہیں، ساری دنیا کو اپنے تابع بنا کر سبھی کو عربی بدو بنانا چاہتے ہیں لیکن اسلام نے جدیدیت کو حدود و قیود میں رہتے ہوئے کبھی بھی قدغن نہیں لگایا کیونکہ ین محمدی ﷺ 1400 سال قبل سے تا قیامت تک کیلئے آیا ھے ہر زمانے کے لحاظ سے دین محمدی ﷺ میں نظام طریق اصول ضوابط قوائد موجود ہیں مگر آج کا ملا مولوی پیر فقیر صرف چندہ عطیہ اور مال سمیٹنے میں لگا ھوا ھے کتنے ایسے مذہبی ادارے ہیں جہاں بناء مسالک کے خالصتاً قرآن و احادیث کے مطابق تحقیق کرکے اصول مرتب کئے گئے ہیں۔ کروڑوں نہیں بلکہ کھربقں نربوں سالانہ عوام سے رقم سمیٹنے والے مدارس دارلعلوم ینی مراکز مزارات سوائے ریش و تعیش کے کچھ نہیں کررھے حکومت تو ہے ہی نام نہاد مسلمان ان سب کے اعمال دین کے مطابق نہیں یہی سبب ھے کہ یہاں سود شراب زنا قتل ڈکیتی لوٹ مار چوری غبن اور جھوٹ دھوکہ سرے عام معاشرے میں پھیلا ھوا ھے۔ اس وقت پاکستان سے علم مکمل اٹھ چکا ھے کیونکہ 98 فیصد عوام حرام کھارہی ھے یہی سبب ھے کہ انہیں حرام کام کرنے کا علم ہی نہیں وہ حرام کام کو عام کام سمجھ بیٹھے ہیں اللہ نے پاکستان سے برکت رحمت فضل کرم اور عافیت جیسی نعمتیں نازل کرنا بند کردی ہیں۔ ذرا قرآن پر توجہ دیں ذرا خود احادیث کا مطالعہ کریں چند لمحے اپنی زندگی کے گزارے ہوئے ان پر غور کریں اور دیکھیں سمجھیں کہ خود نے کتنا اللہ کے احکامات کی پیروی کی اور اطاعت رسول ﷺ پر گامزن رھے، ایک مسلم ریاست کیلئے شرط اول ھے کہ اس ریاست کا سربراہ حاکم حکمران وزیر و مشیر اور بااختیار مجاز افسر مکمل دینی علوم سے آراستہ ھو پابند شریعت ھو سچا اور اصول کا کاربند ھو کیا ہمارے ملک پاکستان میں ایسا ھے کہ نہیں اگر نہیں تو انکی اطاعت انکے احکامات اور انکے غیر شرعی پابندیوں کو قرآن و احایث میں دیکھنا ہوگا اور فیصلہ دینی علوم کے شیخ الحدیث و مفتیان اعظم کو دینا اشد ضروری ھے انکی خاموشی دین محمدی ﷺ پر حملہ کے مترادف سمجھی جائیگی۔ سب سے پہلے مملکت پاکستان کو اسلامی شرعی کورٹ کیلئے حکم جاری کرنا چاہئے کہ سپریم کورٹ سے بالاتر کورٹ اسلامی شرعی کورٹ ھے تاکہ مملکت اسلامی پاکستان کو اللہ کے احکامات کی پیروی کرتے نظر آئے موجودہ آئین کی پہلی شق میں بھی اللہ واحد لاشریک پر ایمان لانا اور ا کے قوانین کو جاری کرنا یہ ہمارے آئین و دستور میں درج ھے پھر عملی طور پر نظر کیوں نہیں آتا اسکی سب سے بڑی وجہ سپریم کورٹ کو شرعی کورٹ سے بالاتر رکھا گیا ھے جو سراسر ظلم اور دین و آئین سے بغاوت، آئین و دستور سے بغاوت آئین میں ہی سزائے موت یا پھر ملک بدر ھے آخر ان لوگوں کو سزائے موت یا ملک بدر کیوں نہیں کیا جاتا جو آئین پاکستان اور دین کیساتھ کھلواڑ کرتے چلے آرھے ہیں اس بابت صاحب مقتدر قوتوں کو سوچنے کی ضرورت ھے۔۔۔۔۔!!