افسانہ
متا ع عزیز
تحریر. ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
اس کا نام علی اصفہانی تھا،وہ بصرہ میں موچی تھا،عمر پچپن سال،رنگ سرخ و سفید،قد درمیانہ،سفید باریش داڑھی،گفتگو میں تہذیب اور مروت کی گہری چھاپ،موسموں کی شدت سے بے نیاز وہ ہمہ وقت اپنے کام میں مگن رہتا اور دیکھنے والوں نے کبھی بھی اسے الجھن یا پریشانی میں مبتلا نہ پایا تھا ایک دھیمی سی مسکان ہمیشہ بابا علی کے چہرے کی پر بہار رونق تھی.
وہ تہجد گزار انسان،فجر کی باجماعت نماز کے بعد ہی اپنی دوکان پہ پہنچ جاتا. شدید سردی اور ظالم گرمی میں بھی بابا علی اصفہانی
بڑی متانت کے ساتھ کبھی چمڑے کی شیٹیں سیدھی کر رہا ہوتا کبھی جوتوں کی تیاری میں مصروف تو کبھی ٹوٹے ہوے جوتوں کی مرمت کرتا دکھائ دیتا،سادگی مزاج میں اور محنت گھٹی میں اور شوق جذبہ ایمانی سے سرشار دل میں تھی حج بیت اللہ جیسی بابرکت عبادت کی خواہش،بابا علی اسی وقار کے ساتھ کام بھی کرتا رہا ،اہل خانہ کی ذمہ داریاں بھی پوری کرتا رہا اور حچ کے لیے روپے بھی جمع کرتا رہا اور جب حج کی پوری تیاریاں مکمل ہو گییں عین اسی رات کام سے واپسی پہ علی بابا کو ہمساییوں کے گھر سے دبی دبی سسکیوں کی صداییں سنائ دیں،نیک طینیت،رحمدل اور خدا ترس علی اصفہانی کے دل میں ٹیس اٹھی،بے چین ہوے،ہمسایہ ٹکلیف میں تھا،بے ساختہ انھوں نے دروازے کو کھثکھثا ڈالا،اجازت ملنے پہ گھر کے اندر گییے تو معلوم ہوا ہمساے کی بیٹی کی شادی جہیز کی عدم دستیابی کی وجہ سے ٹوٹنے جا رہی تھی،بابا علی کا کلیجہ منہ کو آ گیا،انھیں اللہ پاک اتنا یاد آیا کہ حج کے لیے جمع کی جانے والی عمرپھر کی جمع پونجی بیٹی کے جہیز کے لیے دان کر دی،گھر بھر میں خوشی کے شادیانے بجنے لگے،ہمساییوں کی بیٹی شان سے پیآ گھر سدھاری،ساری دنیا کے مسلمان حج کر کے لوٹ آے سواے بصرے کے علی اصفہانی کے جو پہلے سے بھی زیادہ اطمنان کے ساتھ اپنے کام پہ کھڑا اسی لگن،اسی متانت،اسی وقار اور اسی منکو موہ لینے والی صابر مسکان کے ساتھ پہلے سے بھی زیادہ پرنور اور پر رونق نظر آتا تھا…. ..
اللہ جانے کیوں… . ??
ایک دن تپتی دوپہر میں ایک بوڑھا مسافر عربی گھوڑے کو سر پٹ دوڑاتا بصرے کی گلیوں میں علی اصفہانی کو ڈھونڈتا ڈھونڈتا ،بابا علی کے موچی خانے کے سامنے آن رکا،مسافر سر سے پاوں تک دھول مٹی سے اٹا ہوا تھا،تھکن اس کے چہرے سے ہویدا تھی پر کھوج کے جنون نے اس کی تھکاوٹ میں بھی
پھرتی بھر دی تھی اس نے گھوڑے سے اترتے ہی علی اصفہانی کے بارے میں سوال کیا وہ اس وقت بصرے کی جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائ میں مصروف تھے،مسافر جامع مسجد پہنچا،جمعے کا خطبہ جاری تھی،جونہی خطبہ مکمل ہوا،مسافر نے منبر پہ ہی کھڑے ہو کر کہا کون ہے علی اصفہانی?? جونہی علی اصفہانی پچھلی قطار سے اٹھ کر سامنے آے،مسافر نے فرط عقیدت سے پہلے انھیں گلے لگایا پھر بے ساختہ ان کے ہا تھ چوم لیے،اور سارے نمازیوں سے یوں مخاطب ہوے کہ اے مسلمانو، یہ وہ خوش قسمت اکیلا شخص ہے جس کا حج اللہ پاک نے اس سال اپنی بارگاہ عدالت میں قبول کیا…………………….. مجمع حیران ہوا،لوگ چپ کے چپ رہ گیے،آنے والے نے کہا کہ اللہ کے بہت نزدیک، ایک اللہ والے کو علی اصفہانی کے بارے میں بشارت دی گیی کہ اس سال صرف اور صرف بصرے کے بابا علی اصفہانی کا حج ہی قبول ہوا ہے تو میں بابا علی گے دیدار کے لیے مکہ سے بصرہ پہنچا تو جناب علی اصفہانی صاحب یہ بتاییے کہ آپ کی کس خوبی نے آپ کو اللہ پاک کی نظر میں اتنا معتبر کر دیا…..???
روتے ہوے علی موچی کی ہچکیاں بندھ گییں،داڑھی آنسووں سے گیلی ہو گیی اور وہ لرزتی ہوی آواز میں یوں گویا ہوے کہ حج تو کر ہی نہ پایا کہ جمع پونجی ہمساے کی بیٹی کی ختم ہوتی شادی کو بچانے میں چلی گیی،ہاں نیت حج کی شمع بچپن سے دل میں روشن تھی لیکن میں نے سوچا حج کے لیے تو پھر اللہ کوی وسیلہ پیدا کردے گا پہلے اپنے ہمساییوں کے درد کی دوا تو بن جاوں،اب علی موچی کے ساتھ ساتھ سارا مجمع ہی اشکبار تھا،سنت ابراہیمی اور فلسفہ حج کا نچوڑ ،موچی بابا علی اصفہانی کی دریا دلی میں اپنی جمع پونجی،اپنی زندگی کی سب سے بڑی خواہش،اپنی متاع عزیز کو اللہ کی خوشنودی میں،اپنے ہمسایوں کی رد بلا کر کے ، فلسفہ قربانی کے بیانیے کو اظہاریہ بناتا ہوا موچی بابا علی اصفہانی سب کے سامنے سرخرو کھڑا تھا…. سب کے سا منے تھا…..اور اس سال لاکھوں لوگوں سفری و مالی صعوبتوں کے بعد بھی حج کر تو آے،بھلے حاجی بھی کہلاے مگر حج قبول ہوا تو اس شخص کا جس نے اللہ کی خوشنودی کے لیے اپنی سب سے بڑی خواہش قربان کردی،صنم دسویں جماعت کی ہونہار طالبہ جب اس نے بابا علی کی کہانی سنی تو اپنی ساری عیدی جھگی بستی کے مکینوں میں جا کر بانٹ دی،احمر نے اپنی بایسیکل خریدنے کی خواہش کو دبا کر اپنی جمع پونجی اپنے ملازم ،سلامت کی والدہ کے آنکھوں کے آپریشن پہ لگا دی اور یہ سب کرنے سے انھیں جو اطمینان قلب نصیب ہوا اسی کا نام اطاعت و رضاتھا،بابا علی اصفہانی جیسے کردار ہر دور میں پاے جاتے ہیںاور ہر دور کا مورخ انھیں خراج تحسین پیش کرتا آیا ہے اور کرتا رہے گا.
ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
Punnamnaureen@gmail.com
سرگودھا (راجہ نورالہی عاطف سے) ریڈیو پاکستان ایف ایم 101 سرگودھا سے پنجابی مشاعرہ نشر کیا گیا ۔اس پروگرام کی میزبان منزہ انور گوئندی اور
اسلام آباد(راجہ نورالہی عاطف سے) اٹارنی جنرل آف پاکستان ملک منصور عثمان اعوان نے کہا ہے کہ بچے ہمارا مستقبل ہیں ان کی ہمہ جہتی تعلیم و تربیت کے
خوشاب (راجہ نورالہی عاطف سے) ڈپٹی کمشنر خوشاب ڈاکٹر جہانزیب حُسین لابر کی زیر صدارت
رپوٹ ایوان صافت پریس کلب مکلی عبدالعزیز شیخ صوبائی وزیر اوقاف، مذہبی امور، زکوٰۃ و عشر سندھ، سید ریاض حسین شاہ شیرازی نے چھتوچنڈ کے قریب
ٹھٹھ رپوٹ پریس کلب ایوان صحافت مکلی عبدالعزیز شیخ ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ سرمد علی بھاگت کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر ٹھٹھہ شاکر فہیم نے مکلی اور