کالم بلقیس ریاض
پونم نورین کی کتاب”غلام نہیں گوہر نایا ب ہوں“
پونم نورین نے فون پر بتایا کہ میں اپنی نئی کتاب آپ کے ذوق مطالعہ کیلئے بھیج رہی ہوں امید کرتی ہوں آپ اسے ضرور پڑھیں گی. کچھ دنوں کے بعد اس نے کتاب بھیج دی۔
میں نے اس کا مطالعہ کیا تو اس نے اپنے بارے میں لکھا تھا پیشے کے لحاظ سے میں ایک ڈاکٹر ہوں مگر ادب کی دنیا میں چھ تصانیف لکھنے کے بعد یہ ساتویں کتاب”غلام نہیں گوہر نایاب ہوں“ یہ کتاب میرے دل کی آواز ہے جس میں میں نے ساری دنیا کی خواتین کی نمائندگی کرنے کی ادنیٰ سی کوشش کی ہے.
اس کتاب کے نام نے مجھے بہت متاثر کیا اور جب میں نے اس کا مطالعہ کیا تو مجھے کتاب بہت مختلف لگی۔
”غلام نہیں، گوہرِ نایاب ہوں“ایک ایسی فکر انگیز اور حوصلہ افزا کتاب ہے جو انسان کو اپنی اصل پہچان اور قدر کا احساس دلاتی ہے۔ یہ کتاب خاص طور پر اُن لوگوں کے لیے لکھی گئی محسوس ہوتی ہے جو زندگی کے دباؤ، معاشرتی پابندیوں یا خود اعتمادی کی کمی کا شکار ہوتی ہیں۔
کتاب کا مرکزی خیال خودی پر مبنی ہے…….. خودداری اور عزتِ نفس ہے۔
بقول مصنفہ کہ یہ بتانا چاہتی ہیں کہ انسان کسی کا غلام نہیں ہے ہر فرد اپنی جگہ ایک قیمتی اور منفرد ہستی ہے. حالات چاہے جیسے بھی ہوں خود پر یقین نہیں کھونا چاہیے اور اپنے آپ کو کمتر بھی نہیں سمجھنا چاہیے.
پونم نورین کا اندازسادہ اور عام فہم……جذباتی مگر حقیقت کے قریب……قاری کے دل کو براہِ راست متاثر کرنے والاہے.
کہیں کہیں تحریر میں افسانوی رنگ بھی شامل ہو جاتا ہے جو اسے مزید دلچسپ بنا دیتا ہے۔
اس کی تحریر میں بہت مثبت پہلو ملتے ہیں. جو حوصلہ اور امید پیدا کرتی ہے اور خاص کر کہ خود اعتمادی پر بھی بڑازور دیتی ہے. نوجوانوں اور خواتین کے لیے خاص طور پر مفیدمشورے بھی دیتی ہے.
غلام نہیں، گوہرِ نایاب ہوں کے تناظر میں یہ بات اور بھی واضح ہو جاتی ہے کہ عورت کو صرف نرم دل اور برداشت کرنے والی مخلوق سمجھنا ایک ادھورا تصور ہے۔ عورت نہ صرف محبت اور قربانی کی علامت ہے بلکہ وہ عقل، شعور اور طاقت کا بھی پیکر ہے۔
ہمارا معاشرہ بعض اوقات عورت کو اس کی اصل پہچان سے دور لے جانے کی کوشش کرتا ہے۔ جہیز اور لڑکی یا لڑکے کے لیے غیر ضروری چیزیں مانگنا ایک ایسی رسم بن گئی ہے جو اکثر رشتوں میں دباؤ پیدا کرتی ہے۔ کنواری لڑکیاں جہیز نہ ہونے کی صورت میں بوڑھی ہو جاتی ہیں. معاشرہ دولت نہ ہونے کی وجہ سے شادیاں نہیں کرتا۔ ان کی نسبت ان لڑکیوں کی شادیاں جلدی ہو جاتی ہیں جو رئیس ہوتی ہیں. لیکن پونم نورین کی کوشش ہوتی ہے کہ عورت کو مثبت سوچ اور خوداری کی طرف راغب کرے۔ عام فہم جذبات حقیت کی طرف راغب کرتی ہے کہ عورت اپنے بارے میں آزادانہ فیصلے کرنے کیلئے خد مختا رہو…… کسی کے دباؤ میں نہ آئے. اس کے افسانوں میں عورت کا کردار ہر طرح سے دیکھا جاتا ہے کہ وہ ایک انسان ہے اس کی اپنی اہمیت ہے. ایک مہترانی جو گھر کا گند اٹھاتی ہے اللہ نے اسے بھی صلاحیت دی ہے. دیکھا جائے گھر کی مالکن بھی ویسی صفائی نہیں کرتی جیسے کی مہترانی کر سکتی ہے…….اور مالکن اگر اسے ڈانٹے تو وہ غصہ سے اس کو کہتی ہے کہ میں گھر چھوڑ کر چلی جاؤں گی. میں تو اپنے گھر کی ملکہ ہوں.
شادی کے بعد اکثر شوہر اپنی بیوی کو اپنی ملکیت سمجھتا ہے کہ میں جیسا بھی سلوک کروں میرے طابع رہے لیکن عورت مظلوم اور ڈر پوک ہوتی ہے اس کی وجہ سے اور اپنے آپ کو کمتر سمجھتی ہے. لاتیں……تھپڑ سہتی ہے. عورت کبھی بھی اپنے آپ کو مظلوم نہ سمجھے۔ پھر یہ معاشرہ لڑکیوں کو کیوں کمتر جانتا ہے جو اتنی باسلیقہ ہوتی ہیں اور پیسے کی خاطر اس کو قبول نہیں کریا جاتا۔ بار بار کہتی ہے ان کو بہادر ہونا چاہیے۔ بڑے وقار ادب آداب کے ساتھ….مثبت سوچ رکھتے ہوئے شوہر اور بچوں کے ساتھ جیئے…….غرض کہ یہ ایک بڑی ہی انوکھی اور عبرت آموز کتاب ہے جو ہرعورت کو پڑھنی چاہیے مگر اپنے ادب آداب کو ملحوظ خاطر رکھے….. میں پونم نورین کو مبارکباد دیتی ہوں اتنی اصلاحی کتاب لکھنے پر۔
اس کے افسانوں کا اسلوب شاعرانہ ہے اور سادا ہے وہ بڑے خوبصورت انداز سے قاری کے دل ودماغ پر اپنی باتیں لکھ کر بہت زور دیتی ہے کہ عورت کا مقام بلند ہے وہ بھی انسان ہے اور دوسری لڑکیوں کو عبرت دی جائے کہ اپنے کردار کو باوقار بنایا جائے اور لڑائی جھگڑے سے گریز کیا جائے۔ پھر بھی میں آخر میں یہی کہوں گی کہ بڑی منفرد کتاب لکھ دی ہے ایک بار پھر خراجِ تحسین بھیجتی ہوں۔
نورپورتھل (راجہ نورالہی عاطف سے) راجہ محمد وقار رشتہء ازدواج سے منسلک ہوگئے ۔ ان کی شادی خانہ آبادی کی تقریب نورپورتھل میں ان کی رہائش گاہ پر
لاہور (راجہ نورالہی عاطف سے) پی پی 83 خوشاب سے نو منتخب رکن صوبائی اسمبلی سردار ظفر خان بلوچ نے حلف اٹھا لیا
سرگودھا (راجہ نورالہی عاطف سے)وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر محرم الحرام سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ
چن (راجہ نورالہی عاطف سے) وفاقی پارلیمانی سیکرٹری مواصلات و ایم این اے انجینئر ملک گل اصغر خان بگھور کی ہدایت پر موضع
*ٹائٹل: بیدار ھونے تک * *عنوان: دین کی سمجھ ہر مسلمان پر فرض ھے* *کالمکار: جاوید صدیقی*