12

زراعت،صنعت اورتجارت پر توجہ سے پاکستانی معیشت مضبوط ہو سکتی ہے۔ تحریر: اللہ نواز خان

زراعت،صنعت اورتجارت پر توجہ سے پاکستانی معیشت مضبوط ہو سکتی ہے۔
تحریر: اللہ نواز خان
allahnawazk012@gmail.com
پاکستان کی معیشت میں زراعت،صنعت اور تجارت کی خاص اہمیت ہے۔زراعت کے ذریعے خام مال پیدا ہوتا ہے اورغذائی ضروریات بھی پوری ہوتی ہیں۔خام مال کو صنعتوں کے ذریعے قابل استعمال بنایا جاتا ہے اور مصنوعات بنائی جاتی ہیں۔تجارت کے ذریعےصنعتوں میں بنائی جانے والی مصنوعات ملکی اور غیر ملکی منڈیوں میں فروخت کی جاتی ہیں اور ان سے زر مبادلہ کمایا جاتا ہے۔زراعت کا تو پاکستان کی معیشت میں خاص حصہ ہے۔پاکستان کی GDP میں زراعت کا حصہ 5۔18سے لے کر 23 فیصد تک ہے. افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ تینوں شعبوں کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کی معیشت مسلسل کمزور ہو رہی ہے۔یہی صورتحال جاری رہی تو اگلے چند سالوں میں پاکستان انتہائی خطرناک گلی میں چلا جائے گا۔ترقی یافتہ ممالک میں ایسی پالیسیاں بنائی جاتی ہیں،جن سے معیشت مضبوط ہوتی ہے۔پاکستان میں بنائی جانے والی پالیسیوں سے معیشت کمزور ہوتی ہے۔سب سے بڑا مسئلہ سیاسی عدم استحکام ہے۔سیاسی مداخلت سےبھی پاکستان کی معیشت کو ہمیشہ نقصان پہنچا ہے۔پاکستان کی معیشت مضبوط کرنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔پاکستان اس وقت انتہائی مشکل حالات سے گزر رہا ہے،جن سے نپٹنا ضروری ہے۔اگر سنجیدگی اختیار نہ کی گئی تو مسائل سنگین رخ اختیار کر لیں گے۔
پاکستان میں زراعت کا شعبہ زوال کی طرف بڑھ رہا ہے۔کسان زیادہ خرچ کر کے فصل اگاتے ہیں لیکن وہ خسارہ اٹھاتے ہیں۔خسارہ اس لیے اٹھایا جاتا ہے کہ فصل کی کاشت اور کٹائی سے لے کر فروخت کیے جانے تک بہت سا سرمایہ خرچ ہو جاتا ہے، لیکن قیمت کم ملتی ہے۔بیج،کھاد،زرعی ادویات اور دیگر لوازمات پر بہت زیادہ خرچ آتا ہے۔پانی کا مسئلہ بھی بہت زیادہ بڑھا ہوا ہے۔چند علاقوں کے علاوہ اکثریت زمینوں کو سیراب کرنے کے لیے انتہائی مہنگے داموں پانی خریدنے پر مجبور ہے۔زرعی مشینری بھی انتہائی مہنگی ہے۔دیگر مسائل بھی ہیں جن کی وجہ سے زراعت کا شعبہ زوال پذیر ہو رہا ہے۔فوری طور پر زراعت پر توجہ نہ دی گئی تو پاکستان میں بیرون ممالک سے غذائی ضروریات کی اشیاء درآمد کی جائیں گی۔پاکستان میں بہت سا رقبہ غیرآباد ہے اور اس رقبے کو فوری طور پرزراعت کےلیےآباد کرنے کی ضرورت ہے۔زراعت سے صرف غذائی ضروریات پوری نہیں ہوتیں بلکہ دیگر فوائد بھی ہیں۔کپاس سےصنعتوں میں کپڑا بنایا جاتا ہے۔ٹیکسٹائل انڈسٹری میں کام کرنے والے افراد کو روزگار بھی مہیاہوتا ہے اور یہ کپڑا بیرون ملک برآمد کر کے زر مبادلہ بھی کمایا جا سکتا ہے۔کپاس یا کوئی بھی فصل کاشت کر کے کسان اپنی آمدنی میں اضافہ کر سکتے ہیں۔گنےسے صنعتوں کے ذریعے چینی بنائی جاتی ہے۔چینی کا استعمال دنیا بھر میں زیادہ ہے۔پاکستان میں شوگر انڈسٹری سے وابستہ افراد کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔اس لیے اگر زراعت کے شعبے پر زیادہ توجہ دی جائے تو پاکستان کی معیشت جلد از جلد بلند ہوتی جائے گی۔تجارت کا شعبہ بھی کئی قسم کے مسائل کا شکار ہے۔تجارت کے ذریعے پاکستان میں اور بیرون ممالک صنعتی مصنوعات فروخت کی جاتی ہیں۔صنعتوں کو بھی مختلف قسم کے مسائل درپیش ہیں۔مہنگی بجلی اور گیس کی بڑھتی قیمتیں صنعتوں کو سخت نقصان پہنچا رہی ہیں۔بجلی سستے ایندھن سے بناکر صنعتوں کو مہیا کی جا سکتی ہے۔صنعتوں کے علاوہ گھریلو استعمال کے لیے بھی سستی بجلی مہیا ہو سکتی ہے اگر سستے ایندھن سے بجلی کو بنایا جائے۔تجارت کے لیے سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے۔سرمایہ کاری کے لیے اگر مناسب ماحول موجود نہ ہو تو کوئی سرمایہ کاری کے لیے تیار ہی نہیں ہوگا۔غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کو پریشانی کا شکار بنا دیا ہے۔غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے پاکستانی حکام خصوصی توجہ دیں۔
زراعت،صنعت اور تجارت کسی بھی ملک کو بلندیوں پر پہنچاتے ہیں۔پاکستان میں تینوں شعبے توجہ کی منتظر ہیں مگر حکومتی توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔پاکستانی معیشت غیر ملکی قرضوں پر چلائی جا رہی ہے،جس کا نقصان بہت ہی زیادہ ہے۔زراعت کے لیے خصوصی فنڈنگ درکار ہے۔حکومت سبسڈی بھی دیتی رہتی ہے لیکن اس کا فائدہ زیادہ نہیں ہوتا۔مثال کے طور پر کسان کارڈ ان افراد کو فائدہ پہنچاتا ہے،جو ایکڑز کے حساب سے رقبوں کے کے مالک ہوتے ہیں۔جنہوں نے ٹھیکے پر زمین لی ہوتی ہے یا ہاری ہیں،وہ فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔کم رقبے پرکاشت کرنے والے کسان بھی بہت سی سبسڈیوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔کھاد اور بجلی کی قیمتوں میں تو فوری طور پر کمی کی جانی ضروری ہے۔صنعتوں کے لیے بھی خصوصی پیکجز منظور کیے جائیں۔سیاسی مداخلت سے یہ سبسڈی حقداروں تک نہیں پہنچ پاتی،لہذا ایسا نظام بنایا جائے جس سے ہر حقدار تک اپنا حق پہنچ سکے۔کچھ صنعتوں کے مالکان بھی کرپشن کرتے ہیں۔مزدوروں کو اپنے حقوق نہیں دیتے اور اپنی مصنوعات کو مہنگا بھی بیچتے ہیں۔حکومت ایسا انتظام کرے جس سے کرپشن کو بھی روکا جا سکے اور مزدوروں کی حق تلفی بھی نہ ہو۔تجارت کے لیے بھی ہنگامی اقدامات اٹھانے ضروری ہیں۔بعض اوقات پاکستان کی مصنوعات بیرون ممالک فروخت نہیں ہوتیں۔وجہ یہ ہے کہ پاکستانی مصنوعات مہنگی ہوتی ہیں اور دیگر ممالک کی مصنوعات سستی ہوتی ہیں،سستی مصنوعات کی نسبت مہنگی مصنوعات کون خریدنا پسند کرے گا؟معیار کا بھی مسئلہ ہوتا ہے،لہذا صنعتوں پر بھی نگرانی کا نظام قائم رکھنا چاہیے تاکہ معیاری مصنوعات بنائی جائیں۔
پاکستان کی معیشت ماضی کی نسبت بہت ہی کمزور ہو رہی ہے۔خام مال کی نایابی بھی پریشان کن ہے۔زراعت میں بہتری پیدا کر کے بہت ساخام مال مہیا ہو سکتا ہے۔جدید ترین مشینری اور ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے زراعت کا شعبہ بہتر بنایا جا سکتا ہے۔چھوٹے چھوٹے کسانوں کو بھی اسان قرضے دیے جائیں۔معیاری بیج کی فراہمی بھی یقینی بنائی جائے۔صنعتی ترقی کے لیے نئی صنعتوں کےقیام کی حوصلہ افزائی کی جائے۔فنی تعلیم اور ہنر مند افرادی قوت تیار کی جائے۔صنعت کاروں کے لیے نئی منڈیوں تک رسائی یقینی بنائی جائے۔برآمدات کے لیے مراعات دی جائیں۔تجارت کے لیے بھی صاف وشفاف قانون سازی کی ضرورت ہے۔اگر تاجر حضرات کو ٹیکس میں رعایت دی جائے تو وہ بین الاقوامی منڈیوں تک پاکستانی مصنوعات کو پہنچا دیں گے۔آن لائن تجارت کی بھی حوصلہ افزائی کی جائے کیونکہ مستقبل میں آن لائن تجارت خصوصی اہمیت اختیار کر لے گی۔پاکستان میں اگر زراعت،صنعت اور تجارت کے شعبوں کو مضبوط بنا دیا گیا تو پاکستان قرض لینے والا ملک نہیں رہے گا بلکہ دینے والا بن جائے گا۔آئی ایم ایف کے علاوہ تمام قرض دینے والوں سے آسانی سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے اگر خلوص نیت سے ان تین شعبہ جات کو بہتر کر دیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں