8

نئی عالمی اقتصادی طاقتوں کا ابھار تحریر: اللہ نواز خان

نئی عالمی اقتصادی طاقتوں کا ابھار
تحریر: اللہ نواز خان
allahnawazk012@gmail.com
عالمی معاشی صورتحال بدل رہی ہے اورکئی معاشی طاقتوں کا غلبہ کم ہوتا ہوا نظرآرہا ہے۔ایسا کوئی پہلی بار نہیں ہو رہا بلکہ ماضی میں بارہا ہو چکا ہے۔معاشی طور پرانتہائی مضبوط ممالک معاشی لحاظ سےتباہ ہو گئے اور کمزور معیشت رکھنے والے ممالک معاشی لحاظ سے مضبوط ہو گئے۔امریکہ،یورپی ممالک اورخلیجی ممالک کے علاوہ کئی ممالک معاشی لحاظ سے مضبوط سمجھے جاتےہیں۔تیل،گیس،انڈسٹریز،سیاحت وغیرہ سے ان کی معیشتیں مضبوط ہیں۔اب عالمی معیشت پر امریکہ سمیت کئی طاقتوں کا غلبہ کم ہوتا ہوا نظرآرہا ہے۔اکیسویں صدی میں عالمی معاشی منظرنامے میں بہت سی تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔جنگوں کی وجہ سے بھی مسائل پیدا ہوئے اور قدرتی آفات نے بھی بہت سے بحران پیدا کر دیے۔
چین اس وقت انڈسٹری کو بہت ہی مضبوط بنا چکا ہے۔چینی مصنوعات عالمی منڈی میں تیزی سے جگہ بنا رہی ہیں۔چین جنگی ٹیکنالوجی کو بھی جدید خطوط پر استوار کر چکا ہے۔چینی جنگی طیاروں کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔امریکہ کے لیے یہ ناقابل برداشت ہے کہ چین ترقی کی منازل طے کرے۔چین کی بے مثال ترقی حیران کن بھی ہے کہ اتنی جلدی کیسے کامیابی حاصل کر لی گئی؟چینی ترقی کا راز یہ ہے کہ قوم بہت ہی محنت کر رہی ہے اور اس محنت کا اجر بھی مل رہا ہے۔چین کے علاوہ روس بھی مضبوط معیشت کا مالک ہے۔روس میں معدنیات کے علاوہ معاشی مضبوطی کے لیے دیگر ذرائع بھی موجود ہیں۔روس کی جنگی تاریخ بھی بہت بڑی ہے۔افغانستان کے ساتھ جنگ میں روس کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔پھر مختلف ٹکڑوں میں تقسیم ہوا،لیکن پھر بھی اپنی مضبوطی برقرار رکھنے میں کامیاب ہے۔اب روس اور یوکرین جنگ جاری ہے۔یوکرین اتحادیوں کی وجہ سے جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔یوکرین کوسب سے بڑی امداد امریکہ کی طرف سے مل رہی ہے،اس لیے یوکرین ابھی تک جنگ لڑ رہا ہے۔روس اتنے نقصان اٹھانے کے باوجود بھی مضبوط پوزیشن پر فائز نظرآرہا ہے۔روس اور چین کے علاوہ برازیل،انڈونیشیا،انڈیا،سعودی عرب اور دیگر ابھرتی ہوئی معیشتیں عالمی اقتصادی نظام میں اپنا کردار بڑھا رہی ہیں۔”برکس بلاک”سے بھی نئی تبدیلیاں نظر آرہی ہیں۔برکس کرنسی اگر مارکیٹ میں جگہ بنا لیتی ہے تو ڈالر اپنی وقعت کھو دے گا۔بہرحال ڈالر کی پوزیشن ابھی بھی بہت مضبوط ہے۔خلیجی ریاستیں تیل پر انحصار کر رہی ہیں،ہو سکتا ہے مستقبل میں یہ بھی اپنی مضبوطی کو برقرار نہ رکھ سکیں۔مضبوطی کو برقرارنہ رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ دنیا الیکٹرک اور سولر انرجی پر منتقل ہو رہی ہے۔الیکٹرک گاڑیوں کو تیل کی ضرورت نہیں رہے گی،اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ مستقبل میں تیل والی ریاستیں بھی اپنی معاشی مضبوطی کو برقرار نہیں رکھ سکیں گی۔
نئے اتحاد بن رہے ہیں اور یہ اتحاد اپنی معیشت کو مضبوط بنالیں گے۔روس اور ایران کا اتحاد بھی عالمی طور پر نہ سہی مشرق وسطی میں بہت اہم صورتحال اختیار کرسکتا ہے۔ایٹمی توانائی بہت بڑی تبدیلی لا سکتی ہے۔جن ممالک کو کمزور ہونے کی وجہ سے پریشرائز کر کے دولت وصول کی جا رہی ہے،مستقبل میں اگر ان ممالک کے پاس ایٹمی ہتھیار موجود ہوں تووہ مقابلہ کر سکیں گے۔ایٹمی توانائی کو فروخت کرکےبھی بہت سا سرمایہ کمایا جا سکتا ہے۔ویسے ایٹمی توانائی کو فروخت کرناآسان نہیں کیونکہ ایٹمی پھیلاؤ کو روکنے کے لیے دنیا متحد ہے۔بہرحال شمالی کوریا،ایران یا کوئی اور ملک ایٹمی توانائی کو فروخت کر سکتا ہے۔طاقت کا توازن برابر ہونے کی صورت میں ایٹمی توانائی کی زیادہ آسانی سے خرید و فروخت ہو سکے گی۔جب نوبت اس حد تک پہنچ جائے گی تو بہت سی طاقتیں اپنا کنٹرول کھو دیں گی۔تیل یا دوسری اشیاء بغیر مشکل کے فروخت ہونا شروع ہو گئیں تو اس صورت میں بہت بڑی معاشی تبدیلیاں پیداہو جائیں گی۔امریکہ اور دیگر ممالک بھی معیشت کی مضبوطی کے لیے کام کر رہے ہیں،اسی طرح چین اور روس کے علاوہ دیگر کئی ممالک بھی مسلسل کام کر رہے ہیں۔برکس یا کوئی دوسرا اتحاد اگر کامیاب ہو گیا تو امریکہ کی معیشت بہت ہی نیچے چلی جائے گی۔
عالمی معیشت کی تبدیلی سے بین الاقوامی سیاست اور سفارت کاری بھی متاثر ہوگی۔اب کمزور ممالک قرض کے لیے بہت سی ناگوار شرائط تسلیم کر لیتے ہیں،اگر کمزور ممالک خود کفیل ہو جائیں تو بہت بڑی تبدیلی پیداہو جائے گی۔کمزور ممالک اپنی معیشت کو مضبوط بنانا شروع کر دیں گے جس کا نقصان موجودہ مضبوط معیشتوں کو ہوگا۔یہ نہیں کہا جا سکتا کہ امریکہ یا کوئی اور ملک لازما کمزور ہو جائے گا۔امریکہ سمیت تمام ممالک اپنی معاشی پوزیشن کو مضبوط رکھ سکتے ہیں۔مضبوط معیشت کے لیے سیاسی استحکام اور میرٹ لازمی ہوتا ہے۔اب بھی بہت سے ممالک سیاسی استحکام کو مضبوط نہیں رکھ رہے،اسی لیے معیشت کی کمزوری پر بھی قابو پانے میں ناکام ہیں۔چین سے سبق حاصل کیا جا سکتا ہے کہ کم وقت میں بہت ہی ترقی کی منازل طے کر چکا ہے۔چین اتحاد کے لیے کام کر رہا ہے ہو سکتا ہے جلد ہی کامیابی حاصل ہو جائے۔بھارت،روس،چین یا کوئی دوسرے ممالک اگر متحد ہو جائیں تو آسانی سے صورتحال کو کنٹرول کر سکتے ہیں غلطیاں بھی نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔معاشی طور پر مضبوط ممالک زوال پزیر ہو سکتے ہیں،اگر وہ غلطیاں کرنا شروع کر دیں۔جیسے امریکہ اس وقت بہت سے ممالک سے الجھ رہا ہے۔اس جیسے کئی ممالک غلطیاں کر کے اپنی معیشت کو کمزور کر دیں گے۔یہ امکان بھی رد نہیں کیا جا سکتا کہ ہو سکتا ہے امریکہ یا کوئی اور ریاست اپنی پوزیشن لمبے عرصے تک برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جائے۔تبدیلیوں کو بھی روکا نہیں جا سکتا،چاہے کتنی بھی کوششیں کر لی جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں