16

غربت،مہنگائی اور مایوسی کی گرداب میں پھنسا پاکستان تحریر: اللہ نواز خان

غربت،مہنگائی اور مایوسی کی گرداب میں پھنسا پاکستان
تحریر: اللہ نواز خان
allahnawazk012@gmail.com
پاکستان میں ایک طرف غربت بڑھ رہی ہے اور دوسری طرف امارت میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے۔کہیں جھونپڑی تعمیر کرنا مشکل ہے اور کہیں محلات و بنگلے تعمیر کیے جا رہے ہیں۔عام پاکستانی 10 سے 12 گھنٹے کام کر کے بھی اتنا نہیں کماپاتا کہ پیٹ بھرا جا سکے اور کہیں عیاشیاں کی جا رہی ہیں۔پاکستان میں مہنگائی اور بےروزگاری میں بہت اضافہ ہو گیا ہے اور آنے والے دنوں میں مزید اضافے کا امکان ہے۔پاکستان پر قرضوں کا بوجھ دن بدن بڑھ رہا ہے۔آئی ایم ایف یا کسی اور سے قرض کا حصول بہت بڑی کامیابی سمجھا جاتا ہے۔یہ قرض بھاری سود کی عوض حاصل ہوتا ہے اور اس کی ادائیگی قوم کو کرنا پڑتی ہے۔آئی ایم ایف کی طرف سےسخت شرائط بھی پیش کی جاتی ہیں اور وہ شرائط پاکستانیوں کے لیے پریشان کن ہوتی ہیں۔افسوس ناک صورتحال یہ ہے کہ قرض اکثر اوقات کرپشن کی نظر ہو جاتا ہے۔اکثر اوقات قرض کی رقم ایسے منصوبوں پر خرچ کی جاتی ہے جو عوام کے لیے کم فائدہ مند ہوتے ہیں۔قرض اگر پاکستان کی بہتری کے لیے خرچ کیا جائے تو پاکستان اتنا معاشی طور پر مضبوط ہو جائے گا۔یہ رقم اگرآئی ٹی،انڈسٹری یا سستی بجلی بنانےجیسےمنصوبوں پر خرچ کی جائے تویہ بہت ہی بہتر عمل کہلائے گا۔ملک میں بنائی جانے والی پالیسیاں عوام کے لیے بہت کم فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں۔جیسے بجلی کے یونٹس کو سلیب سسٹم میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔روز بروز بجلی پر مختلف قسم کے ٹیکسز لگائے جاتے ہیں۔بجلی مہنگی کرنے پر یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ “بجلی مہنگے ایندھن سے بنائی جا رہی ہے” یا”آئی ایم ایف کی شرط ہے”یا اس طرح کوئی اور بہانہ بنا لیا جاتا ہے۔بجلی مہنگے ایندھن کی بجائے سستے ایندھن سے بھی بنائی جا سکتی ہے۔آئی ایم ایف سے جان کیوں نہیں چھڑائی جاتی؟پاکستان میں معدنیات کے وسیع ذخائر ہیں،ان کو قابل عمل میں لا کر غربت میں کمی کی جا سکتی ہے۔زرعی شعبہ بھی بدحالی کا شکار ہے،اگر خصوصی توجہ دی جائے تو یہ شعبہ بھی پاکستان کے لیے بہت ہی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔پاکستان زرعی ترقی سے کافی زرمبادلہ بھی کما سکتا ہے۔
پاکستان میں مہنگائی کی ایک وجہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنا بھی ہے۔کچھ دن پہلے جنگ کی وجہ سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کیا گیا۔اب جب کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہو گئی ہیں تو پاکستان میں قیمتوں میں معمولی کمی کی گئی۔عوام تک ریلیف پہنچانے کے لیے ضروری ہے کہ قیمتیں کنٹرول کی جائیں۔تیل،گیس سمیت اشیائے خوردو نوش کی قیمتوں میں بھی کمی کرنی چاہیے۔یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر ایک فرد امیر ہے تو وہ اپنی محنت کی وجہ سے ہے۔درست مگر بات محنت کی نہیں،بلکہ نا انصافی کی ہے۔ایک فرد کڑی محنت کرتا ہے لیکن اس کو سسٹم کی وجہ سے کم معاوضہ ملتا ہے۔دوسری طرف غیر معمولی رقم کمائی جا رہی ہوتی ہے اور وہ رقم اگر کسی کی حق تلفی کر کے حاصل نہ کی جائےتو جائز ہے۔میرٹ کی عدم موجودگی بھی مایوسی پیدا کر رہی ہے۔ایک قابل نوجوان جب دیکھتا ہے کہ غیر اہل شخص کوعہدہ یا ملازمت مل گئی ہے،تووہ مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے۔میرٹ کو برقراررکھ کر نوجوانوں کو مایوسی سے نکالا جا سکتا ہے۔سرکاری دفاتر کا حال بھی بہت ہی مایوس کن ہو چکا ہے۔ایک عام آدمی معمولی سے کام کے لیے بھی پریشانی اٹھاتا ہے لیکن بااختیار شخص بڑےسے بڑا کام بھی فوری طور پر کروا لیتا ہے۔جب نوجوان دیکھتے ہیں کہ میرٹ کو پامال کیا جا رہا ہے تو وہ مایوس ہو جاتے ہیں۔مایوسی کسی بھی ملک یا قوم کے لیے بہت ہی خطرناک ہوتی ہے۔اگر قوم کو مایوسی سے نکالا نہ گیا تو مستقبل میں بہت ہی خطرناک مسائل پیداہو جائیں گے۔
سوال یہ ہے کہ کب پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہوگا؟یہ سوال غیر یقینی صورتحال پیدا کر دیتا ہے۔ملک کے نوجوان بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں،صرف ان کو موقع ملنے کی دیر ہے۔یہ کہنا بھی درست ہے کہ پاکستانی قوم میں کاہلی اور سستی بھی بہت زیادہ ہے۔شارٹ کٹ کے چکروں میں محنت سے جی کتراتے ہیں۔یہ بھی ایک اٹل اصول ہے کہ محنت کے بغیر کچھ حاصل نہیں ہوتا۔پاکستانی قوم اگر خود کو شعوری طور پر بیدار کر لے تو ناممکن ہے کہ پاکستان نمایاں حیثیت اختیار نہ کر لے۔محنت سے جی نہیں چرانا چاہیے بلکہ ضرور کرنی چاہیے۔محنتی قوم کسی بھی مشکل کو خاطر میں نہیں لاتی۔حکمرانوں کو بھی چاہیے کہ ایسی پالیسیاں بنائیں،جن سے ہر پاکستانی براہ راست فائدہ اٹھا سکے۔
پاکستان ایک ایٹمی ملک ہونے کے باوجود بھی معاشی لحاظ سے کمزور ہے۔یہ کہنا بھی درست ہے اتنا کمزور بھی نہیں کہ اپنی سلامتی کے لیے دوسروں پر انحصار کرے۔جوکچھ خامیاں ہیں، ان کو دور کیا جا سکتا ہے۔حکمران طبقہ اپنی مراعات میں کمی کر کے ملک کو نازک دور سے نکال سکتا ہے۔دفاع کے لحاظ سے الحمدللہ کوئی خطرہ نہیں۔معاشی صورتحال بہتر کر کے پاکستانی قوم بھی آگے بڑھ سکتی ہے۔بجٹ پیش ہونے والا ہے اورکچھ خبریں وائرل ہو رہی ہیں کہ بجٹ میں بہت سی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کیا جائے گا۔بجلی،گیس سمیت بہت سی اشیاء پر آئی ایم ایف کی طرف سے ٹیکس لگانے کے بارے میں کہا جا رہا ہے۔اب بجٹ میں کتنی اشیاکی قیمتیں بڑھائی جائیں گی،جلد ہی واضح ہو جائے گا۔ملک کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ قرضوں سے نجات حاصل کی جائے۔جب تک ملک قرض پر چلتا رہے گا،ترقی انتہائی مشکل ہے۔میرٹ کے نظام کو بھی مستحکم کرنا ہوگا۔زیادہ دیر کی صورت میں مشکلات بڑھتی جائیں گی۔قوم کو غیر یقینی صورتحال اور مایوسی سے نکالنے کی ضرورت ہے۔حکمران اپنی مراعات میں کمی کر کے قوم کو پیغام دے سکتے ہیں کہ ہم بھی آپ کے ساتھ ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں