9

*مداری پن بند کرو* *تحریر: جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی*

*مداری پن بند کرو*

*تحریر: جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی*

مادرِ ملت سے بغاوت کرنے سے جو الیکشن کے بجائے سلیکشن کا سلسلہ شروع ھوا اور پھر بھٹو سے تقویت پکڑی جو تاحال جاری ھے۔ ان ستر سالوں سے زائد الیکشن کا ڈھونگ اور انتخابات میں بندروں کی طرح اچھلنا کودنا عجیب عجیب حرکتیں کرنا اب بند کردو کیونکہ نئی نسل نئے زمانے کی ھے وہ سمجھ بوجھ عقل و شعور اور جدت سے بہت آگے ہیں انہیں بیوقوف نہیں بناسکتے، اسی بابت سنہ دو ہزار آٹھ میں ایک مسودہ فارمولہ پروجیکٹ نظام میں نے اس وقت کی حکومت کو دیا تھا اس بابت کالم اور مارننگ شو میں بیٹھ کر تفصیلی وضاحت بھی کی تھی پھر وہی بنیاد عمران خان نے جدید خطوط پر استوار الیکشن پر آواز تو اٹھائی مگر عملی اقدام نہ کیا بلکہ یوں کہہ لیجئے کہ سیاسی طور پر دکھاوا کیا۔ یہ مکمل پلان کی کاپیاں وقت کے صدر آصف زرداری وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی سمیت جی ایچ کیو اور چیف جسٹس کو بھی بھیجے تھے۔ یہ ملک مجھے بھی اتنا عزیز اور پیارا ھے جتنا کسی ایک چیف کا ھوگا پاکستان کی ترقی و خوشحالی نظام کی عملی بہتری سے ہی ممکن ھوسکتی ھے یہ کام صرف اسٹبلشمنٹ اور افواج پاکستان ہی کرسکتی ھے کیونکہ سویلین نے پاکستانی ریاست اور عوام کو بہت مایوس کیا ھے۔ عوامی سطح پر جنرل ایوب کا دور، جنرل ضیاء الحق کا دور، جنرل سید پرویز مشرف کا دور ہر جمہوری سویلین دور سے بہتر رھا ھے ان عسکری ادوار میں تحفظ جان، تحفظ مال، تحفظ قوم، تحفظ کاروبار، عدل و انصاف کیساتھ ساتھ بنیادی ضروریات جن میں پانی، بجلی، گیس و زمین قوت خرید میں رہتی تھیں یعنی سستی و مناسب دام پر یہی نہیں بلکہ سونا چاندی ڈالر پیٹرول اور اجناس اشیاء میں سستی اور تو اور نظام کی بہتری کے سبب روپے کی قدر بھی تھی ہماری کرنسی بھارت بنگلہ دیش افغانستان ایران عراق سعودی عرب و عرب امارات و دیگر ممالک سے کہیں بہتر تھی اور تعلیم و صحت ہر غریب و مسکین کی پہنچ میں جبکہ روزگار کے بیشمار مواقع بھی تھے یوں سمجھئے روزگار کی بہتات تھی روزگار لینے والے کم تھے۔ کاروبار ہی منافع بخش ہوتے تھے ایمانداری و دیانتداری ہر محکمہ ہر شعبہ ہر ادارے اور ہر وزرات میں موجود تھی، سزو و جزا کا عمل بھی قرآن و سنت و اخلاقات کے مطابق تھا لیکن جب جب جمہوریت آئی اس میں لوٹ مار کرپشن بدعنوانی بدعملی بد کرداری منشیات گری ٹارگٹ کنک قتل و غارت زناکاری چوری ڈکیتی جرائم و کرائم کی راج دھانی لینڈ گریپنگ عدم تحفظ ظلم و بربریت اقربہ پروری تعصب عصبیت لسانیت مسلکیت اور نجانے کون کون سے ایسے عوامل ہیں جو انسانیت پر صرف دھبہ ہی ہیں ان کا فروغ ہونا بے شرمی و بے حیائی کا راج ہونا ہی جمہوریت سمجھا جاتا ھے کیونکہ جمہوریت دین محمدی ﷺ کے مکمل برخلاف ھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ جہاں دنیا بھر میں آبادی میں اضافہ ہوا ھے وہیں پاکستان میں بھی اضافہ دیکھا گیا ھے پاکستان کو انتظامی سطح میں مزید منقسم ہونے کی شدید ضرورت ھے تاکہ حقوق سمیت ضروریات زندگی کی تقسیم بھی مساوی اور بہتر بنائی جاسکے اس قدرتی ضرورت کو چند غلط لوگ غلط سمیت دکھیلنا چاہتے ہیں اپنی بدنظمی لوٹ مار لاقانونیت اور ناانصافی کو برقرار رکھنے کیلئے اسٹبلشمنٹ اور مقتدر حلقوں اور قوتوں کو بلیک میل کرنے سے باز نہیں آرھے یہ بھول گئے کہ انکی چالیں مکاریاں عیاریاں انکے لوگ بھی سمجھ چکے ہیں اب انکے چیخنے چلانے سے کچھ حاصل نہیں بہتر یہی ھے کہ انہیں بھی وقت و حالات کو سمجھ لینا چاہئے وگرنہ آہنی دیوار سے ٹکرانے سے دیوار کا تو شاید کچھ نقصان نہ ہو البتہ انکا سر سلامت نہ رھے اسی لئے عقل مند ہوش اور شعور سے سمجھتے ہیں اور بولتے ہیں۔۔۔۔!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں