11

تشدداوراس کاانسداد تحریر:اللہ نوازخان

تشدداوراس کاانسداد
تحریر:اللہ نوازخان
allahnawazk012@gmail.com
تشدد ایک سنگین جرم ہے اور اس سے معاشرہ عدم استحکام کا شکار ہو جاتا ہے۔تشدد کا مفہوم یہ ہے کہ کسی کو جسمانی،ذہنی یا جذباتی نقصان پہنچایا جائے۔مار پیٹ،دھمکیاں دینا،طعنے دینا،بلیک میل کرنایا کسی کی توہین کرنا،یہ سب تشدد کے زمرے میں آتے ہیں۔صنفی بنیادوں پر بھی تشدد کیا جاتا ہے،جیسے کہ خواتین،بچوں اور کمزور طبقات پر تشدد کرنا۔اب سوال یہ ہے کہ تشدد کیوں کیا جاتا ہے؟تشدد کرنے کی کچھ وجوہات بھی ہیں۔عدم برداشت کے علاوہ تعلیم اور شعور کی کمی کی وجہ سے تشدد کیا جاتاہے۔اختلاف رائے رکھنے والوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔کم شعور کی وجہ سے اپنی طاقت کا اظہار کرنے کے لیے بھی کمزوروں پر تشدد کیا جاتا ہے۔معاشی مسائل اور غربت کی وجہ سے بھی تشدد اکثر و بیشتر کیا جاتا ہے. کچھ نفسیاتی مسائل بھی ہوتے ہیں, جن کی وجہ سے تشدد کیا جاتا ہے۔تشدد کو روکنے کے لیے سخت قسم کی قانون سازی کی جائے۔تشدد کرنے والوں کو سخت سےسخت سزائیں دی جائیں،تاکہ معاشرے میں اس کی حوصلہ شکنی ہو۔گھریلو تشدد بھی عام ہو رہا ہے،اس کو بھی روکنے کی سخت ضرورت ہے۔بہت سی خواتین کو جہیز کے نام پر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔اس کے علاوہ دیگر کچھ وجوہات ہیں،جن کی وجہ سے گھریلو تشدد عام ہے۔تشدد سے جسمانی اور ذہنی صحت تباہ ہو جاتی ہے۔تشدد کو روکنے کے لیے شعور کو بیدار کرنےکے علاوہ سخت قوانین کا نفاذ بھی ہونا چاہیے۔جو تشدد کا شکار ہوتے ہیں ان کی بحالی ضروری ہے تاکہ وہ بھی معاشرے میں اپنی زندگی بہتر گزار سکیں۔
اسلام میں تشدد کو سخت ناپسند کیا گیا ہے۔اللہ تعالی نے تمام انسان برابر بنائے ہیں اور کسی کو تشدد کی اجازت نہیں۔اللہ تعالی انسانی جان کو بہت ہی حرمت دیتے ہیں۔مسلمان کے علاوہ کافر کی جان کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالی ہے”جس نے کسی انسان کو بغیر اس کے کہ اس نے کسی(دوسرے) جان کا خون کیا ہو یا زمین میں فتنہ و فساد پھیلایا ہو،قتل کر ڈالا،تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر ڈالا اور جس نے ایک کی جان بچائی تو گویا اس نے تمام انسانوں کو زندہ کر دیا”(المائدہ.32) سورۃ المائدہ کی آیت نمبر 32 سے واضح علم ہوتا ہے کہ کسی بھی بےگناہ انسان پر ظلم کر کے قتل نہ کیا جائے۔اسلام صرف قتل کرنے سے نہیں روکتا بلکہ دوسروں کا مال ناحق طریقے سے لینے سے بھی منع کرتا ہے۔قرآن میں ہے”اے ایمان والو! اپنے مال آپس میں باطل (ناحق) طریقے سے نہ کھاؤ”(النساء.29) مال ناحق طریقے سے بھی لینا تشددکی ایک قسم ہے کیونکہ جس کا مال لیا جا رہا ہو اس کو ذہنی اذیت پہنچتی ہے۔اسلام نے بغیر کسی وجہ کے لڑنے سے منع کیا ہے۔ارشادباری تعالی ہے”اور اللہ کی راہ میں ان سے لڑو جو تم سے لڑیں اور زیادتی نہ کرو،بے شک اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا”(البقرہ.190) اللہ تعالی نے تشدد روکنے کے لیے حکم جاری کیا ہے کہ اگر دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرا دیا کرو۔قرآن میں ارشاد باری تعالی ہے”اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑائی کریں تو ان کے درمیان صلح کرا دیا کرو”(الحجرات.9) اسلام نے تو یہ بھی حکم دیا ہے کہ کسی کا زبردستی مذہب بھی تبدیل نہ کیا جائے۔قرآن کے مطابق”دین کے معاملے میں زبردستی نہیں”(البقرہ 256) اسلام تشدد کومکمل طورپر روکنے کا حکم دیتا ہے۔
احادیث میں بھی تشدد اور ظلم کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ایک حدیث کے مطابق”اللہ تعالی کا فرمان ہے! اے میرے بندو میں نے ظلم کو اپنے اوپر بھی حرام کر دیا ہے اور تمہارے درمیان بھی حرام قرار دیا ہے لہذا تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو”(مسلم) ایک حدیث کے مطابق”جو دوسروں پر رحم نہیں کرتا،اللہ اس پر بھی رحم نہیں کرتا”(بخاری) حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے انسانوں کے علاوہ جانوروں پر بھی ظلم اورتشدد کرنے سے منع کیا ہے۔حدیث کے مطابق،”آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نےکسی بھی جانور کے چہرے پر مارنے یا داغنے (علامت کے لیے جلانے) سے سخت منع فرمایا”(مسلم) ایک اور حدیث کے مطابق”ایک عورت کو اس لیے عذاب دیا گیا کہ اس نے ایک بلی کو قید کر کے رکھا یہاں تک کہ وہ بھوک سے مر گئی. اس نے نہ تو اسے کھانے کو کچھ دیا اور نہ ہی چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھاسکے”(بخاری)
اقوام متحدہ کے بین الاقوامی قانون کےتحت ہر قسم کا تشدد (جسمانی و ذہنی) مکمل طور پر غیر قانونی اور ممنوع ہے.UDHR کے 1948 میں منظور ہونے والے اعلامیہ کے آرٹیکل 5 کےتحت کسی بھی شخص کو تشدد یا ظالمانہ،غیر انسانی اور تذلیل آمیز سلوک کا نشانہ بنانا عالمی سطح پر ایک سنگین جرم ہے۔26 جون کو ہر سال اقوام متحدہ کی جانب سے تشدد کے متاثرین کی حمایت کا عالمی دن منایا جاتا ہے تاکہ اس لعنت کے خلاف شعور بیدار کیا جائے۔
تشدد کی ایک اور بھی خوفناک صورت ہے اور وہ ہے حکومتوں کا اپنےشہریوں پر تشدد۔بہت سی حکومتیں تشدد کرتی ہیں تاکہ شہریوں کو تابع رکھا جا سکے۔ناجائز قسم کے ٹیکسز شہریوں پر عائد کر دیے جاتے ہیں۔شہری ڈر کی وجہ سے اپنے حقوق حاصل نہیں کر سکتے۔قید و بند کے علاوہ قتل تک کر دیا جاتا ہے۔طاقتور ریاستیں بھی کمزور ریاستوں کو اپنے تابع کر لیتی ہیں اور کمزور ریاستوں کے شہریوں کے حقوق کی پامالی کی جاتی ہے اور ان پر تشدد کیا جاتا ہے۔جنگی قیدیوں کو ظالمانہ سلوک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔جنسی،زہنی،جسمانی اور توہین آمیز تشدد کے ذریعے قیدیوں کو شدید اذیت دی جاتی ہے۔بین الاقوامی قوانین کو پس پشت ڈال کر مظلوموں کو سخت ترین تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ہر قسم کا تشدد ممنوع ہے،چاہے حکومت کا اپنے کسی شہری پر ہو،چاہے ایک ریاست کا دوسری ریاست کے شہریوں پر ہو یا گھریلو تشدد ہو۔تشدد کو روکنے کے لیے عالمی برادری کو مل کر کوششیں کرنا ہوں گی۔معاشرے کی بہتری کے لیے ضروری ہےکہ تشدد کا خاتمہ کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں