12

ہارون آباد/(حافظ ثاقب محمود)معروف فوک گلوکار و شاعر تنویر وارثی مادری پنجابی زبان و ادب کے فروغ کے لئے ہمیشہ ہمہ تن کوشاں رہتے ہے

ہارون آباد/(حافظ ثاقب محمود)معروف فوک گلوکار و شاعر تنویر وارثی مادری پنجابی زبان و ادب کے فروغ کے لئے ہمیشہ ہمہ تن کوشاں رہتے ہے
ہارون آباد (تحصیل رپورٹر ) ڈاہرانوالہ کے نواحی گاوں 177/ مراد سے تعلق رکھنے والے پنجابی زبان کے معروف شاعر اور فوک گلوکار چوہدری تنویر احمد وارثی پاکستان ٹیلی ویژین اسلام آباد اور ریڈیو پروگراموں میں گلوکاری کے ساتھ ساتھ پنجابی ادبی شاعری کی محافل میں اپنی غزلوں سے بھی سامعین کو لطف اندوز کرتے ہیں تنویر وارثی جو کہ اب سرکاری ملازمت سے ریٹائر منٹ کے بعد راول پنڈی میں مقیم ہے ریڈیو اور اپنی مادری پنجابی زبان و ادب کے فروغ کے لئے ہمیشہ ہمہ تن کوشاں رہتے ہے مادری زبان سے بے پناہ لگاوں کی وجہ سے آپ نہایت سادہ اسلوب میں شعر پڑھتے ہے سننے والے سامعین پر سحر طاری ہو جاتا ہے وارثی صاحب کی شاعری کا محور عام آدمی کی زندگی میں آنے والے حالات واقعات پنجابی شعروں کی صورت میں منفرد انداز بیان کرنا ان کو اپنے ہم عصر شاعروں سے ممتاز کرتا ہے ملک کی معروف ادبی تنظیموں کے باقاعدہ ممبر ہیں پنجابی غزلوں اور شعروں پر مشتمل ان کی کتاب رونمائی بھی آخری مراحل میں ہے
وارثی صاحب کی غزل کے چند اشعار
انج دے عادی لوکی ہو گئے دکھاں دے
یاد کدی نئیں آندے ویلے سکھاں دے
کوئی نئیں شکوہ سانوِں یار خزاواں تے
وچ بہاراں پتے جھڑ گئے رکھاں
دولت ہووے دشمن نیڑے آجاندے نیں
چھڈ جاندے نے سجن ویلے دکھاں دے
سجن بن کے پھٹ کلیجے لا گئے نئیں
گِلی لکڑ وانگوں ہنڑ پئیے تکھاں دے
اوکھے ویلے کنڈ تنویر وکھاں جاندے نئیں
جہیڑے ہوندے بندے چنگیاں کوکھاں دے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں