75

*وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگ زیب خان کھچی سے رکن قومی اسمبلی احمد سلیم صدیقی کی اردو لغت بورڈ کراچی میں ملاقات*

*وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگ زیب خان کھچی سے رکن قومی اسمبلی احمد سلیم صدیقی کی اردو لغت بورڈ کراچی میں ملاقات*

*اردو لغت بورڈ جیسے علمی و ادبی ادارے ہماری قومی شناخت ہیں، ان کو مستحکم بنانا ہماری ذمے داری ہے، اورنگ زیب خان کچھی*

*ادبی ادارے قومی یکجہتی کی تعلیم دیتے ہیں، ان کے بارے میں مالی منفعت کے پیمانے پر نہیں سوچنا چاہیے، احمد سلیم صدیقی*

(رپورٹ: جاوید صدیقی) ماہ جون کے آغاز میں وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگ زیب خان کھچی سے رکن قومی اسمبلی احمد سلیم صدیقی نے ندیم ہاشمی اور عمیر علی انجم کے ہمراہ اردو لغت بورڈ کراچی میں ملاقات کی۔ رکن قومی اسمبلی اور ان کے ہمراہ وفد کی آمد پر ڈائریکٹر جنرل ادارہ فروغ قومی زبان پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر اور انچارچ اردولغت بورڈ محمد طارق بن آزاد اور رفقائے کار نے مہمانوں کا استقبال کیا اور پھول پیش کیے۔ ملاقات کا مقصد قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کے زیر نگرانی فعال علمی و ادبی اداروں بالخصوص کراچی میں موجود دفاتر کی کارکردگی پر خیالات کا تبادلہ اور باہمی تعاون کا فروغ تھا۔ اس موقع پر وفاقی سیکریٹری برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اسد رحمان گیلانی، ڈائریکٹر جنرل ادارہ فروغ قومی زبان پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر، انچارج اُردو لغت بورڈ محمد طارق بن آزاد، ملک ذو النو رین خان ،قائد اعظم مزار مینجمنٹ بورڈ کے سربراہ عبد العلیم شیخ و دیگر بھی موجود تھے۔ وزیر محترم کے حکم پر انچارج اُردو لغت بورڈ نے ادارے کی کارکردگی پر پریزینٹیشن دی، جس میں حاضرین کو اردو لغت نستعلیق ایڈیشن کی تین جلدوں کی اشاعت، ادارے کے پریس کی بحالی اور اس پر طباعتی سرگرمیوں کا آغاز، لغت نویسی میں استعمال ہونے والے اسنادی کارڈز کی ڈجیٹلائزیشن کے منصوبے کی تکمیل اور دیگر کامیابیوں سے آگاہ کیا گیا۔ ڈائریکٹر جنرل ادارہ فروغ قومی زبان پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر نے ادارہ فروغ قومی زبان، اسلام آباد کے زیر اہتمام مختلف ممالک کے سربراہان کی کتب کے اردو میں تراجم،پاکستان کے کرنسی نوٹوں پر اردو املا کی درستی اور دیگر خدمات کی تفصیل بھی پیش کی۔ وفاقی وزیر اورنگ زیب خان نے مہمانوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اردو لغت بورڈ جیسے ادارے ہماری قومی شناخت ہیں، انکو مستحکم بنانا ہماری ذمے داری ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ان اداروں سے تعاون کرنا بہت بڑی قومی خدمت ہے۔ رکن قومی اسمبلی احمد سلیم صدیقی نے اپنی گفتگو میں کہا کہ علمی و ادبی ادارے قومی یکجہتی کی تعلیم دیتے ہیں، انکے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرتے ہوئے مالی منفعت کے پیمانے پر نہیں سوچنا چاہیے، ان اداروں کو بنانے میں قربانیاں لگی ہیں، انکو سنبھالنے والے ہاتھ پیدا کرنا ضروری ہے۔ علم و ادب کے ذریعے ہی انتشار و خراب حالات پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ وفاقی سیکریٹری اسد رحمانی گیلانی نے احمد سلیم صدیقی اور ان کے ہمراہ تشریف لانے والے احباب کو دعوت دی کہ وہ ادارے میں ہونے والی تقریبات کی سرپرستی کریں تاکہ اہل دانش، طلبہ ، سیاسی و سماجی شخصیات بہتر انداز میں ادارے سے استفادہ کرسکیں اور اسکی کارکردگی سے واقف ہوں۔ ادارے کے مستقبل کے منصوبوں میں ایک تعارفی ڈاکیومنٹری کی تیاری کے ذکر پر معروف سماجی کارکن اور پاکستان ہیرٹیج فاونڈیشن یو ایس اے سے وابستہ ندیم ہاشمی نے رضاکارانہ طور پر اس کام کے لیے اپنی خدمات پیش کیں اور ادارے کی زیر نگرانی مطلوبہ ڈاکیومینٹری کی بین الاقوامی معیار پر تیاری کے لیے مکمل ذمے داری قبول کی۔ معروف شاعر عمیر علی انجم نے کراچی میں ادبی اداروں کو شعرا اور ادیبوں کی تقاریب کے سلسلے میں فعال کرنے کے لیے وزیر محترم سے درخواست پیش کی اور رضاکاروں کی پوری ٹیم کے تعاون کا یقین دلایا۔ ملاقات کے اختتام پر وفاقی وزیر نے ادارے کی جانب سے رکن قومی اسمبلی اور ندیم ہاشمی کو اردو لغت نستعلیق ایڈیشن کی دو جلدیں اور سووینئر کے طور پر کتابی صورت میں تیار کردہ یو ایس بی کا تحفہ پیش کیا جب کہ ادارہ فروغ قومی زبان کے ڈائریکٹر جنرل نے وفاقی وزیر، وفاقی سیکریٹری، رکن قومی اسمبلی اور مہمانان گرامی کی موجودگی میں اردو لغت نستعلیق ایڈیشن کی نو طبع شدہ جلد نمبر تین بھی پیش کی۔ اس موقع پر شاعر عمیر علی انجم نے اپنا شعری مجموعہ’’کوئی دیکھتا‘‘ اور معروف ثنا خوان اور مدیر’’ نعت نیوز‘‘ زکریا شیخ اشرفی نے ابن صفی کی تحریر کردہ عمران سیریز کا کتابی صورت میں چھتیس جلدوں پر شائع شدہ مکمل سیٹ وزیر محترم اورنگ زیب خان کھچی کی خدمت میں تحفتاََ پیش کیا۔ رخصت سے قبل ادارے کے باغیچے میں رکن قومی اسمبلی احمد سلیم صدیقی اور ندیم ہاشمی نے یادگاری پودا لگایا اور علمی و ادبی اداروں کے استحکام کے لیے دعا بھی کی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں