11

علم و ادب کی درخشاں شخصیت: ڈاکٹر عظمیٰ زریں نازیہ کی شریف اکیڈمی لٹریری اسکالر ایوارڈ کےلیے نامزدگی

علم و ادب کی درخشاں شخصیت: ڈاکٹر عظمیٰ زریں نازیہ کی شریف اکیڈمی لٹریری اسکالر ایوارڈ کےلیے نامزدگی

خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف

علم، تحقیق اور ادب کسی بھی مہذب معاشرے کی فکری بنیادیں ہوتے ہیں، جبکہ وہ شخصیات جو اپنی علمی کاوشوں، تحقیقی خدمات اور ادبی تخلیقات کے ذریعے قوموں کی فکری رہنمائی کرتی ہیں، تاریخ میں ہمیشہ عزت و احترام کے ساتھ یاد رکھی جاتی ہیں۔ ایسی ہی ایک ممتاز علمی و ادبی شخصیت ڈاکٹر عظمیٰ زریں نازیہ ہیں، جنہیں انٹرنیشنل ادبی تنظیم شریف اکیڈمی جرمنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے متفقہ فیصلے کے مطابق “شریف اکیڈمی لٹریری اسکالر ایوارڈ” سے نوازنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ اعزاز نہ صرف ان کی علمی و ادبی خدمات کا اعتراف ہے بلکہ پاکستان کے علمی اور ادبی حلقوں کے لیے بھی باعثِ فخر ہے۔
لاہور سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر عظمیٰ زریں نازیہ ایک نامور ماہرِ تعلیم، محقق، شاعرہ اور دانشور ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی کے تاریخی اور ممتاز ادارے اورینٹل کالج میں بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر اپنی تدریسی خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ فارسی زبان و ادب کے میدان میں ان کی علمی مہارت مسلمہ ہے۔ انہوں نے فارسی نعتیہ ادب کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور اس میدان میں اپنی تحقیق کے ذریعے نمایاں مقام حاصل کیا۔
ڈاکٹر عظمیٰ زریں نازیہ کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ تدریس کے ساتھ ساتھ علمی و ادبی سرگرمیوں میں بھی بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں۔ بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی لاہور میں بطور گیسٹ اسپیکر اور پینلسٹ ان کی شرکت طلبہ اور محققین کے لیے علم و آگہی کا ذریعہ بنتی ہے۔ ان کے لیکچرز اور خطابات میں علمی گہرائی، فکری وسعت اور تحقیقی بصیرت نمایاں نظر آتی ہے۔
فکرِ اقبال کے فروغ کے لیے بھی ان کی خدمات قابلِ تحسین ہیں۔ وہ فکرِ اقبال فاؤنڈیشن کی وائس پریزیڈنٹ کی حیثیت سے علامہ محمد اقبالؒ کے افکار اور نظریات کو نئی نسل تک پہنچانے کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اقبال کا پیغام محض ایک شاعر کا پیغام نہیں بلکہ ایک فکری انقلاب کی بنیاد ہے جو نوجوان نسل کو خودی، عمل اور کردار کی بلندیوں تک لے جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر عظمیٰ زریں نازیہ کا تعلق صرف قومی سطح تک محدود نہیں بلکہ ان کی علمی خدمات بین الاقوامی سطح پر بھی تسلیم کی جا چکی ہیں۔ وہ حسان بن ثابت نعت ریسرچ سنٹر منہاج القرآن اور دارالترجمہ منہاج القرآن کی رکن ہیں۔ اس کے علاوہ جمہوری اسلامی ایران کے معتبر علمی ادارے فرہنگستان زبان و ادب فارسی (اکیڈمی آف لیٹرز ایران) سے بھی وابستہ ہیں، جو ان کی علمی قابلیت اور تحقیقی مقام کا واضح ثبوت ہے۔
سال 2023ء میں اکیڈمی آف لیٹرز ایران کی خصوصی دعوت پر ان کا ایک ماہ کا سرکاری دورۂ ایران ان کی علمی حیثیت کا بین الاقوامی اعتراف تھا۔ اس دوران انہوں نے بطور ممبر ایڈوائزری بورڈ “دانشنامہ شبہ قارہ” (شعبۂ انسائیکلوپیڈیا) کی چھٹی جلد کی تیاری میں علمی و تحقیقی خدمات انجام دیں۔ یہ اعزاز کسی بھی پاکستانی محقق کے لیے قابلِ فخر ہے کہ اسے ایک بین الاقوامی علمی منصوبے میں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ملا۔
ادبی میدان میں بھی ڈاکٹر عظمیٰ زریں نازیہ کی خدمات بے مثال ہیں۔ ان کا فارسی شعری مجموعہ “نوائے زریں” علمی و ادبی حلقوں میں پذیرائی حاصل کر چکا ہے۔ اس مجموعے کو اکیڈمی آف لیٹرز ایران کے سیکریٹری نے 2021ء میں تہران سے اعزازی طور پر شائع کروایا، جو ان کے ادبی مقام کا بین الاقوامی اعتراف ہے۔ اسی طرح سلطان باہوؒ کے فارسی اشعار میں عرفانی اصطلاحات پر ان کی تحقیقی کتاب بھی 2023ء میں تہران سے شائع ہوئی، جس نے صوفیانہ ادب اور فارسی تحقیق کے میدان میں نئی جہتیں متعارف کروائیں۔ ان کا اردو شعری مجموعہ بھی زیرِ اشاعت ہے جس کا ادبی حلقوں کو بے چینی سے انتظار ہے۔
ڈاکٹر عظمیٰ زریں نازیہ کی شاعری اور نثر میں معرفتِ الٰہی، عشقِ رسول ﷺ، تصوف، روحانیت اور اخلاقی اقدار کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ ان کے کلام میں فکری گہرائی، ادبی لطافت اور روحانی بصیرت نمایاں طور پر جھلکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریریں اور خطابات قارئین اور سامعین کے دلوں پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔
شریف اکیڈمی جرمنی کے چیف ایگزیکٹو شفیق مراد نے ڈاکٹر عظمیٰ زریں نازیہ کو مبارکباد دیتے ہوئے بجا طور پر کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بے پناہ علمی اور تخلیقی صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ اردو اور فارسی دونوں زبانوں پر ان کی یکساں دسترس، ان کی شاعری، نثر اور علمی خطابات میں علم و عرفان کی روشنی اور روحانی بصیرت ان کی شخصیت کو منفرد بناتی ہے۔
بلاشبہ ڈاکٹر عظمیٰ زریں نازیہ عصرِ حاضر کی اُن ممتاز علمی و ادبی شخصیات میں شامل ہیں جو اپنی صلاحیتوں، تحقیق، تدریس اور تخلیقی خدمات کے ذریعے نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر اردو اور فارسی ادب کا وقار بلند کر رہی ہیں۔ شریف اکیڈمی لٹریری اسکالر ایوارڈ کا حصول ان کی علمی زندگی کا ایک اہم سنگِ میل ہے اور اس بات کا اعتراف بھی کہ علم، تحقیق اور ادب کے میدان میں ان کی خدمات قابلِ قدر اور لائقِ تحسین ہیں۔
یہ اعزاز یقیناً نوجوان نسل، بالخصوص خواتین محققین اور ادیبوں کے لیے ایک روشن مثال ہے کہ محنت، لگن اور علمی دیانت کے ذریعے قومی اور بین الاقوامی سطح پر نمایاں مقام حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر عظمیٰ زریں نازیہ کی کامیابیاں مستقبل میں بھی علم و ادب کے متلاشیوں کے لیے مشعلِ راہ بنی رہیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں