16

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک* *عنوان: اللہ کی سب سے اہم مخلوقات جن و انس* *کالمکار: جاوید صدیقی*

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

*عنوان: اللہ کی سب سے اہم مخلوقات جن و انس*

*کالمکار: جاوید صدیقی*

اللہ تبارک تعالیٰ نے پوری کائنات ارض و سماں میں دو ہی ایسی مخلوق پیدا کی ہیں جو اپنے اعمال کی جوابدہ ہونگی۔ اچھے اعمال کے سبب اللہ کا قرب و دیدار اور جنت نصیب کی جائیگی جبکہ برے اعمال کے نتیجے میں شیطان ابلیس اور اسکے چیلوں کیساتھ دوزخ کے عذاب میں مبتلا رہیں گے۔ الہٰمی کتب میں سب سے معتبر و مقدس قرآن پاک ھے جس کی حفاظت کا ذمہ اللہ واحد لاشریک نے خود ہی لیا ھے جو تاقیامت تک رہیگا۔ عالمِ ارواح: اسلامی تعلیمات کے مطابق، دنیا میں بھیجے جانے سے پہلے تمام انسانوں کی روحیں اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ پیدا فرمائی تھیں، اس عالم میں اللہ تعالیٰ نے تمام ارواح سے پوچھا تھا: “الست بربکم؟” (کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟) اسکے جواب میں تمام روحوں نے اقرار کیا تھا: “بلیٰ” (ہاں، آپ ہمارے رب ہیں)۔ اسی عہد و پیمان کو ‘میثاقِ الست’ کہا جاتا ہے۔ سب سے پہلے حضور نبی اکرم صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم کی رُوح پُرنُور کو پیدا کِیا گیا اور اسکو اربوں سال اللّٰه عزوَجل کے قُرب میں رکھا گیا۔ آپ صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم کی اس رُوح کو تعیّنِ اوّل کہا جاتا ہے اور اس تعیّنِ اوّل سے ہی تمام مخلوقات کو پیدا کِیا گیا۔ تمام اِنسانوں کی رُوحوں کو ایک گُنبد نما جگہ میں اس طرح رکھا گیا جس طرح چھتّے میں شہد کی مکھیاں پیدا ہوتی ہیں، ہر خانے میں ایک رُوح ارب سال رہی اور اس کے بعد کسی رُوح کو دُنیا میں آنے کا حُکم ہوتا ہے۔ تب وہ دُنیا کی طرف سفر کرتی ہے اور اپنے والد کی صلب میں سے ہوتی ہوئی ماں کے رحم میں نطفہ قرار پاتی ہے اور پِھر دُنیا میں آتی ہے۔ یہاں یہ بات ذہن نشین کرنے کے قابل ہے کہ رُوحیں جب عالمِ ارواح میں اپنے گھر میں قیام پذیر تھیں اس وقت ان کی یہ کیفیت تھی کہ وہ ہمہ وقت اپنے خالق اور محبوبِ حقیقی یعنی اللّٰه عزوَجل کی طرف نظریں جمائے رہتی تھیں کیونکہ وہاں انکو دنیوی آلائشوں میں سے کسی آلائش سے واسطہ یا سروکار نہ تھا۔ اس بات سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ عالمِ ارواح میں تمام رُوحوں کی توجہ اللّٰه عزوَجل کی طرف مرکوز تھی چنانچہ بنا بریں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اِنسان کی اصل تو پلید نہ تھی اِنسان اس حالت میں پاکیزہ اور طاہر تھا۔ عالمِ دنیا سے مراد وہ موجودہ مادی اور جسمانی کائنات ہے جس میں انسان زندگی گزارتا ہے۔ اسے اسلامی اور صوفیانہ اصطلاح میں عالمِ ناسوت بھی کہا جاتا ہے، جو عالمِ ارواح اور عالمِ برزخ کے درمیان انسان کا پڑاؤ ہے۔ اس کی بنیادی خصوصیات میں ٹھوس مادہ، وقت اور حواس کی دنیا ہے۔ یہاں ہر چیز پیدائش، بڑھوتری، اور فنا کے مراحل سے گزرتی ہے ہم انسان کے لیے امتحان اور عمل کا گھر ہے۔ یہاں کی گئی نیک یا بد اعمالی کی بنیاد پر انسان کا اگلا سفر طے ہوتا ہے۔ یہ عالم ابدی (ہمیشہ رہنے والی) زندگی نہیں ہے، بلکہ ایک عارضی اور محدود ٹھکانہ ہے۔ اس دنیا کے بعد انسان عالمِ برزخ (موت کے بعد کا عالم) اور پھر عالمِ آخرت (حشر اور دائمی زندگی) میں داخل ہوتا ہے۔ عالمِ قبر یعنی عالمِ لحد: عالمِ قبر (جسے عالمِ برزخ بھی کہتے ہیں) دنیا کی زندگی اور روزِ قیامت کے درمیان کا ایک درمیانی مرحلہ ہے، یہ موت کے وقت سے شروع ہوتا ہے اور حشر تک باقی رہتا ہے۔ یہاں انسان کو اس کے اعمال کے مطابق جزا یا سزا ملتی ہے، اسلامی تعلیمات کے مطابق اس عالم کی اہم تفصیلات کچھ اس طرح سے ہیں۔ برزخ کا مفہوم: لغوی اعتبار سے برزخ دو چیزوں کے درمیان حائل ہونے والی رکاوٹ کو کہتے ہیں، یہ دنیا اور آخرت کے درمیان ایک پردہ ہے۔ سوال و جواب: میت کو دفنانے کے بعد دو فرشتے (منکر اور نکیر) آتے ہیں اور اس سے رب، دین اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ عذاب و راحت: اچھے اعمال والوں کے لیے قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دیا جاتا ہے، جبکہ برے اعمال کرنے والوں کو سزا کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ روح کا ٹھکانہ: انسان کے مرنے کے بعد روح عالمِ برزخ میں چلی جاتی ہے، نیک روحیں “علیین” میں اور بد روحیں “سجین” میں رکھی جاتی ہیں۔ فشارِ قبر: حدیث کے مطابق قبر ہر انسان کو (مومنین کو شفقت سے اور نافرمانوں کو سختی سے) دباتی ہے۔
روزِ محشر (روزِ قیامت یا یومِ حساب) وہ حتمی دن ہے جب تمام انسانوں کو دوبارہ زندہ کرکے اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش کیا جائے گا، اس دن ہر انسان کو اس کی نیکیوں اور برائیوں کا بدلہ دیا جائے گا، اور انکے اعمال کا حتمی فیصلہ سنایا جائے گا۔ اس دن ہر انسان کو اس کی نیکیوں اور برائیوں کا بدلہ دیا جائے گا، اور ان کے اعمال کا حتمی فیصلہ سنایا جائے گا۔ یومِ جزا و حساب: یہ وہ وقت ہے جب انسانوں کے ہر چھوٹے بڑے عمل کا حساب کتاب ہوگا اور میزان (ترازو) میں اعمال تولے جائیں گے۔ شفاعت: اسلامی روایات کے مطابق اس روز انبیاء اور خاص طور پر حضرت محمد ﷺ گنہگاروں کی بخشش کے لیے شفاعت فرمائیں گے۔ پل صراط: تمام انسانوں کو ایک پل سے گزرنا ہوگا، جس پر عمل کے حساب سے فیصلہ ہوگا کہ کون کامیابی سے پار ہوتا ہے یا جہنم میں گرتا ہے۔ جنت اور دوزخ: حساب کتاب مکمل ہونے کے بعد نیک لوگوں کو ہمیشہ کی جنت اور برے لوگوں کو جہنم میں بھیج دیا جائے گا۔ دوزخ یا جہنم وہ مقام یا جگہ ہے جس کا تذکرہ مختلف مذاہب، خاص طور پر ابراہیمی مذاہب (اسلام، عیسائیت اور یہودیت) میں ملتا ہے۔ یہ بنیادی طور پر گنہگاروں، نافرمانوں اور برے اعمال کرنے والوں کی سزا اور عذاب کی جگہ ہے۔ مقامِ عذاب: دوزخ آگ کا ایک بہت بڑا اور خوفناک مقام ہے جہاں بداعمال لوگوں کو ان کے گناہوں کی سزا دی جائے گی۔ سات طبقات: اسلامی روایات کے مطابق دوزخ کے سات مختلف درجے یا حصے ہیں جن میں الگ الگ نوعیت کا عذاب دیا جائے گا۔ ان کے نام جہنم، لظیٰ، الحطمہ، سقر، السعیر، الجحیم اور ہاویہ ہیں۔ دروازے: اس کے سات دروازے ہیں اور ہر دروازہ مختلف قسم کے گنہگاروں کے لیے مخصوص ہے۔
کھانے پینے کی اشیاء: دوزخ میں رہنے والوں کو پینے کے لیے پیپ اور گرم پانی دیا جائے گا، جبکہ ان کی خوراک کانٹے دار درخت (زقوم) ہوگی۔ جنت اسلام میں اس ابدی، پُرسکون اور ہمیشہ قائم رہنے والی روحانی و جسمانی عیش و آرام کی جگہ کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک اور فرمانبردار بندوں کو ان کے ایمان اور اچھے اعمال کے صلہ میں عطا کرنی ہے۔ ناقابلِ تصور نعمتیں: حدیثِ قدسی میں ہے کہ جنت میں وہ بے مثال اور لاجواب نعمتیں ہیں جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی انسان کے دل میں ان کا خیال گزرا۔ خوبصورت تعمیر: اس کی دیواریں سونے اور چاندی کی اینٹوں اور مشک کے گارے سے بنی ہیں، اور فرش موتیوں اور یاقوت کا ہے۔ دروازے: جنت کے کل آٹھ دروازے ہیں جن سے اہل ایمان اپنے اپنے اعمال کے لحاظ سے داخل ہوں گے۔ ان کے نام باب الصلاۃ، باب الجہاد، باب الصدقہ اور باب الریان وغیرہ ہیں۔ درجات (مراحل): جنت کے سو درجات ہیں اور ہر درجے کے درمیان زمین اور آسمان جتنا فاصلہ ہے، سب سے اعلیٰ اور بلند ترین مقام جنت الفردوس ہے۔ جنت کے نام: قرآن و احادیث میں جنت کے مختلف نام اس کی کیفیات اور درجات کے حساب سے آئے ہیں، جیسے جنۃ الفردوس (سب سے اعلیٰ باغ) دارالسلام (سلامتی اور امن کا گھر) جنۃ عدن (ہمیشگی کا گھر) دارالقرار (ٹھہرنے کی جگہ) جنت کا ذکر قرآنِ مجید میں تقریباً ایک سو سینتالیس بار آیا ہے۔ اللہ رب العزت نے قرآن میں مومنین کو خوشخبری دی ہے کہ جنت کے باغات کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور وہاں انہیں پرسکون ماحول، بہترین ساتھی اور وہ سب کچھ میسر ہوگا جو ان کا دل چاہے گا ۔۔۔۔ معزز قارئین!! آج امت مسلمہ بلخصوص پاکستانی قوم اس دنیا کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھی ھے جبکہ رب العزت نے بار بار حضرت انسان کو متنبہ کیا ھے کہ تم اس دار فانی میں عارضی وقت کیلئے اتارے گئے ہو تاکہ تمہاری آزمائش کی جائے اور کامیبی کی صورت میں بیش بہا انعامات رحمتیں برکتیں اور جنت عطا کی جائے جو ایک بہترین ٹھکانہ ھے اور اگر اللہ و رسول ﷺ کے حکم کی روگرانی کی نافرمانی کے مرتکب ہوئے تو ایسے سزا عائد کردی جائیگی جو تم تصور بھی نہیں کرسکتے ان میں رب کا جلال دنیا کی محبت خودغرضی لالچ حرص و متاع نفرت دشمنی کینہ پروری بغض عداوت اورمنافقت بھر جائیگی اور برے سے برے اعمال میں گھر جائیں گے ایسے بندوں کیلئے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دوزخ کا عذاب رکھا ھے اور یہی جھوٹے فاسق فاجر منافق ہی دوزخ کا اصل ایدھن ہونگے۔ اس سے قبل کہ آنکھ بند ھو توبہ استغفار اور نیکیوں کو کرنے کا عادت بنالیں کہ اللہ کبیرہ و صغیرہ گناہ معاف کردے آمین یا رب العالمین ۔۔۔۔۔!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں