9

*قربانی کے جانور، ان کی شرائط اور نقائص* ہفتہ 23 مئی 2026 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

*قربانی کے جانور، ان کی شرائط اور نقائص*

ہفتہ 23 مئی 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

قرآنِ مجید، احادیثِ نبویہ ﷺ اور آثارِ صحابہ کی روشنی میں ایک مدلل و مربوط مضمون۔

الحمد للّٰہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین، محمدٍ وآلہ واصحابہ اجمعین۔

قربانی شعائرِ اسلام میں سے ایک عظیم عبادت ہے۔ یہ سنتِ ابراہیمیؑ کی یادگار اور اللہ تعالیٰ کی رضا، تقویٰ اور اطاعت کا عظیم مظہر ہے۔ مسلمان ہر سال ایامِ قربانی میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے جانور ذبح کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
«“اور ہر امت کے لیے ہم نے قربانی مقرر فرمائی تاکہ وہ ان چوپایہ جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ نے انہیں عطا فرمائے۔” (الحج: 34)»

ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
«“ہرگز اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے نہ ان کا خون، بلکہ تمہارا تقویٰ اس تک پہنچتا ہے۔”(الحج: 37)

قربانی کن جانوروں کی جائز ہے؟
قرآنِ مجید اور سنتِ نبوی ﷺ سے ثابت ہے کہ قربانی صرف “بہیمۃ الانعام” یعنی چوپائے مویشی جانوروں کی جائز ہے، جیسے:

– اونٹ- گائے- بکری-
– بھیڑ / دنبہ

رسول اللہ ﷺ، صحابۂ کرامؓ اور امتِ مسلمہ کا ہمیشہ یہی معمول رہا ہے۔

*قربانی کے جانور کی عمر*
احادیثِ مبارکہ کے مطابق قربانی کے جانور کی کم از کم عمر مقرر ہے:

– اونٹ: پانچ سال مکمل
– گائے: دو سال مکمل
– بکری: ایک سال مکمل
– بھیڑ / دنبہ: چھ ماہ کا اگر خوب فربہ ہو تو جائز، ورنہ ایک سال

حضرت جابرؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«“مسنہ جانور ہی ذبح کرو، ہاں اگر دشوار ہو تو چھ ماہ کا دنبہ ذبح کر لو۔”(مسلم)»

*قربانی کے جانور میں مطلوب صفات*
اسلام نے قربانی کے لیے اچھا، صحت مند اور خوبصورت جانور پسند فرمایا ہے۔
قرآنِ مجید میں ارشاد ہے:
«“اللہ کی نشانیوں کی تعظیم دلوں کے تقویٰ سے ہے۔”(الحج: 32)»

رسول اللہ ﷺ خود عمدہ اور خوبصورت مینڈھے قربان فرمایا کرتے تھے۔
حضرت انسؓ فرماتے ہیں:
«“نبی کریم ﷺ نے دو سفید سیاہ دھبے والے مینڈھے اپنے ہاتھ سے ذبح فرمائے۔”
(صحیح بخاری)»

*قربانی کے جانور کے نقائص*
شریعت نے ایسے عیب دار جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے جس کا عیب نمایاں اور واضح ہو۔

حضرت براء بن عازبؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«“چار قسم کے جانور قربانی میں جائز نہیں:

1۔ کانا جانور جس کا کانا پن ظاہر ہو
2۔ بیمار جانور جس کی بیماری ظاہر ہو
3۔ لنگڑا جانور جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو
4۔ انتہائی کمزور جانور جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو”
(سنن ابوداؤد، ترمذی)»

*وہ عیوب جن سے قربانی مکروہ یا ناجائز ہو جاتی ہے*

فقہائے امت نے احادیث کی روشنی میں متعدد نقائص بیان کیے ہیں:

*ناجائز عیوب*
– مکمل اندھا جانور
– ایسا لنگڑا جو چل نہ سکے
– انتہائی بیمار جانور
– بہت کمزور اور ہڈیوں والا جانور
– جس کے اکثر دانت گر چکے ہوں
– جس کا کان یا دم کا بڑا حصہ کٹا ہو
– پیدائشی طور پر کان نہ ہوں
– پاگل جانور جو قابو میں نہ آئے
*مکروہ عیوب*
– معمولی کان کا کٹا ہونا
– سینگ کا جزوی ٹوٹا ہونا
– معمولی لاغری
– خارش ہونا اگر شدید نہ ہو۔
البتہ بہتر یہی ہے کہ قربانی ہر قسم کے عیب سے پاک عمدہ جانور کی کی جائے۔

*قربانی کا وقت*

قربانی کا وقت:
– 10 ذوالحجہ نمازِ عید کے بعد شروع ہوتا ہے
– 11 اور 12 ذوالحجہ تک رہتا ہے
– بعض فقہاء کے نزدیک 13 ذوالحجہ کے غروب تک بھی جائز ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«“جس نے نمازِ عید سے پہلے ذبح کیا، وہ صرف گوشت ہے، قربانی نہیں(صحیح بخاری)

ایک جانور میں کتنے افراد شریک ہو سکتے ہیں؟
– بکری یا بھیڑ: صرف ایک فرد کی طرف سے
– گائے یا اونٹ: سات افراد تک شریک ہو سکتے ہیں

حضرت جابرؓ فرماتے ہیں:
«“ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حدیبیہ کے سال ایک اونٹ سات افراد کی طرف سے اور ایک گائے سات افراد کی طرف سے قربان کی۔”
(صحیح مسلم)»

*قربانی کے آداب*
اسلام نے جانور کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم دی ہے:
– جانور کو بھوکا پیاسا نہ رکھا جائے
– اس کے سامنے چھری تیز نہ کی جائے
– ایک جانور کے سامنے دوسرا ذبح نہ کیا جائے
– ذبح کرتے وقت نرمی اختیار کی جائے

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«“اللہ تعالیٰ نے ہر چیز میں احسان فرض کیا ہے۔”
(صحیح مسلم)»

*قربانی کا اصل مقصد*
قربانی صرف گوشت حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت، تقویٰ، اخلاص اور سنتِ ابراہیمیؑ کی یادگار ہے۔

حضرت ابراہیمؑ نے اللہ تعالیٰ کے حکم پر اپنے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کی قربانی کے لیے آمادگی ظاہر کی تو اللہ تعالیٰ نے اس عظیم جذبۂ اطاعت کو قیامت تک کے لیے عبادت بنا دیا۔

*اہم تنبیہ*
آج کل بعض لوگ صرف سستا جانور خریدنے یا رسم پوری کرنے کی فکر کرتے ہیں جبکہ شریعت کا تقاضا یہ ہے کہ:
– حلال مال سے قربانی کی جائے
– جانور صحت مند ہو
– عیب سے پاک ہو
– اخلاصِ نیت موجود ہو

کیونکہ اللہ تعالیٰ ظاہری گوشت نہیں بلکہ بندے کا تقویٰ قبول فرماتا ہے۔

الدعاء:
اللہ تعالیٰ ہمیں سنتِ ابراہیمیؑ کو اخلاص، محبت اور تقویٰ کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں