سکھر پریس کلب کے سامنے تحریک آئین پاکستان اور پی ٹی آئی کارکنان کا احتجاج، مہنگائی، پیکا ایکٹ اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ
سکھر(بیورورپورٹ)تحریک آئین پاکستان ضلع سکھر کی جانب سے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، سیاسی صورتحال، متنازع آئینی ترامیم، پیکا ایکٹ اور سیاسی رہنماؤں و کارکنان کی گرفتاریوں کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاج میں پاکستان تحریک انصاف کے مقامی رہنماؤں، وکلا، سیاسی کارکنان اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔احتجاجی مظاہرے میں پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری ایڈووکیٹ نورالدین چوہان، عیدن جاگیرانی، ماجد ڈنور سمیت دیگر کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے، جن پر مہنگائی کے خاتمے، سیاسی قیدیوں کی رہائی، اظہارِ رائے کی آزادی کے تحفظ اور پیکا ایکٹ کے خلاف نعرے درج تھے۔مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بحران نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں جبکہ روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے متوسط اور غریب طبقے کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔مظاہرین نے 26ویں، 27ویں اور مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں جمہوری روایات اور آئینی تقاضوں کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سیاسی اختلاف رائے رکھنے والے افراد کے خلاف مقدمات درج کیے جا رہے ہیں اور سیاسی کارکنوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔مقررین نے سابق وزیراعظم عمران خان، شاہ محمود قریشی، ماہ رنگ بلوچ، علی وزیر اور دیگر زیر حراست سیاسی کارکنان و رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی مسائل کا حل سیاسی انداز میں نکالا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اظہارِ رائے کی آزادی ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور صحافیوں و میڈیا پر کسی قسم کی غیر ضروری پابندی قبول نہیں کی جا سکتی۔احتجاج کے شرکاء نے پیکا ایکٹ پر بھی تنقید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ آزادیٔ اظہار اور صحافتی آزادی کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک میں مہنگائی پر قابو پایا جائے، عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے اور سیاسی استحکام کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو ساتھ لے کر چلنے کی پالیسی اختیار کی جائے۔مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں، معاشی بحران پر قابو پایا جائے اور ملک میں قانون کی بالادستی، آئینی نظام اور جمہوری اقدار کو فروغ دیا جائے۔احتجاج کے اختتام پر شرکاء نے اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی اور سیاسی قیدیوں کی رہائی، مہنگائی کے خاتمے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ دہرایا۔









