*کراچی۔۔۔ کون معصوم، کون ظالم؟* *تحریر: جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی*
*کراچی۔۔۔ کون معصوم، کون ظالم؟*
*تحریر: جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی*
سندھ، بالخصوص کراچی میں شہریوں کے جان و مال، عزت و آبرو اور بنیادی حقوق کا تحفظ آخر کس کی ذمہ داری ہے؟ سندھ حکومت کی؟ سندھ پولیس کی؟ پاکستان رینجرز کی؟ یا پھر ان تمام ریاستی اداروں کی جو آئین و قانون کے تحت شہریوں کے تحفظ اور امن و امان کے ذمہ دار ہیں؟ کراچی کے عوام آج بھی اس بنیادی سوال کا جواب تلاش کر رہے ہیں کہ آخر اس شہر کا محافظ کون ہے اور ظالم کون؟ کراچی وہ شہر ہے جو ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں کے شہری، صنعت کار، تاجر، مزدور اور کاروباری طبقہ مختلف مقدار میں بھاری ٹیکس اور محصولات ادا کرتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس کے بدلے کراچی کے شہریوں کو کیا مل رہا ہے؟ بنیادی سہولیات کی مسلسل قلت، انتظامی بے بسی، مختلف نوعیت کی مافیاؤں کا پھیلاؤ اور شہری زندگی میں بڑھتی ہوئی مشکلات!کراچی کا ایک بڑا المیہ پینے کے پانی کا بحران ہے۔ شہریوں کو اپنی بنیادی ضرورت کا پانی بھی کئی علاقوں میں ٹینکرز کے ذریعے بھاری رقوم کے عوض حاصل کرنا پڑتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر پانی شہری کا بنیادی حق ہے تو اسے کاروبار اور مجبوری کا ذریعہ کس نے بنا دیا؟ پانی کی تقسیم کے نظام میں موجود خامیوں، غیر قانونی کنکشنز اور مبینہ ٹینکر مافیا کے خلاف مؤثر کارروائی کیوں دکھائی نہیں دیتی؟ دوسری جانب شہر کے فٹ پاتھ، سڑکوں کے کنارے، چوراہے اور گلیوں کے نکڑ تجاوزات، پتھاروں اور ٹھیلوں کی زد میں ہیں۔ شہریوں کو پیدل چلنے کے لیے فٹ پاتھ میسر نہیں، جبکہ سڑکوں پر غیر ضروری رکاوٹیں ٹریفک کے مسائل میں اضافہ کرتی ہیں۔ غریب آدمی کے روزگار کا حق اپنی جگہ، مگر کیا ریاستی اداروں کی ذمہ داری نہیں کہ روزگار اور شہری نظم و ضبط دونوں کے درمیان ایسا متوازن نظام قائم کریں جس میں نہ غریب کا معاش چھنے اور نہ شہریوں کے حقوق پامال ہوں؟ سرکاری نرخ نامے جاری ہوتے ہیں، مگر بازاروں میں ان پر عمل درآمد ایک الگ سوال بن چکا ہے۔ شہریوں اور تاجروں میں یہ شکایات بھی عام ہیں کہ بعض اہلکار مبینہ طور پر رشوت ستانی اور غیر قانونی وصولیوں میں ملوث ہوتے ہیں، جبکہ کارروائی سے پہلے ہی متعلقہ افراد کو اطلاع پہنچنے کی باتیں بھی سامنے آتی رہتی ہیں۔ اگر یہ الزامات درست ہیں تو یہ محض ایک فرد کی بدعنوانی نہیں بلکہ پورے انتظامی نظام کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ پولیس کے بارے میں بھی شہریوں کی شکایات کم نہیں۔ بعض علاقوں میں تھانے کے اہلکاروں پر مبینہ رشوت، غیر ضروری حراسانی اور شہریوں سے ناروا سلوک کے الزامات لگتے رہتے ہیں۔ اگر چند اہلکار قانون کے محافظ ہونے کے بجائے قانون کی آڑ میں شہریوں کو پریشان کریں تو اس کا نقصان صرف ایک شہری کو نہیں بلکہ پورے پولیس ادارے کی ساکھ کو پہنچتا ہے۔ ایس ایس پی، ایس پی اور ڈی آئی جی جیسے افسران کی عزت اور اعتماد بھی اسی وقت برقرار رہ سکتا ہے جب نچلی سطح پر پولیسنگ شفاف اور جواب دہ ہو۔ عدالتی نظام بھی عوام کے لیے انصاف کی امید کا مرکز ہے، مگر اگر سائلین کو عدالتوں سے متعلق دفتری مراحل میں مبینہ طور پر غیر ضروری رکاوٹوں، تاخیر یا مالی مطالبات کا سامنا ہو تو عام آدمی کے لیے انصاف کا راستہ مزید دشوار ہوجاتا ہے۔ عدالت انصاف کی آخری امید ہے؛ اس کے انتظامی حصے میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا استحصال کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔سوال یہ نہیں کہ کراچی میں مسائل کیوں ہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ ان مسائل کے ذمہ داروں کا تعین کون کرے گا؟ اگر ٹینکر مافیا ہے تو اسے تحفظ کون دیتا ہے؟ اگر تجاوزات مافیا ہے تو اسے سرکاری زمین پر بیٹھنے کی اجازت کون دیتا ہے؟ اگر بھتہ یا رشوت کا نظام ہے تو اس کے سہولت کار کون ہیں؟ اگر تھانے میں شہری کو انصاف نہیں ملتا تو جواب دہ افسر کون ہے؟ اگر سرکاری نرخ نامے پر عمل نہیں ہوتا تو ذمہ دار ادارہ کہاں ہے؟اور اگر ہر ادارہ اپنی ذمہ داری دوسرے پر ڈال دے تو پھر کراچی کا شہری کس دروازے پر دستک دے؟ ریاست کا کام صرف ٹیکس وصول کرنا نہیں، بلکہ شہری کو تحفظ، انصاف، بنیادی سہولیات اور باعزت زندگی فراہم کرنا بھی ہے۔ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، افسران تبدیل ہوتے رہتے ہیں، مگر شہر اور اس کے شہری اپنی جگہ موجود رہتے ہیں۔کراچی کو کسی ایک سیاسی جماعت، ایک ادارے یا ایک طبقے کی نہیں بلکہ قانون کی حکمرانی، شفاف انتظامیہ اور اجتماعی ذمہ داری کی ضرورت ہے۔ مقتدران و بااختیاران اگر واقعی کراچی کو اپنا شہر سمجھتے ہیں تو انہیں خوابِ غفلت سے بیدار ہونا ہوگا۔ محض اجلاس، بیانات، دورے، کارروائیاں اور فائلوں میں درج احکامات کافی نہیں۔ عوام کو نتائج چاہئیں۔ کراچی کے شہری یہ جاننا چاہتے ہیں: کون معصوم ہے اور کون ظالم؟کون محافظ ہے اور کون سہولت کار؟ کون قانون کا پابند ہے اور کون قانون کو اپنی مرضی سے استعمال کر رہا ہے؟ اب وقت آگیا ہے کہ الزامات کے بجائے شفاف تحقیقات ہوں، مافیاؤں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہو، سرکاری اہلکاروں کا احتساب ہو اور شہریوں کو ان کے بنیادی حقوق دیے جائیں۔ کراچی کے عوام کو خاموش، بے بس اور بدقسمت سمجھنا ریاستی و انتظامی کمزوری کی سب سے بڑی علامت ہوگی۔ یہ شہر جاگے گا تو صرف اپنے لیے نہیں بلکہ پورے ملک کی معیشت، ترقی اور مستقبل کے لیے جاگے گا۔کراچی کو مافیاؤں کے رحم و کرم پر نہیں، قانون کی حکمرانی کے تحت زندہ رہنے کا حق ہے۔ اور شاید اب سب سے بڑا سوال یہی ہے: کراچی۔۔۔ آخر کب بیدار ہوگا؟