خٹک بیلٹ میں پانی کا شدید بحران
تحریر:اللہ نواز خان
allahnawazk012@gmail.com
پنجاب کے ضلع میانوالی میں خٹک بیلٹ کے علاقوں میں پانی کی شدید قلت ہے۔پانی جیسی نعمت کے لیے خٹک بیلٹ کےباسی ترس رہے ہیں۔پانی کا مسئلہ کوئی نیا نہیں بلکہ بہت ہی پرانا ہے،لیکن اس کو حل نہیں کیا گیا۔خٹک بیلٹ کے پہاڑ قیمتی معدنیات سے بھرے ہوئےہیں اور یہاں معدنیات نکال کر مہنگے داموں فروخت کی جا رہی ہیں۔افسوسناک صورتحال تو یہ ہے کہ اس علاقے کو رائلٹی سے بھی محروم کیا گیا ہے۔رائلٹی اگر خٹک بیلٹ پہ خرچ کی جاتی تو یہ علاقہ ترقی یافتہ ہوتا۔دوسری سہولیات کا ذکر تو چھوڑیے،صرف پانی جیسی بنیادی ضرورت بھی یہاں کے شہریوں کو میسر نہیں۔پانی کی قلت کا ایک اور مسئلہ بھی یہاں پایا جاتا ہے کہ زیر زمین پانی بہت ہی کھاراہے اور وہ پانی پینے کے قابل نہیں۔کھارے پانی کے حصول کے لیے بھی بہت گہرے کنویں کھودنے پڑتے ہیں۔یہاں پانی کا انحصار بارش کے پانی پر ہوتا ہے۔بارشی پانی تالابوں اور جوہڑوں میں جمع ہو جاتا ہے۔جوہڑوں اور تالابوں کا پانی انتہائی گدلا ہونے کے ساتھ آلودہ بھی ہوتا ہے۔یہاں کے لوگ یہی گندا پانی پینے پر مجبور ہیں۔المیہ یہ ہے کہ ان جوہڑوں اور تالابوں کا پانی جانور بھی پیتےہیں اور وہی پانی انسان بھی پینے پر مجبور ہیں۔ان جوہڑوں اور تالابوں میں جانور پیشاب بھی کرتے ہیں اور دیگر نجاستیں بھی پانی میں شامل ہو جاتی ہیں،جس کی وجہ سے یہ پانی انتہائی نقصان دہ ہو جاتا ہے۔ایسا پانی پی کر مختلف قسم کی بیماریاں بھی اکثر اوقات پھیلتی رہتی ہیں۔ہیضہ،ٹائیفائیڈ اور یرقان جیسی بیماریاں عام ہیں۔پانی کا مسئلہ گرمی میں مزید شدت اختیار کر لیتا ہے،کیونکہ گرم موسم میں پانی کی طلب زیادہ بڑھ جاتی ہے۔کچھ صاحب حیثیت افراد پانی قیمتا بھی خریدتے ہیں،لیکن اکثریت صاف پانی سے محروم ہے۔اکثریت پانی کے حصول کے لیے دور دراز کے علاقوں تک سفر کرنے پر مجبور ہے۔چھوٹے چھوٹے بچے اور خواتین دور دراز کے علاقوں سے پانی بھر کرلانےپر مجبور ہیں۔پانی لانےکےلیے اکثر اوقات گدھوں کا استعمال(بطور سواری)بھی کیا جاتا ہے۔بڑے افراد روزگار کو چھوڑ کر پانی بھرتے ہوئے نظر اتے ہیں اور چھوٹے بچے تعلیم سے محروم ہو کر پانی کی تلاش میں سرگرداں نظر آتے ہیں۔
پانی کی قلت زیادہ ہونے کی وجہ سے زراعت کا شعبہ بھی متاثرہے۔بارشیں کم ہونے کی وجہ سے فصلوں سے کم پیداوار حاصل ہوتی ہے۔جمع شدہ پانی کم وقت میں ختم ہو جاتا ہے کیونکہ اتنا زیادہ جمع نہیں ہو پاتا۔تالابوں اور جوہڑوں کو گہرا کر کے پانی زیادہ جمع کیا جا سکتا ہے۔گہرا کرنے کے علاوہ ان کو کور سے ڈھانکنا بھی ضروری ہے تاکہ گندگی پانی میں داخل نہ ہو سکے۔حکومت کو چاہیے کہ فلٹریشن کا مناسب انتظام کرے تاکہ پینے کا صاف پانی شہریوں کو میسر ہو۔ان علاقوں میں کھارے پانی کے لیے بھی ٹیوب ویلز بھی لگائے جائیں،کیونکہ کھارا پانی زراعت اور دیگر ضروریات کو پورا کر سکتا ہے۔چھوٹے چھوٹے ڈیمز بھی فوری طور پر تعمیر کیے جائیں۔دریا سے بھی پانی لایا جا سکتا ہے۔جہاں پانی میٹھا ہے ان علاقوں سے لائنوں کے ذریعے یہاں کے شہریوں کے لیے پانی مہیا کیا جا سکتا ہے۔کچھ علاقوں میں پرانی واٹر سپلائی سکیموں کی لائنیں ہیں،ان کو فوری طور پر مرمت کر کے پانی کی بحالی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔صحت کے تحفظ کے لیے پانی کی فلٹریشن بہت ہی ضروری ہے اوریہاں صحت کا مسئلہ بھی بہت ہی سنگین ہے۔خٹک بیلٹ واٹر پروجیکٹ کے نام پر ایک منصوبہ کچھ عرصہ پہلے شروع کیا گیا تھا لیکن وہ ناکامی سے دوچار ہو گیا ہے۔اس منصوبے کی ناکامی کی وجوہات میں کرپشن،فنڈز کی کمی اور سیاسی مداخلت کے الزامات لگتے ہیں۔وہ منصوبہ اگر کامیاب ہو جاتا تو تقریبا خٹک بیلٹ کی 80 فیصد سے زیادہ آبادی کے لیے پانی کی دستیابی ممکن ہو پاتی۔اب بھی اس منصوبے پر کام کیا جا سکتا ہے۔اگر اس منصوبے پر کام کرنا ممکن نہیں تو دیگر کوئی بڑا منصوبہ شروع کر دینا چاہیے۔یہاں پانی کی قلت کو پورا کرنے کے لیے علاقے کی ایک مخیر شخص آفتاب احمدخان ملاخیل مسلسل کوششیں کر رہے ہیں۔وہ کئی سالوں سےپانی کے ٹینکر خٹک بیلٹ کے ان علاقوں تک مفت پہنچا رہے ہیں جہاں پانی کی شدید کمی ہے۔آفتاب احمد خان کی ان کوششوں کو علاقہ بھر میں قدر کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔پانی کی سپلائی پر ہر ماہ لاکھوں روپے خرچ ہو جاتے ہیں،کیونکہ ٹینکر کے لیےتیل،ڈرائیور کی تنخواہ اور ٹینکر کی فٹنس کے لیے خاصی رقم خرچ ہو جاتی ہے۔اگر ایک فرد اپنی کوششیں کر رہا ہے تو حکومت کیوں نہیں کررہی ہے؟؟؟اربوں روپے یہاں کے پہاڑوں سے کمائے جاتے ہیں،لیکن پانی کی دستیابی کے لیے کیوں کچھ نہیں کیا جاتا؟
شہریوں کا حق ہے کہ ان کو صاف پانی مہیا کیا جائے۔صاف پانی مہیا کرنا حکومت کی بنیادی اور آئینی ذمہ داری ہے۔اقوام متحدہ نے بھی 2010 میں پانی کو انسانی حق کے طور پر تسلیم کیا ہے جس کے تحت ریاست پابند ہے کہ وہ ہر شہری تک صاف پانی پہنچائے۔بنیادی حق پانی سے محروم کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔خٹک بیلٹ کے تمام علاقوں تک پانی پہنچانا دشوار ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔اربوں روپے مختلف عیاشیوں پر خرچ کیے جاتے ہیں،اگر ان رقوم کا کچھ حصہ خرچ کیا جائے تو پانی کی دستیابی یہاں ممکن ہو جائے گی۔یہ کوئی چھوٹا منصوبہ نہیں بلکہ بہت بڑا منصوبہ ہے اور یہ حکومت کے تعاون کے بغیر پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکتا۔جب تک پانی بلا تفریق ہر ایک تک نہیں پہنچ پاتا،اس وقت ٹینکروں کے ذریعے پانی مہیا کیا جائے۔پانی ایک بنیادی حق ہے اورخٹک بیلٹ کے شہریوں کواس حق سے محروم رکھنا بہت ہی افسوسناک ہے۔
سرگودھا (راجہ نورالہی عاطف سے) کمشنر سرگودھا ڈویژن حافظ شوکت علی نے سلانوالی روڈ پر واقع ہلالِ
میرپورخاص (شاھدمیمن) انسان کی اصل اور دائمی زندگی موت کے بعد شروع ہوتی ہے، دنیا کی یہ زندگی
میرپورخاص (شاھد میمن) حکمران غریب عوام پر آئے روز مہنگائی کے کوڑے برسارہے ہیں.مسلسل ٹیکسوں
شہید بے نظیر اباد نواب شاہ میں گٹر میں گر کر متعدد بچوں کی ہلاکت ضلعی انتظامیہ اور ٹاؤن چیئرمینوں کی مجرمانہ غفلت کے بعد
میرپورخاص (شاھدمیمن) ڈاکٹر فہمیدہ لغاری کی چھوٹی بہن مہک فاطمہ نے اپنے والدین کے ہمراہ آئی جی سندھ پولیس جاوید عالم اوڈھو سے ملاقات کی