45

*اپنے حقوق کیلئے متحد ہوجائیں* *تحریر: جاوید صدیقی جرنلسٹ و کالمکار کراچی*

*اپنے حقوق کیلئے متحد ہوجائیں*

*تحریر: جاوید صدیقی جرنلسٹ و کالمکار کراچی*

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جہاں سرکاری ملازمین مقید ہیں قانونی شرائط پر کہ وہ اک ہلکی سی احساس اور تکالیف کا اظہار کرسکتے ہیں اس سے کہیں زیادہ کیفیت ان سفید پوش پینشنرز کی ہے جو بیماری اور زائد عمر بزرگی کے سبب اپنا درد تکالیف کا اظہار بھی نہیں کرسکتے۔ یقین جانئے انکی کیفیت کو دیکھ کر دل بھر آتا ھے، کسی بھی اصحاب اجمعین ؓ کا دورِ خلافت ہوتا تو ممکن ھے ریاستی اداروں کی سخت جواب طلبی ہوچکی ہوتی اور انہیں قاضی کے سامنے پیش ہوکر اپنی کوتاہی سستی غفلت اور ناانصافی کے سبب سخت سزا سے گزرنا پڑتا۔ حضرت عمر فاروق ؓ سمیت جملہ خلفائے راشدین ؓ نے اپنے اپنے مشاہرات ایک مزدور کے برابر رکھے تھے۔ ھم کس دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں ہمارے حکمران اسلامی ملک کہتے تھکتے نہیں لیکن انسانیت کا معاشی قتل کرتے بھی نہیں تھکتے۔ ذرا خوف بھی نہیں رکھتے کہ ان سفید پوش پینشنرز کی آہیں کہاں تک پہنچیں گی۔ عرصہ دس پندرہ سالوں سے پینشنرز کیساتھ اچھا مزاق کیا جارھا ھے کہ ملکی خذانے کو خالی کہہ کر انکی پینشن میں اضافہ پر بڑا کٹ لگایا جاتا رھا ھے کبھی تین فیصد کبھی پانچ فیصد تو کبھی صفر بھی رھا لیکن جیسے ہی بجٹ گزارتا ھے احتجاج کرنے والے تھک جاتے ہیں تو خاموشی سے حکومت اپنی پارلیمنٹیرین کی، اپنے پارلیمنٹیرین اسٹاف کی، عدالتی ججز و جسٹس کی اور عدالتی اسٹاف کی، اور اشرفیہ کی کئی کئی سو فیصد بمع مراعات اضافہ کردیا جاتا ھے یہ کہاں کا انصاف ھے یہ کہاں کی جمہوریت اور یہ کہاں کا اسلام۔ بہت ہوگئی عوام پر ظلم بپا کرنے کی ناانصافی اور معاشی دہشتگردی کرنے کی، اب عوام یعنی سرکاری ملازمین و افسران کو بیدار ھونا ہوگا اپنے جائز مطالبات کے حصول کیلئے اور مطالبہ کرنا چاہئے کہ جب سرکاری ملازمین اور پینشنرز کی بجٹ میں جس قدر اضافہ کیا جاتا ھے اسی قدر ایک ساتھ مساوی پارلیمنیٹیرین ، عدلیہ، اشرفیہ، عسکری و دیگر کی بھی تنخواہیں و مراعات میں اضافہ یکساں رکھا جائے یہ دوہرا معیار دوہرا قانون دوسری نسبت اور دوہرا آئین و دستور قبول نہیں کیونکہ سرکاری ملازمین سب حکومت کے تابع کام کررہے ہوتے ہیں۔ بین الاقوامی قانون بھی سب کو یکساں حیثیت دیتا ھے اور ایسے دوہرے معیار کو انسانی حقوق بھی ظلم و ناانصافی قرار دیتا ھے اس بابت سب سرکاری ملازمین کو یکجا ہوکر اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کرنے کیساتھ ساتھ قلم چھوڑ تالا بند ہڑتال کرنی چاہئے تاوقتکہ حکومت مطالبات فوری قبول کرتے ہوئے نوٹیفیکیشن جاری کرے۔ کیونکہ جب تک بچہ روتا نہیں ھے ماں بھی دودھ نہیں پلاتی اس لئے اپنے حقوق کیلئے یکساں متحد ھوکر وفاق و صوبائی قملازمین اتحاد و اتفاق کیساتھ کھڑے ہوجائیں۔ حکومتی کسی بھی دلاسے میں مت آئیں بلکہ حکومت سے تحریری ضمانت کے بعد ہڑتال ختم کریں یہی آپ کی بقاء ہوگی اور حقوق کی پاسداری بھی۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں