عنوان. شیخی بگھارنے کی عادت جو تھی.
ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
خالدہ بڑے اچھے نمبر لے کے پاس ہو گیی تھی، بھاگی بھاگی اٹاری سویٹ ہاوس گیی اور آدھا کلو مٹھائی کا آرڈر دیا؛ مگر پیک کرنے کے لیے دوکان دار کو کہا کہ بھیا آدھا کلو مٹھائی کو ایک کلو کے ڈبے میں پیک کرنا ہے تاکہ کشکا اور ششکا اچھاپڑ سکے. خالدہ ایک گیارہ سالہ تیز طرار لڑکی تھی، جسے لڑ کپن میں ہی کشکے اور ششکے ڈالنے کا چال چلن اچھی طرح سے سکھا دیا گیا تھا. میں چونکہ خالدہ کے ساتھ ہی سویٹ ہاوس چل پڑی تھی اور میں خالدہ کی تمام حرکات کا بغور معاینہ کر رہی تھی تو مجھے شدید دکھ ہوا اور سب سے زیادہ دکھ مس نعمت بیچاری کے لیے ہوا جنہیں خالدہ ایک کلو کے ڈبے میں لپیٹ کر آدھا کلو مٹھائی دینے جا رہی تھی. کیا ہو جاتا اگر خالدہ آدھا کلو مٹھائی آدھا کلو کی پیکنگ میں ہی لے جاتی؟
چوہدری شیر دل کے ہاں چار بیٹیوں کے بعد بیٹا پیدا ہوا تھا. چوہدری نے اس خوشی میں اپنی ساری بہنوں کو ایک ایک بھینس گفٹ کی تھی، پورے گاوں کے دروازے کھٹکھٹا کے ہر گھر کے رہنے والوں کا منہ سوہن حلوے سے میٹھا کروایا تھا. پوری برادری کی شاندار دعوت کی تھی کیی بکرے اور دیگوں کا اہتمام کیا تھا. جب میٹھا پانی یعنی شربت بنانے کی باری آئی تو برادری کے چند سیانوں نے کہا کہ بجاے روح افزا کےانر جایل سے کام چلایاجاے تو چوہدری شیر دل کو یہ دھاندلی بالکل پسند نہ آی، اس نے کہا جب فرنٹ ڈور سے
اپنی بہنوں کو بھینسیں دے سکتا ہوں تو مہمانوں کو روح افزا بھی پلا سکتا ہوں.
مسز ہادی ایک پوش ایریے میں مقیم تھیں ان کے گھر میں برتن، کپڑوں اور فرنیچر سے لے کر پردوں، بستروں تک ہر شے لنڈے سے آتی تھی اور اگر کوی پوچھتا تو مسز ہادی کمال ڈھٹائی سے کہہ دیتیں امپورٹڈ ہے میرا فلاں بھای یا بہن لے کے آیا تھا پوچھنے والے ان کے اس سفید جھوٹ پہ انگشت بدنداں رہ جاتے.
اسی شو بازی کی عادت نے برانڈ ز کو متعارف کروایا جو چیز سفید پوش لوگ چند سو میں بنا لیتے تھے اب ہزاروں میں پڑنے لگی اور لڑکیاں بالیاں اور خواتین برانڈ کی تکرار میں باولی ہونے لگیں اور کبھی ان برانڈز پہ لگی سیل پہ خواتین کا رش بھی دیکھیے گا کہ اس شو بازی نے کس طرح سے سادگی اور شرافت کا گلا ہی گھونٹ دیا ہے.
مامتا کے لاڈ
جو ماں سکھاتی تھی
وہ لاڈ تھا سب
جو ماں بتاتی تھی
وہ لاڈ تھا سب
اصل سبق سکھاے دنیا نے
تو دنیا نے خوب سکھای شو بازی، نفسا نفسی،کساد بازاری، دوسروں کا حق مار کے آگے بڑھ جانا اور روتے ہووں کو مزید رلا دینا.
صبور حسین ایک دوائیوں کی کمپنی میں ریپریزینٹیٹو تھا اس کی شادی کا دن مقرر ہو چکا تھا نکاح کے دو بول سادگی سے بھی پڑھے جا سکتے تھے مگر پھر شو شا کیسے بنتی؟ کشکے اور ششکے کیسے پڑتے؟ تو برانڈڈ کپڑے جوتوں اور مہنگے زیورات کے بعد صبور حسین نے برات پہ بھی نمود نمایش میں کوی کمی نہ چھوڑی گھوڑے سے اترا تو بگھی پہ اور بگھی سے اترا تو لیموزین پہ اورڈھولچیوں اور بینڈ بچانے والوں پہ اتنےپیسے وار دیے کہ لوٹنے والوں نے اپنے اپنے گھر تعمیر کروا لیے. کاش ہم ایک سادہ، محنتی اور بے ریا قوم ہوتے تو اتنی آزمائشوں میں نہ گھرے ہوتے اتنی خواری اور ذلت ہمیں نہ اٹھانی پڑتی جتنی ہمارے نصیب میں آی اورہمارا مقدر بن گیی، صبر، توکل تو اچھی عادات ہیں مگر یہ خواہ مخواہ کی شیخی خوریاں سیدھے سادھے لوگوں کی جان کا عذاب اور سکون کا زیاں ہیں اللہ سے یہ دعا ہےکہ وہ ہمیں اور آپ کو اس خواہ مخواہ کی نمود و نمایش اور کشکوں اور ششکوں سے پناہ میں رکھے آمین
ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
drpunnamnaureen@gmail.com
سرگودھا (راجہ نورالہی عاطف سے) کمشنر سرگودھا ڈویژن حافظ شوکت علی نے سلانوالی روڈ پر واقع ہلالِ
میرپورخاص (شاھدمیمن) انسان کی اصل اور دائمی زندگی موت کے بعد شروع ہوتی ہے، دنیا کی یہ زندگی
میرپورخاص (شاھد میمن) حکمران غریب عوام پر آئے روز مہنگائی کے کوڑے برسارہے ہیں.مسلسل ٹیکسوں
شہید بے نظیر اباد نواب شاہ میں گٹر میں گر کر متعدد بچوں کی ہلاکت ضلعی انتظامیہ اور ٹاؤن چیئرمینوں کی مجرمانہ غفلت کے بعد
میرپورخاص (شاھدمیمن) ڈاکٹر فہمیدہ لغاری کی چھوٹی بہن مہک فاطمہ نے اپنے والدین کے ہمراہ آئی جی سندھ پولیس جاوید عالم اوڈھو سے ملاقات کی