7

*تجربہ، تجزیہ، مشاہدہ۔ تنخواہ دار/پینشن ہولڈرز کی مشکلات* *تحریر: جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی*

*تجربہ، تجزیہ، مشاہدہ۔ تنخواہ دار/پینشن ہولڈرز کی مشکلات*

*تحریر: جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی*

تقریباً 16 سال سے تجربہ، تجزیہ، مشاہدہ کیا گیا ھے کہ پاکستان میں نیشنل بینک کی سروس انتہائی بد سے بدتر ہوتی چلی گئی ھے اور وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ اسٹاف کی تربیت کا فقدان بڑھتا گیا ھے اور ان پروفیشنل ازم کے سبب انکے کام کے طریقے انتہائی بھونڈے اور صارفین کیلئے تکلیف دہ و پریشان کن ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ھے کہ نیشنل بینک کے اسٹاف کا رویہ انتہائی گھٹیا نازیبا پایا جاتا ھے، صارفین کیلئے ٹوکن سے لیکر کیش کی منتقلی تک آج بھی دیسی پرانے نظام کیساتھ رائج ھے، بلاوجہ تنگ و پریشان کرنے کی غرض سے غیر ضروری عوامل کو بھی جبراً شامل کرنے پر مجبور کرتے ہیں گوکہ ایک قدر مشکل اور تاخیر کا سبب پیدا کرتے ہیں کہ صارف انتہائی ذہنی تکلیف سے دوچار ہو اسکی وجہ انکی غیر تربیت ہونا شامل ھے، سیاسی بھرتی، نااہلی و نااہلیت نے بینک کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا یوں لگتا ھے کہ جیسے از خود بینک کو تباہ کیا جانا ھے۔ نا اہل و ناکارہ اسٹاف کی تقرری ہونا اور حق داروں کی تلفی کی وجہ سے نیشنل بینک کسی طور آپریشن کے لائق نہیں رھا، یا تو اسے بھی پرائیوٹائز کردیا جائے یا پھر ختم۔ ان حقائق کی بنیاد پر سرکاری ملازمین و پینشنرز کیلئے بہتر یہی ھے کہ وہ اپنی تنخواہ اور پینشن دیگر بینکوں میں فی الفور منتقلی کا عمل شروع کردیں کیونکہ جس طریق سے نیشنل بینک کو تباہ و برباد کیا جارھا ھے عوام کی مالی سیکیورٹی تحفظ ہاتھوں میں نہیں رہی۔ اس مہنگائی اور مشکل حالات میں تنخواہ دار کسی صدمہ کو برداشت کرنے سے قاصر ھے بہتر یہی ھے کہ اپنی تنخواہ و پینشن کی منقلی کے عمل پیرا ہوجائیں آپ کے اس عمل میں اے جی پی آر اور اے جی سندھ کا اسٹاف مکمل تعاون اور رہنمائی کریگا انشاءاللہ ۔۔۔!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں