6

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک* *عنوان : خدارا اس نظامِ جمہوریت سے چھٹکارہ پاؤ* *کالمکار : جاوید صدیقی*

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

*عنوان : خدارا اس نظامِ جمہوریت سے چھٹکارہ پاؤ*

*کالمکار : جاوید صدیقی*

پاکستان دنیا کے چند ایک ممالک میں سرفہرست ھے جہاں بھیڑ، بکریوں اور جانوروں کی طرح قوم کو منقسم کیا جاتا ھے۔ جس طرح مالدار، بدمعاش، غنڈے، دولت مند اور دہشت پھیلانے والے گروہ کے جانوروں اور انکے کیٹل فارموں کو مقام، درجہ و اہمیت دی جاتی ھے وہ کسی ایماندار، دیانتدار، کمزور، شریف النفس کو ہرگز نہیں ملتی اسی طرح اسی پاکستان اور صوبہ سندھ بلخصوص کراچی شہر میں وزیرِ تعلیم سید سردار علی شاہ نے جو تعلیم کا بیڑہ غرق کردیا ھے اس تباہی وبربادی میں برسوں سے قائم وزیراعلیٰ سندھ بھی رھے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ سب سے بدتر نظامِ ریاست پاکستان پیپلز پارٹی کے ان اٹھارہ سال میں ہوئی۔ سرکاری اسکول و کالجز کہیں کے نہیں رھے۔ سندھ پبلک سروس کمیشن ہو یا این ٹی ایس ان دونوں اداروں نے نااہلیت، ناکارہ، ناپید امیدواروں کا پرچار کیا اور ان ناکام لوگوں کو صرف اس لئے بھرتی کیا کہ وہ تنخواہ بٹورتے رہیں، عیش کرتے رہیں۔ یہ تعصبی و لسانیت اور نفرت تاحال جاری ھے۔ اپنی اس غلاظت کے سبب صوبہ تو صوبہ کراچی کو بھی نہ بخشا اور تباہ و برباد کرنے سے باز نہیں آئے۔ کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص، نوابشاہ، خیرپورمیرس اور سکھر ایسے شہر تھے جہاں کے استاتذہ کرام علمائے کرام انتہائی قابل، ذہین، فطین، ماہرِ علوم، محقق اور دانشور رھے ہیں جنکی اہلیت و قابلیت کا اعتراف سمجھدار، منصف، باشعور پڑھے لکھے سندھی آج بھی تسلیم کرتے ہیں۔ سیاسی کشمکش اور اقربہ پروری نے کسی قوم کو نہیں بلکہ پورے سندھ کو نااہلی، ناکامی، ناکارگردگی کے دلدل میں دھنسا کر رکھ دیا ھے۔ اندرون سندھ میں تعلیم کو تباہ کرنے کے بعد کراچی میں میٹرک و انٹر بورڈ میں شفارشی و سیاسی اور خرید و فروخت کی بنیاد پر تقرریوں نے کرپشن، لوٹ مار اور بدعنوانی کیساتھ ساتھ امتحانی مراکز میں کھلے عام نقل کو فروغ دیا جس سے پڑھنے والے بچوں کے جذبات، احساسات، کیفیات اور نفسیات پر شدید منفی اثر پڑا ھے اور انکی شدید حق تلفیاں بھی ہوتی رہی ہیں ۔۔۔۔ معزز قارئین!! ھم نے فوجی یعنی مارشل لاء کا ہر دور دیکھا ھے ان سب جنرلز کے ادوار میں قطعی طور پر نہ رشوت سرےِ عام تھی نہ کرپشن، نہ لوٹ مار اور نہ ہی بددیانتی و خیانت، نہ اسٹریٹ کرائم اور نہ ہی ٹارگٹ کلنگ، نہ ہی ذخیرہ اندوزی اور نہ بھتہ خوری، نہ ہی خودساختہ مہنگائی۔ فوجی جنرلز کے دورِ حکومت میں تعلیم و صحت کا نظام ایک منظم، مضبوط، اور مستحکم انداز میں مثبت پہلو سے صاف و شفاف انداز میں پڑوان چڑھتا دکھائی دیتا تھا جس میں سستائی اور مہنگائی کو کنٹرول کا بھی بہترین موثر نظام قائم تھا۔ قانون، آئین اور ریاست کی رٹ قائم تھی۔ تھانوں میں شرفاء کیساتھ حسنِ سلوک کیساتھ برتاؤ رکھا جاتا تھا۔ مبینہ ملزم کیساتھ مجرموں جیسا سلوک ہرگز نہیں برتا جاتا اگر کوئی ذاتی عناد کے خاطر اپنے منصب کا استعمال غلط کر بیٹھتا تو شکایت کی صورت میں شفاف کمیٹی تشکیل دیدی جاتی جو ملٹری کورٹ میں رپورٹ جمع ہوتی تھی اگر قصوروار ٹھہرتا تو سب سے پہلے منصب سے خارج کردیا جاتا پھر جرم کی سزا بھگتا۔ یہی وجہ ھے کہ فوری فیصلہ کے سبب سب محتاط اور احتیاط برتے تھے۔ لیکن دنیا نے دیکھا کہ ذوالفقار علی بھٹو سے لیکر بینظیر بھٹو اور اب آصف علی زرداری تک تمام کے تمام پیپلز پارٹی کے رہنما و قائد اور جیالے جمہوریت کا آلاپ گاتے تھکتے نہیں انہیں جمہوریت کے معنی اور مفہوم ہی نہیں معلوم یہ سب سمجھتے آئے ہیں کہ جمہوریت کا مطلب ھے عوام سے لوٹنا گھسوٹنا انہیں تہہ و بالا کرنا ان پر ظلم و بربریت کی رقم قائم کرنا عوامی حقوق کی حق تلفی کرنا عوام کو جابجا ذلت رسوائی سے دوچار کرنا اور انہیں غلام بناکر خود عیش کرنا یہی “جمہوریت” ھے۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! سندھ میں پیپلز پارٹی نے وہ کچھ تباہی و بربادی سے دوچار کیا جو یقیناً بھارت و اسرائیل جیسا مکار بدکار بدترین دشمن بھی نہ کرتا لیکن پی پی پی نے لسانیت و تعصب کی آڑ میں دشمنوں کا حق ادا کردیا۔ سندھ بھر کے باشعور سمجھدار لوگوں کا کہنا ھے کہ ان حالات کی ذمہدار اسٹبلشمنٹ بھی ھے کیونکہ پاکستان میں الیکشن دکھاوے کیلئے کرائے جاتے ہیں یہاں الیکشن نہیں سلیکشن ہوتا ھے۔ نوابزادہ لیاقت علی خان کی شھادت کے بعد سے یہ سلیکشن کا شروع ہوا سلسلہ تاحال جاری ھے۔ اس تسلسل سے صرف پی پی پی کو فوائد نہیں پہنچے بلکہ ایم کیو ایم نے بھی کوئی کسی حد تک کسر نہیں چھوڑی جماعت اسلامی ہو یا جمعیت علماء اسلام و جمعیت علماء پاکستان اور پھر تحریک لبیک پاکستان پاکستان تحریک انصاف پاکستان مسلم لیگ پاکستان فینگشنل لیگ پاکستان مسلم لیگ قاف سمیت دیگر سیاسی و دینی جماعتوں نے عوام کو سوائے مایوسی اور دھوکہ کے کچھ نہ دیا۔حقیقت تو یہ ھے کہ عوام نے تمام سیاسی جماعت کو رد کردیا ھے عوام نظام جمہوریت سے تنگ آچکی ھے وہ نظام کی تبدیلی کا خواہ ہیں۔۔۔۔ معزز قارئین!! غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق آج کراچی کی آبادی پانچ کروڑ سے بھی زائد تجاوز کرچکی ھے لیکن حیرت ھے کہ سرکاری جامعات میں جامعہ کراچی، جامعہ ملیہ، جامعہ ڈاؤ، جامعہ جناح میڈیکل، جامعہ جناح خواتین، جامعہ این ای ڈی، جامعہ ڈاود انجیئرنگ، اور دو وفاقی جامعیات جن میں جامعہ وفاقی اردو ایک یونیورسٹی روڈ پر دوسری بابائے اردو روڈ پر واقع ہیں۔ مختصراً جامعہ کراچی واحد یونیورسٹی ھے جسے ھم یونیوسٹی کہہ سکتے ہیں جس میں بیشمار شعبہ جات اور وسیع و عریض پھیلاؤ کے سبب مزید نئے شعبہ جات بھی بنائے جاسکتے ہیں۔ اٹھارہ ویں ترامیم کے بعد تمام کی تمام جامعات کو سندھ سرکار یعنی وزیراعلیٰ کے زیر تسلط کردیا گیا ھے۔ یو جی سی کا ایک ہی کام رہ گیا ھے کہ کراچی بھر کی جامعات سے بھاری بھاری فیسیں وصول کرکے اشرفیہ کے عیش و تعیش کا اہتمام کریں۔ یو جی سی اور سندھ حکومت کے پاس بے پناہ فنڈ ہونے کے باوجود مخیر حضرات سے بھیک مانتے انہیں نہ شرم آتی ھے نہ حیاء۔ ذہین، قابل، فطین طلبہ و طالبات غربت کے سبب فیس کی ادائیگی نہیں کرسکتے تو وہ اسکالرشپ کیلئے اپلائی کرتے ہیں اس پروسس میں جس قدر اذیت، ذہنیت، تکالیف و پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ھے وہ الگ داستان ھے افسوس سے کہنا پڑتا ھے کہ ہماری الیکٹرونک میڈیا نے آج تک اس بابت نہ تو نیوز پکیجز بنائے نہ ہی اوسی وی او لیا اور نہ ہی اسٹوری فائل کرنے کی زحمت گوارا کی۔ دوسری جانب پرنٹ میڈیا نے بھی اپنی آنکھیں بند رکھیں۔ سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ ہوں یا سینئر وزیر شرجیل انعام میمن یا پھر وزیر تعلیمات سید سردار علی شاہ ان تینوں افراد کے منہ سے سچ نکلنا گویا کفر ہونا ھے اور تو اور صدیقی صاحب جو کراچی سٹی گورنمنٹ کے میئر ہیں مرتضیٰ وہاب وہ بھی اول نمبر کے جھوٹے انسان ثابت ہوئے۔ یوں لگتا ھے کہ سندھ اسمبلی ہی جھوٹوں کا پلندہ، فریبیوں مکاروں و عیاروں کا گروہ بند پٹہ ہیں کسی ایک میں ایمان کی جھلک نظر نہیں آتی گویا انہیں مر کر رب کو جواب دینا ہی نہیں۔ پورا کراچی ادھیڑ کر رکھ دیا ھے کوئی ایک شاہراہ سڑک گلی ایسی نہیں جہاں گڑھے کھڈے ابلتے گٹر بہتے گندے پانی کے جوہڑ حقیقت تو یوں محسوس ہوتی ھے کہ بندروں کے ہاتھ چنے پکڑا دیئے ہوں بندر کبھی ادھر اچلتے ہیں کبھی ادھر اچھلتے ہیں یہی حال سندھ سرکار کا ھے اٹھارہ سالوں سے اسٹبلشمنٹ انہیں چنے تھمادیتی ھے۔ اسٹبلشمنٹ کیوں ڈرتی ھے کیا سندھ میں سندھی قابل نہیں مہاجر قابل نہیں بلوچی قابل نہیں سرائیکی قابل نہیں پٹھان قابل نہیں پنجابی قابل نہیں سندھ وہ صوبہ ھے جہاں ہر زبان ہر قوم کا شخص آباد ہیں قابلیت کا تعلق نہ زبان سے ھے نہ قوم سے اور نہ ہی کسی قبیلہ ذات پات سے علم و ہنر کسی کی میراث نہیں بہتر یہی ھے کہ ہر وہ پاکستانی جو کمال حقہ ماہرانہ صلاحیت، قابلیت، اہلیت، ذہانت، اور فطانیت کا حامل ہو اس کا ہر طرح سے جانچ پڑتال کے بعد ریاستی امور چلانے کیلئے منتخب کیا جائے۔ مختار کار و رجسٹرار سے لیکر کمشنر تک اور اسسٹنٹ کمشنر سے لیکر چیف سیکریٹری تک، انسپکٹر سے لیکر آئی جی تک، وزراء و مشراء اور وزیراعلیٰ و گورنر کیساتھ ساتھ وزیراعظم و صدر مملکت تک اور قومی و صوبائی اسمبلی کے اسپیکر ڈپٹی اسپیکر، چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ تک ان تمام اہم ترین مبصب کیلئے بھی سی ایس ایس کی طرح امتحانات و انٹرویوز لئے جائیں تاکہ ملکِ پاکستان کے نظام ریاست کو چلانے کیلئے انتہائی ذہین و قابل اشخاص میسر ہوسکیں اور ایمانداری و دیانتداری کا عملاً مظاہرہ نظر آسکے یہی بہتر نظام ھے بہتر طریقِ کار بھی۔ ملک و قوم بناء تعلیم اور اچھی صحت کے نہ ترقی کرسکتے ہیں نہ خوشحال زندگی بسر کرسکتے ہیں۔ یہ دین سے دور گمراہ کن وزراء و مشراء سیاسی رہنماء اور اسٹبلشمنٹ بھول گئے کہ حقیقی رہنمائی حقیقی روشنی حقیقی علم حقیقی دانائی حقیقی فنون حقیقی امنو سکون حقیقی انسانیت حقیقی احساسیت حقیقی درد و الم حقیقی انصاف حقیقی عدل حقیقی خوشیاں حقیقی عبادات اور حقیقی زندگی کی راہ ہدایات رہنمائی مشعل ہمیں اللہ سبحان تعالیٰ و رسولِ خدا ﷺ نے من حیث امت *”قرآن الحکیم و الفرقان المجید”* الہامی مقدس کتاب کی صورت میں عطا کیا ھے بس اس میں موجود اللہ کے قوانین و احکامات کی پیروری کرنا ہی ہم سب کی ذمہداری ھے۔۔۔۔!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں