عمرکوٹ رپورٹ بیوروچیف ڈاکٹر ایم لال واگھانی
سامارو میں گٹکے کے کاروبار کے خاتمے کے دعوے تو کیے جا رہے ہیں، مگر زمینی حقائق کچھ اور ہی تصویر پیش کر رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق یہ غیر قانونی دھندا اب خفیہ اور منظم انداز میں جاری ہے، جبکہ اس کا نیٹ ورک مبینہ طور پر بااثر افراد کی سرپرستی میں چلایا جا رہا ہے۔
عوام نے صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
مزید تفصیلات اس رپورٹ میں۔
سامارو میں گٹکے کے کاروبار سے متعلق صورتحال بظاہر تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔
ذرائع کے مطابق شہر میں گٹکے کا دھندا مکمل طور پر ختم نہیں ہوا بلکہ اب یہ زیادہ منظم اور خفیہ انداز میں جاری ہے۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ اس غیر قانونی کاروبار کا خام مال ایک بااثر شخصیت کے گھر میں محفوظ رکھا گیا ہے، جہاں سے پورا نیٹ ورک نہایت احتیاط کے ساتھ چلایا جا رہا ہے۔
مقامی سطح پر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ گٹکے کا کاروبار ختم ہو چکا ہے، جبکہ دیگر منشیات کے پھیلاؤ کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے تاکہ متعلقہ حکام کو گمراہ کیا جا سکے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر واقعی مؤثر کریک ڈاؤن کیا گیا ہوتا تو گٹکے کی فروخت مکمل طور پر بند ہو جاتی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ آج بھی دستیاب ہے—البتہ اب خفیہ طریقوں سے اور مہنگے داموں فروخت کی جا رہی ہے۔
عوامی حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایس ایس پی عمرکوٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں، شفاف تحقیقات کروائیں، اور اس دھندے میں ملوث عناصر کے ساتھ ساتھ ان کے سہولت کاروں کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کریں، تاکہ نوجوان نسل کو اس ناسور سے بچایا جا سکے۔
رپورٹ: ڈاکٹر ایم لال واگھانی، بیوروچیف عمرکوٹ
خوشاب (راجہ نورالہی عاطف سے) ایکس ایڈوائزر ٹو چیف منسٹر پنجاب ایڈووکیٹ ملک امحد رضاگجر نے
نوابشاہ(رپورٹ۔انور عادل خانزادہ)مددگار 15 پولیس نوابشاہ کی بروقت کاروائی، 13 سالہ اور 10 سالہ دو
نوابشاہ(رپورٹ۔انور عادل خانزادہ)”ایس ایس پی سمیر نور چنہ کی سربراہی میں شہید بینظیر آباد پولیس کی
نوابشاہ(رپورٹ۔انور عادل خانزادہ)شہید بینظیر آباد پولیس کا ڈاکوؤں سے مقابلہ” تھانہ گپچانی کی حدود
سکھر سے بیورو چیف سید نصیر حسین زیدی گے محرم کی ممرکزی قدیمی جلوس عزا خانہ سید صابر