پاکستان میں غذائی قلت
تحریر:اللہ نوازخان
allahnawazk012@gmail.com
پاکستان میں غذائی قلت کا مسئلہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔غذائی قلت بچوں کی صحت کےلیےہی نہیں بلکہ قومی ترقی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ غذائی قلت کا سامنا کر رہا ہے اور 75 لاکھ سے زائد افراد اس قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔رپورٹس کے مطابق تقریبا 40 فیصد بچوں کو ضروری غذا دستیاب نہیں ہوتی ہے۔پاکستان میں سب سے زیادہ غذائی قلت بلوچستان میں ہے۔اس کے بعد سندھ میں زیادہ غذائی قلت پائی جاتی ہے۔سندھ کاعلاقہ تھر سب سے زیادہ غربت زدہ ہے،یہاں ہزاروں بچے غذائی بحران کی وجہ سے موت کا شکار ہو رہے ہیں۔پنجاب اور کے پی کے بھی غذائی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔یہ بہت ہی افسوسناک صورتحال ہے کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود بھی خوراک کی کمی کا سامنا کر رہا ہے۔سب سے بڑی وجہ حکمرانوں کی غلط پالیسیاں ہیں،جو غذائی بحران پیدا ہو گیا ہے۔اگر حکومت بہترین منصوبہ بندی کرے تو پاکستان میں غذا کی کمی کسی صورت میں نہیں ہوگی۔ماضی کی نسبت حال بدتر ہے،اگر اب بھی توجہ نہ دی گئی تو مستقبل اس سے بھی زیادہ خطرناک ہوگا۔غذا کے لیے سب سے زیادہ گندم کا استعمال کیا جاتا ہے،اس کے بعد چاول اور دیگر اجناس بھی بطور خوراک استعمال کی جاتی ہیں۔گندم کا سب سے زیادہ استعمال ہے اور گندم کی فصل عدم توجہ کی وجہ سے کم کاشت کی جا رہی ہے۔ایک اور مسئلہ بھی ہے کہ گندم کی کاشت پر بہت زیادہ لاگت آتی ہے،اسی لیے کسانوں نے گندم کی کاشت محدود کر دی ہے۔گندم کی کاشت پر توجہ دی جائے تو خوراک کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔گندم کی کاشت زیادہ کرنے سے ایک تو غذائی قلت ختم ہو جائے گی اور دوسرا زر مبادلہ بھی حاصل ہوگا۔
غذائی قلت کی دیگر وجوہات بھی ہیں۔غربت کی وجہ سے لوگ متوازن غذا خرید نہیں سکتے۔مہنگائی نے بھی خوراک کو شدید متاثر کیا ہوا ہے۔محدود آمدنی اور بڑھتی مہنگائی کی وجہ سے مناسب خوراک کا حصول بہت ہی مشکل ہو گیا ہے۔دیگر ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے کم خوراک استعمال کی جاتی ہے۔کم خوراک انسانی صحت کے لیے سخت نقصان دہ ہے۔صاف پانی کی عدم دستیابی بھی ایک بہت بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔اگربہترخوراک حاصل ہو جائے تو پینے یا دیگر استعمال کے لیے گندا پانی دستیاب ہوتا ہے۔گندا پانی انسانی صحت کو شدید متاثر کرتا ہے۔ایک دہائی قبل خوراک کی قلت نہیں تھی،لیکن اب خوراک میں بہت زیادہ کمی دیکھنے میں نظر آرہی ہے۔پاکستان کے ادارہ برائے شماریات نے چند ماہ قبل 2024۔2025 کا سروے جاری کیا تھا،جس میں وضاحت کی گئی تھی کہ 2018 کے مقابلے میں خوراک کی قلت کا سامنا کرنے والے گھرانوں میں اضافہ دیکھنے کو ملا۔ایک عالمی ادارےGloble report of food crisis 2026 کے مطابق پاکستان 10 غذائی بحران والےممالک میں شامل ہے۔پاکستان میں کروڑوں افراد ایسے ہیں جن کو معمولی قسم کی خوراک دستیاب ہوتی ہے۔بے شمار گھرانوں میں ایسی غذا کھائی جا رہی ہے جو صحت کے اصولوں کے مطابق پوری نہیں اترتی۔جب تک معیاری خوراک دستیاب نہ ہو تو فرد کی صلاحیتیں محدود ہو جاتی ہیں۔غذائی قلت کی وجہ سے معاشرہ انتشار کی طرف بڑھتا ہے۔جو افراد خوراک کی قلت کا سامنا کر رہےہوتےہیں اور دوسروں سے چھیننے کی کوشش کرتے ہیں،جس کی وجہ سے معاشرہ بگاڑ کی طرف بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔
بہتر غذامیسر نہ ہونے یا غذائی قلت کی وجہ سے چھوٹے بچوں میں بہت سی بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔غذائی قلت کا شکار بچے ہلاک ہو جاتے ہیں،اگر موت سے بچ جائیں تو مختلف قسم کی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔کم خوراک کی وجہ سے بچوں کا قد بھی چھوٹا رہ جاتا ہے اور جسم دبلا ہوجاتاہے۔اس کے علاوہ زنک اور آئیوڈین کی کمی،جسم کا ٹھٹر جانا،خون کی کمی اور جسمانی نشوونما میں کمی سمیت دیگر بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔چھوٹے بچوں کا حق ہے کہ ان کو بہتر اور معیاری خوراک دی جائے تاکہ معاشرے کے بہترین شہری بن سکیں۔چھوٹے بچوں کے علاوہ بڑوں کے لیے بھی معیاری خوراک ضروری ہے۔نوزائیدہ بچوں کو ماں کے دودھ کی ضرورت ہوتی ہے،اگر ماں کو معیاری خوراک نہ ملے تو دودھ کم ہوتا ہے جس کی وجہ سے بچے کی بھوک ختم نہیں ہوتی۔چھوٹے بچوں کو معیاری خوراک نہ ملنا انتہائی نقصان دہ ہے اور اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔بچوں کے لیے خوراک کے علاوہ معیاری علاج بھی فوری دستیاب ہونا ضروری ہے۔
خوراک کی قلت پر قابو پانے کے لیے فوری لائحہ عمل اختیار کرنا ضروری ہے۔زراعت پر توجہ دے کر غذائی قلت کو ختم یا قابو کیاجا سکتا ہے۔گندم اور چاول کی کاشت بڑھائی جائے تاکہ غذائی بحران سےنپٹاجا سکے۔ایک افسوسناک وجہ یہ بھی ہے کہ لاکھوں ٹن خوراک ضائع کر دی جاتی ہے۔بے شمار گھرانے بچ جانے والی غذا کو کچرے کے ڈھیروں پر پھینک دیتے ہیں۔کچرے پر پھینکی جانے والی غذاحقدار انسانوں کو دی جائے تو بہت حد تک نہ سہی،ایک حد تک غذائی قلت پر قابو پایا جا سکتا ہے۔صاف اور معیاری غذا کا حصول ہر پاکستانی کا حق ہے اور اس سے محروم رکھنا بہت ہی افسوسناک ہے۔یہ درست ہے کہ غذائی قلت پر قابو پاناآسان نہیں ہوتا اگر عوامی تعاون حاصل نہ ہو۔عوام اور حکومت مل کر ہی اس بحران پر قابو پا سکتے ہیں۔ہمیں مل کر ہی اس بحران کو حل کرنا ہوگا،ورنہ جتنی دیر ہوتی جائے گی اتنا ہی نقصان بڑھتا جائے گا۔
نوٹ:
روزنامہ جمہوری طاقت لاہور مسلسل میرے کالموں کی چوری کر کے انہیں دوسرے ناموں سے شائع کر رہا ہے۔ یہ عمل صرف میرے ساتھ نہیں بلکہ دیگر متعدد کالم نگاروں کے ساتھ بھی جاری ہے۔
درجنوں کالموں کا یہ سرقہ غیر اخلاقی، غیر شرعی اور غیر قانونی عمل ہے۔ مثال کے طور پر:
میرا کالم “پاکستان کا زوال پذیر نظام صحت” 21 اپریل 2026 کو میرے نام سے روزنامہ زمانہ نیوز، باد شمال، روزنامہ قوم اور دیگر اخبارات میں شائع ہوا۔ جبکہ 23 اپریل 2026 کو اسی کالم کو روزنامہ جمہوری طاقت لاہور میں اہم طاہر علی مرشد کے نام سے چھاپ دیا گیا۔
اسی طرح میرا کالم “امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی ناکامی” 27 اپریل 2026 کو میرے نام سے زمانہ نیوز، باد شمال، ملتان ویلی، روزنامہ جناح، روزنامہ اخبار حق، خبر گیر، روزنامہ آزادی اور دیگر اخبارات میں شائع ہوا۔ مگر 28 اپریل 2026 کو روزنامہ جمہوری طاقت میں اسے غلام مصطفیٰ کے نام سے شائع کر دیا گیا۔
علاوہ ازیں، میرے متعدد کالم جو پاکستان کے مختلف اخبارات کے علاوہ غیر ملکی اخبارات میں بھی شائع ہو چکے ہیں، انہیں بھی جمہوری طاقت لاہور نے کسی دوسرے نام کے حوالے سے چھاپا ہے۔
یہ مسلسل سرقہ نہ صرف صحافتی اخلاقیات کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ کاپی رائٹ قانون کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔ متاثرہ کالم نگار اس سلسلے میں قانونی کارروائی کے لیے مشاورت کر رہے ہیں۔
پتوکی شادی شدہ خاتون نے بائیس سالہ لڑکے نے شادی سے انکار کیا
نوابشاہ(رپورٹ۔انور عادل خانزادہ) یکم مئی یوم مزدور کے حوالے سے آل پاکستان واپڈا ہائیڈروالیکڑک ورکرز
ٹھٹھ پرپوٹ عبدالعزیز شیخ *ٹھٹہ پولیس کی کامیاب کارروائی*
محنت کش طبقہ کسی بھی معاشرے کی ترقی اور خوشحالی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔محب اللہ خان
پاکستان کے محنت کش مزدوروں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔انور سیف اللہ خان