8

سکھر بیورو چیف سید نصیر حسین زیدی *مظلوم طبقے کی محرومیوں کا خاتمہ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے، ام رباب چانڈیو*

سکھر بیورو چیف سید نصیر حسین زیدی
*مظلوم طبقے کی محرومیوں کا خاتمہ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے، ام رباب چانڈیو*
​سکھر/دادو: معروف سماجی رہنما اور قانون دان ام رباب چانڈیو نے یکم مئی، مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر دنیا بھر اور بالخصوص پاکستان کے محنت کشوں کو ان کی جدوجہد پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج کا دن شکاگو کے ان شہداء کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے اپنے خون سے محنت کشوں کے حقوق کی بنیاد رکھی۔ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ پاکستان میں آج بھی مزدور طبقہ ریاست کی بے حسی اور سرمایہ دارانہ نظام کی چکی میں پس رہا ہے۔ پاکستان میں رائج لیبر قوانین کے مطابق مزدور کی کم از کم اجرت پر عمل درآمد نہ ہونا ایک سنگین جرم ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں مزدور سے کام تو پورا لیا جاتا ہے لیکن اسے دی جانے والی اجرت اس کے خاندان کے دو وقت کی روٹی کے لیے بھی ناکافی ہے، محنت کشوں کو سوشل سیکیورٹی، ہیلتھ کارڈ اور ای او بی آئی (EOBI) جیسی بنیادی سہولیات سے محروم رکھنا قانونی اور انسانی جرم ہے۔ ام رباب چانڈیو نے اپنے بیان میں کہا کہ فیکٹریوں، بھٹہ خیزوں اور زرعی شعبوں میں مزدوروں سے ان کی ہمت سے زیادہ کام لیا جاتا ہے، جبکہ ان کی کام کی جگہ پر حفاظتی اقدامات (Safety Standards) نہ ہونے کے برابر ہیں، جس کی وجہ سے قیمتی جانوں کا ضیاع ایک معمول بن چکا ہے۔ ام رباب چانڈیو نے زور دیا کہ جب تک مزدور کو اس کے پسینے کے خشک ہونے سے پہلے اس کی جائز اجرت اور قانونی حقوق نہیں ملیں گے، معاشرے میں معاشی انصاف قائم نہیں ہو سکتا۔ام رباب چانڈیو نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ لیبر قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے، جبری مشقت کا خاتمہ کیا جائے اور ہر محنت کش کی کم از کم اجرت کو موجودہ مہنگائی کے تناسب سے مقرر کر کے اسے یقینی بنایا جائے۔ ​انہوں نے اپنے پیغام کے آخر میں کہا، “میں ہر اس ہاتھ کو سلام پیش کرتی ہوں جس کے ہاتھوں کے چھالے اس ملک کی معیشت کا پہیہ چلا رہے ہیں۔ ہماری جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ہر مزدور اور مظلوم کو اس کا آئینی اور انسانی حق نہیں مل جاتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں