9

مزدوروں کے حقوق اب بھی ادھورے تحریر: اللہ نواز خان

مزدوروں کے حقوق اب بھی ادھورے
تحریر: اللہ نواز خان allahnawazk012@gmail.com
دنیا بھر میں یکم مئی کو یوم مزدور منایاجاتا ہے۔1886 میں شکاگو کے مقام پر مزدور پرامن مظاہرہ کر رہے تھے کہ پرامن مظاہرین پر پولیس نے گولی چلائی، جس کے نتیجے میں کئی مزدور ہلاک ہونے کے علاوہ زخمی بھی ہو گئے۔علاوہ ازیں کئی مزدور رہنماؤں کو پھانسیاں بھی دی گئیں۔ان مزدوروں کا مطالبہ یہ تھا کہ ان سے آٹھ گھنٹے کام لیا جائے۔کیونکہ اٹھارہ،اٹھارہ گھنٹے مزدوروں سے کام لیا جاتا تھا اور بدلے میں معمولی سی اجرت دی جاتی ۔مزدوروں نے اپنے حقوق کی لیےآواز اٹھائی تو ان کو دبانے کی کوشش کی گئی۔ذخر کار مزدوروں کی جدوجہد کامیاب ہو گئی اور یہ معاہدہ طے پایا کہ آٹھ گھنٹے کام کیا جائے گا نیز بہتر معاوضہ بھی دیا جائے گا۔آٹھ گھنٹے کام اور بہتر معاوضہ مزدوروں کی بہت بڑی کامیابی تھی۔اس سے قبل مزدور کی زندگی بہت ہی اذیت ناک تھی۔آرام کے لیے بھی وقت نہیں ملتا تھا اورغمی و خوشی میں بھی شرکت نہیں کر سکتا تھا۔بہت ہی افسوسناک صورتحال تھی کہ ایک شخص معاشرے سےعلیحدہ ہوکر سرمایہ کار کی تجوری بھرے اور بدلے میں اس کو معمولی سی اجرت نصیب ہو۔معمولی سی اجرت سے مزدور اور اس کے خاندان کی ضروریات پوری نہیں ہو سکتی تھی بلکہ سسک سسک کر زندگیا گزاری جا رہی تھیں۔کارخانوں وغیرہ میں مزدور موسم کی سختیوں کا لحاظ کیے بغیر محنت مشقت کرنے پر مجبور تھے۔مزدوروں کو نہ تو اچھی خوراک دستیاب تھی اور نہ ان کو رہائش کے لیے معیاری ریائش گاہیں حاصل تھیں۔تعلیم اور صحت کا نظام بھی مزدوروں کے لیے انتہائی غیر مناسب تھا۔سسک سسک کر زندگی گزارنے والے مزدوروں کو آخر کار سرمایہ کارحقوق دینے پر راضی ہوئے۔اب ہر سال یکم مئی کو لیبر ڈےمنایا جاتا ہے۔اس دن مزدور تنظیمیں ریلیاں نکالتی ہیں،جن کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مزدوروں کو حقوق ملتے رہیں۔
افسوس سےکہنا پڑتا ہے کہ اب بھی بہت سے ممالک ہیں، جہاں مزدوروں کو حقوق نہیں ملتے۔تیسری دنیا میں مزدور اب بھی پس رہے ہیں۔سرمایہ کار تو اپنی تجوریاں بھر رہے ہیں لیکن مزدوروں کو کچلا جا رہا ہے۔پاکستان میں مزدوروں کو کم حقوق دستیاب ہیں۔پاکستان کے صوبہ پنجاب میں خٹک بیلٹ کے علاقے کے مزدور بہت زیادہ پسماندگی کا شکارہیں۔کوئلہ،سلیقہ اوردیگر معدنیات کی مائنز میں کام کرنے والے مزدوروں کو مناسب معاوضہ بھی نہیں ملتا اور دیگر مراعات سے بھی محروم ہیں۔خٹک بیلٹ میں اربوں روپے کمائےجارہے ہیں لیکن پانی جیسی نعمت وہاں میسر نہیں۔اسی طرح پاکستان کے علاوہ انڈیا،بنگلہ دیش سمیت کئی ممالک میں مزدوروں کی حالت زار بہت ہی مایوس کن ہے۔عرب ریاستوں میں بھی مزدوروں کو مناسب معاوضہ دستیاب نہیں ہوتا۔ترقی پذیر ممالک میں کھیتوں میں کام کرنے والے مزدور ہوں یا صنعتی مزدور،بلڈنگز تعمیر کرنے والے یا کسی ورکشاپ میں کام کرنے والے مزدورہوں ،تمام مزدور اذیت ناک زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ترقی یافتہ ممالک میں مزدوروں کے حقوق تسلیم کیے گئے ہیں،وہاں ان کا معیار زندگی بہت بہتر ہے۔مزدور کسی بھی معاشرے کا ایک اہم جزو ہوتا ہے،اس کے حقوق کا پورا خیال رکھنا چاہیے۔مزدور کے بغیر نہ تو مکانات تعمیر کیے جا سکتے ہیں اور نہ فیکٹریاں چل سکتی ہیں،ان کے حقوق کی پاسداری لازمی ہونی چاہیے۔
مزدور کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔اسلام میں بھی محنت مزدوری کی خاص اہمیت بیان کی گئی ہے۔اسلام تلقین کرتا ہے کہ مزدور کے حقوق کا خیال رکھا جائے۔پوری اجرت دینے کے علاوہ فوری طور پر اجرت دینا لازمی ہے۔ایک حدیث کے مطابق”مزدور کو مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کر دی جائے”(ابن ماجہ)ایک اور حدیث میں محنت کی عظمت بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے”ہاتھ سے کمانے والا اللہ کا دوست ہے”(مسند احمد) مزدور کو مزدوری کے بارے میں پہلے بتا دیا جائے تاکہ بعد میں کوئی مسئلہ نہ بنے۔بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ مزدور کا حق زیادہ بنتا ہے لیکن کام کروانے والا کم دینا چاہتا ہے۔ایک حدیث میں وضاحت کی گئی ہے”اجیر کو اجرت پر رکھو تو اس سے اس کی اجرت پہلے بتا دو”(نسائی) محنت مزدوری کرنا کوئی عیب نہیں بلکہ ایک بہترین عمل ہے۔اللہ تعالی محنت کو ضائع نہیں کرتے بلکہ اس کا اجر ضرور دیتے ہیں۔قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالی ہے”انسان کو وہی کچھ ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے”(سورۃ النجم) مزدوری کرنا کوئی عیب نہیں بلکہ پیغمبروں نے بھی مزدوری کی۔ایک حدیث میں وضاحت کی گئی ہے”حضرت موسی علیہ السلام نےآٹھ یا دس سال تک حضرت شعیب علیہ السلام کےہاں مزدوری کی”(ابن ماجہ) اسلام مزدوری کی تلقین بھی کرتا ہے اور مزدور کے حقوق کا تعین بھی کرتا ہے۔بعض افراد سمجھتے ہیں کہ ہم کسی کا حق مزدوری کھا کر فائدہ اٹھا رہے ہیں،ان کو سمجھنا چاہیے کہ قیامت کے دن ان کو اس کا حساب دینا پڑے گا۔حدیث کے مطابق”اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں کہ تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جن کا قیامت میں میں خود مدعی بنوں گا۔ایک تو وہ شخص ہے جس نے میرے نام پہ عہد کیا اور پھر وعدہ خلافی کی۔دوسرا وہ جس نے کسی آزاد انسان کو بیچ کر اس کی قیمت کھائی اور تیسرا وہ شخص جس نے کوئی مزدور اجرت پر رکھا،اس سے پوری طرح کام لیا لیکن اس کی مزدوری نہ دی”(بخاری)
یکم مئی کو مزدوروں کے حق کے لیے جلسے کرنے چاہیے،لیکن بات جلسوں تک نہ ہو بلکہ حقوق بھی ان کو ملنے چاہیے۔یکم مئی کو ایک دن چھٹی دےکر یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ مزدوروں کو حق مل گیا ہے بلکہ ان کو اصل مراعات میسر ہوں۔دنیا بھر میں اربوں مزدور ہیں جن کو بنیادی سہولیات میسر نہیں۔کم خوراک،صاف پانی سمیت دیگر بنیادی ضروریات ان کو ضرور حاصل ہونی چاہیے۔مزدور بھی جب تک اپنے حقوق کے لیے متحد نہیں ہوں گے،اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔مزدوروں کی یونینز بنا لی جاتی ہیں لیکن حقوق نہیں ملتے۔ایسی یونینز بننی چاہیے جس سے مزدوروں کو اپنے حقوق حاصل ہوں تاکہ وہ بھی بہتر زندگی گزار سکیں۔کارل مارکس اور فریڈرک اینجلو نے بھی مزدوروں کے حقوق کے لیے عظیم جدوجہد کی۔کارل مارکس اورفریڈرک کا کام تاریخ میں محفوظ ہے۔ان کاایک نعرہ ہےکہ”دنیا بھر کے مزدوروں ایک ہو جاؤ، تمہارے پاس کھونے کو صرف زنجیریں ہیں اور پانے کو سارا جہاں پڑا ہے”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں