*خضدار*
*نجی اور سرکاری اسکولوں کے کینٹینز معصوم بچوں کی صحت کے لیے خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ غیر معیاری اور مضرِ صحت اشیاء کھلے عام فروخت کی جا رہی ہیں، جن پر کوئی مؤثر نگرانی دکھائی نہیں دیتی*
*رپورٹ احمد حسنی*
*عوامی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر خضدار، کمشنر خضدار اور فوڈ کنٹرول اتھارٹی سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ خضدار کے تمام چھوٹے بڑے اسکولوں کے اندر قائم کینٹینز اور اسکولوں کے باہر کھڑی ریڑھیوں پر فروخت ہونے والی اشیاء کی سخت جانچ پڑتال کی جائے*
*اسکولوں کے سامنے کھڑے ریڑھی بان پلاسٹک میں بند باسی بریانی۔سموسے اور دیگر اشیاء لا کر فروخت کرتے ہیں، جو شدید گرمی میں بدبو دار ہو جاتی ہیں۔ کم عمر بچے لاعلمی میں یہ چیزیں خرید کر کھا لیتے ہیں، جس کے باعث وہ دست، قے، گلے کی خرابی اور معدے کی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں*
*عوام نے ہیلتھ منسٹر سے بھی اپیل کی ہے کہ نجی اسکولوں کے مالکان کے خلاف کارروائی کی جائے اور انہیں پابند بنایا جائے کہ وہ اپنے اسکولوں کے سامنے مضرِ صحت اشیاء فروخت کرنے والوں کو فوری طور پر ہٹائیں۔ ساتھ ہی اسکول کینٹینز کی روزانہ کی بنیاد پر باقاعدہ چیکنگ کو یقینی بنایا جائے تاکہ بچوں کی صحت کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے*