آزاد کشمیر وعدوں کے سائے میں بکھرتی امیدیں ۔
تحریر ۔۔۔۔۔ ضرار جگوال
آزاد کشمیر کے عوام ایک طویل عرصے سے ایسے وعدوں، اعلانات اور منصوبوں کے سہارے زندہ ہیں جنہیں ہر دور میں ترقی، خوشحالی اور خود انحصاری کا نام دیا جاتا رہا ہے۔ مگر جب ان دعوؤں کو زمینی حقیقت کے آئینے میں دیکھا جائے تو ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے ایک ایسی تصویر جس میں امیدیں تو بہت ہیں مگر مواقع کم، اعلانات تو بڑے ہیں مگر نتائج نہ ہونے کے برابر یہ صرف ایک انتظامی کمزوری نہیں بلکہ ایک ایسا مسلسل طرزِ حکمرانی بن چکا ہے جس نے عوام کے صبر، اعتماد اور مستقبل تینوں کو داؤ پر لگا دیا ہے۔حال ہی میں متعارف کروایا گیا بلاسود قرضہ پروگرام بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا۔ اس اسکیم کو ایسے پیش کیا گیا جیسے یہ غریب عوام، بے روزگار نوجوانوں اور ہنر مند افراد کے لیے ایک نئی صبح کا آغاز ہو گا لوگوں کو بتایا گیا کہ انہیں بغیر سود کے قرض فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ اپنا کاروبار شروع کر سکیں، اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں اور معاشی طور پر خود مختار بن سکیں۔ یہ اعلان سنتے ہی ہزاروں افراد نے اسے اپنی زندگی بدلنے کا ایک سنہری موقع سمجھا۔ انہوں نے درخواستیں جمع کروائیں، اپنی امیدیں اس پروگرام سے وابستہ کیں، اور کئی لوگوں نے تو اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے منصوبہ بندی بھی شروع کر دی درخواست کے عمل میں مختلف افراد سے 500 سے لے کر 2000 روپے تک فیس بھی وصول کی گئی بظاہر یہ ایک معمولی رقم لگتی ہے، مگر جب یہی رقم ہزاروں لوگوں سے جمع کی جائے تو یہ صرف فیس نہیں رہتی بلکہ ایک اجتماعی امید کی قیمت بن جاتی ہے۔ غریب آدمی کے لیے یہ رقم بھی اہم ہوتی ہے وہ اسے اپنی ضرورتیں کاٹ کر دیتا ہے، یہ سوچ کر کہ شاید یہی اس کی تقدیر بدلنے کا پہلا قدم ہو مگر وقت گزرنے کے ساتھ جب قرض کی فراہمی کا مرحلہ آیا تو حقیقت نے ایک بالکل مختلف رخ اختیار کر لیا۔ ایسی شرائط و ضوابط سامنے آئے جنہیں پورا کرنا عام آدمی کے لیے تقریباً ناممکن ہو گیا۔ متعدد ضامن، بینکنگ ریکارڈ، سیکیورٹی، پیچیدہ دستاویزات یہ سب وہ تقاضے تھے جو ایک دیہاڑی دار، بے روزگار یا کمزور مالی حیثیت رکھنے والے شخص کے لیے کسی دیوار سے کم نہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہی لوگ جو اس اسکیم کے اصل مستحق تھے، وہی اس سے باہر ہو گئے، اور اسکیم صرف کاغذوں اور فائلوں میں محدود ہو کر رہ گئی۔یہاں سوال صرف یہ نہیں کہ شرائط سخت کیوں تھیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ شرائط ابتدا میں واضح کی گئی تھیں؟ کیا عوام کو مکمل سچ بتایا گیا تھا؟ یا پھر ہمیشہ کی طرح ایک خوبصورت خواب دکھا کر حقیقت کو بعد میں مسلط کر دیا گیا؟ اگر ایسا ہوا ہے تو یہ صرف نااہلی نہیں بلکہ عوام کے اعتماد کے ساتھ ایک سنگین کھیل ہے۔یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ آزاد کشمیر میں یہ پہلا موقع نہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں بارہا ایسے منصوبے سامنے آئے جنہوں نے ابتدا میں امید جگائی مگر انجام مایوسی پر ختم ہوا۔ اعلان کے وقت بلند بانگ دعوے، پریس کانفرنسیں، اور تعریفوں کے پل مگر عملی میدان میں خاموشی، سستی اور بے نتیجہ اقدامات۔ یہ طرزِ حکمرانی اب عوام کے لیے ناقابلِ برداشت بنتا جا رہا ہے۔بے روزگاری اس وقت آزاد کشمیر کا سب سے بڑا زخم ہے۔ نوجوان تعلیم حاصل کر رہے ہیں، ڈگریاں لے رہے ہیں، ہنر سیکھ رہے ہیں، مگر جب عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں تو انہیں کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ نہ سرکاری ادارے انہیں جذب کرنے کے قابل ہیں، نہ نجی شعبہ اس حد تک ترقی یافتہ ہے کہ مواقع پیدا کر سکے۔ نتیجتاً، ایک پوری نسل مایوسی، بے چینی اور بے یقینی کے اندھیروں میں دھکیل دی گئی ہے۔ہنر مند افراد، جو کسی بھی معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں، وہ بھی نظر انداز کیے جا رہے ہیں۔ نہ ان کے لیے کوئی پلیٹ فارم، نہ کوئی پالیسی، نہ کوئی رہنمائی۔مزدور طبقہ مسلسل محنت کرتا ہے مگر اس کی محنت کا پھل مہنگائی، ناانصافی اور بے ترتیبی کی نذر ہو جاتا ہے۔ یہ وہ حالات ہیں جہاں محنت کرنے والا بھی ہار ماننے لگتا ہے۔اگر بنیادی سہولیات پر نظر ڈالی جائے تو صورتحال مزید افسوسناک ہو جاتی ہے۔ صحت کے مراکز ناکافی، تعلیمی معیار غیر متوازن، ٹرانسپورٹ کا نظام کمزور، اور زرعی شعبہ پرانا اور غیر مؤثر۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایک ریاست اپنے عوام کو بنیادی سہولیات بھی فراہم نہ کر سکے تو پھر ترقی کے دعوے کس بنیاد پر کیے جا رہے ہیں؟مسئلہ صرف وسائل کی کمی کا نہیں یہ بات اب واضح ہو چکی ہے۔ اصل مسئلہ ترجیحات، نیت اور سنجیدگی کا ہے۔ جب منصوبے عوام کی حقیقی ضروریات کے مطابق نہ بنیں بلکہ صرف دکھاوے، سیاسی فائدے یا وقتی مقبولیت کے لیے بنائے جائیں، تو ان کا انجام ہمیشہ ناکامی ہی ہوتا ہے۔ عوام میں یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ حکومتی اسکیمیں عام آدمی کے لیے نہیں بلکہ ایک محدود دائرے تک سمٹ کر رہ جاتی ہیں۔ اگر یہ تاثر غلط بھی ہو، تب بھی اس کا پیدا ہونا خود ایک ناکامی ہے، کیونکہ ایک کامیاب حکومت وہ ہوتی ہے جو نہ صرف انصاف کرے بلکہ انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آئے۔ نوجوان نسل آج ایک خطرناک دوراہے پر کھڑی ہے۔ ایک طرف اس کے خواب ہیں، اس کی محنت ہے، اس کی تعلیم ہے اور دوسری طرف ایک ایسا نظام ہے جو اسے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں اگر ریاست نے اپنی ذمہ داری ادا نہ کی تو یہ مایوسی ایک بڑے سماجی بحران میں بدل سکتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا کیا جائے؟ سب سے پہلے، حکومتی سطح پر سنجیدگی دکھانا ہو گی۔ عوام کو مزید خواب دکھانے کے بجائے حقیقت پسندانہ منصوبے بنانے ہوں گے۔ ہر اسکیم کی مکمل تفصیل، شرائط اور طریقہ کار شروع سے واضح کرنا ہو گا فیس لی جائے تو اس کا حساب بھی دیا جائے کیونکہ عوام کا پیسہ عوام کی امانت ہوتا ہے۔دوسرا، نظام کو آسان بنایا جائے۔ ایسے پیچیدہ تقاضے ختم کیے جائیں جو غریب آدمی کے لیے ناقابلِ عمل ہوں اگر ایک اسکیم کا فائدہ صرف وہی اٹھا سکیں جو پہلے ہی مضبوط ہیں تو پھر وہ اسکیم اپنے مقصد میں ناکام ہے۔تیسرا، نوجوانوں کے لیے ایک واضح، عملی اور مربوط پالیسی بنائی جائے۔ صرف تقریریں نہیں، بلکہ عملی اقدامات کیے جائیں انڈسٹری، ٹیکنیکل سینٹرز، چھوٹے کاروبار، اور مقامی وسائل کو بروئے کار لانے کے منصوبے۔چوتھا، احتساب اور وہ بھی حقیقی احتساب۔ ہر منصوبے کا حساب لیا جائے، ہر خرچ کی نگرانی ہو، اور جہاں غلطی ہو وہاں فوری کارروائی کی جائے۔ کیونکہ بغیر احتساب کے کوئی بھی نظام دیر تک نہیں چل سکتا۔آزاد کشمیر کے عوام اب صرف وعدے نہیں چاہتے۔ وہ جواب چاہتے ہیں، نظام چاہتے ہیں، انصاف چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھ وہی سلوک ہو جو ایک باعزت شہری کے ساتھ ہونا چاہیے۔کیونکہ جب امید بار بار ٹوٹتی ہے تو صرف ایک منصوبہ نہیں مرتا ایک قوم کا اعتماد مر جاتا ہے۔ اور جب اعتماد ختم ہو جائے تو ترقی کے تمام دعوے کھوکھلے ہو جاتے ہیں۔اگر حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھا جائے تو آزاد کشمیر کی ترقی ناممکن نہیں، مگر اس کے لیے صرف نعروں اور اعلانات سے آگے بڑھ کر ایک منظم، سنجیدہ اور مسلسل عمل درکار ہے۔ ترقی کسی ایک ادارے، ایک حکومت یا ایک اسکیم کا نام نہیں بلکہ ایک اجتماعی نظام کا نتیجہ ہوتی ہے جس میں ریاست، ادارے، نجی شعبہ اور عوام سب کا کردار ہوتا ہے۔سب سے پہلے ریاستی سطح پر پالیسی سازی کو حقیقت سے جوڑنا ضروری ہے ترقیاتی منصوبے صرف کاغذی اعداد و شمار کے لیے نہیں بلکہ زمینی ضروریات کے مطابق بننے چاہئیں۔ہر ضلع، ہر تحصیل اور ہر علاقے کی معاشی حقیقت کو سامنے رکھ کر الگ ترقیاتی ماڈل تشکیل دیا جانا چاہیے۔ ایک ہی طرز کی پالیسی ہر جگہ لاگو کرنا اکثر ناکامی کا باعث بنتا ہے۔اہم کردار حکومت اور اداروں کا ہے۔ حکومت کا کام صرف منصوبے اعلان کرنا نہیں بلکہ ان پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔ اس کے لیے شفاف نظام، ڈیجیٹل مانیٹرنگ، اور آزاد آڈٹ سسٹم ناگزیر ہیں۔ ہر اسکیم کی مکمل تفصیل عوام کے سامنے ہونی چاہیے تاکہ اعتماد بحال ہو سکے۔اور سب سے اہم کردار نجی شعبے کا ہے۔ کوئی بھی ریاست صرف سرکاری نوکریوں سے ترقی نہیں کرتی۔ صنعت، چھوٹے کاروبار، زراعت اور مقامی انٹرپرینیورشپ کو فروغ دینا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ سرمایہ کاروں کے لیے آسان ماحول پیدا کرے تاکہ وہ آزاد کشمیر میں صنعتیں لگائیں اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں لیکن ان سب سے بڑھ کر ایک حقیقت جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا وہ یہ ہے کہ ہنر مند افراد ہی کسی بھی ریاست کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ اگر ایک معاشرہ اپنے ہنر مند افراد کو نظر انداز کر دے تو وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔ہنر مند افراد کو صرف تربیت دینا کافی نہیں بلکہ انہیں عملی میدان میں جگہ دینا ضروری ہے۔ اصل ترقی تب ممکن ہے جب ایک نوجوان صرف ڈگری لے کر بے روزگار نہ پھرے بلکہ اس کے پاس اپنا ہنر، اپنا کاروبار اور اپنا مستقبل ہو۔ جب مزدور کو اس کی محنت کا پورا معاوضہ ملے، جب ہنر مند کو اس کی مہارت کا مقام ملے، اور جب نوجوان کو اس کی صلاحیت کے مطابق موقع ملے تو پھر کسی بڑے دعوے کی ضرورت نہیں رہتی، ترقی خود بولتی ہے۔ مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ فیصلے کاغذوں سے نکل کر زمین پر اتریں، اور عوام کو صرف وعدے نہیں بلکہ حقیقت میں مواقع دیے جائیں۔