پاکستان میں سیاسی استحکام کے لیے مذاکرات ضروری ہیں
تحریر: اللہ نواز خان
allahnawazk012@gmail.com
پاکستان اس وقت سیاسی انتشار کا شکار ہو چکا ہے اور فوری ضرورت ہے کہ سیاسی انتشار کا خاتمہ کیا جائے۔اس وقت یہ صورتحال پیدا ہو گئی ہے کہ معمولی سے سیاسی اختلاف رائے کوبھی ذاتی دشمنی بنا دیا جاتا ہے۔موجودہ سیاسی نظام کمزوری کا شکار ہو چکا ہے،اگر فوری طور پر توجہ نہ دی گئی تو مستقبل میں اس سے بھی زیادہ سنگین صورتحال پیدا ہو جائے گی۔حکمران طبقہ جس طرح پارلیمنٹ میں کردار ادا کر رہا ہے،اسے دیکھ کرقوم کو سخت مایوسی ہو رہی ہے۔بعض اوقات تو پارلیمنٹ کا تقدس بھی برقرار نہیں رکھا جاتا بلکہ نامعقول قسم کا رویہ اپنا لیا جاتا ہے۔نامعقول قسم کے رویے کو دیکھ کرقوم کو شدید اذیت ہوتی ہے۔اس وقت پاکستان میں سیاسی نظام مستحکم ہونا ضروری ہے کیونکہ عالمی حالات بہت کشیدہ ہو چکے ہیں۔امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ رہے ہیں۔پاکستان کے انڈیا اور افغانستان کے ساتھ بھی تعلقات بہتر نہیں ہیں۔عالمی معیشت بھی دباؤ کا شکار ہو رہی ہے اور عالمی کمزور معیشت کےاثرات پاکستان پر بھی پڑرہے ہیں۔پاکستان میں سیاسی صورتحال کو فوری طور پر بہتر نہ کیا گیا تو پاکستان سنگین قسم کے مسائل میں پھنستا جائے گا۔
پاکستان میں اس وقت سیاسی اختلافات بہت ہی بڑھ چکے ہیں۔سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ادارے بھی متاثر ہو رہے ہیں۔سیاسی نظام مستحکم ہونے کی صورت میں تمام ادارے آزاد ہو کر کام کرنا شروع کر دیں گے۔تمام سیاسی پارٹیاں قوم کی خاطر مذکرات کی میز پر بیٹھ جائیں اور مسائل کا حل نکالنے کی کوشش کریں۔سیاسی مذاکرات صرف گفتگو کی حد تک نہ ہوں بلکہ کامیاب ہوتے ہوئے نظرآنےچاہیے۔کمزور سیاسی نظام کا فائدہ دشمن اٹھا رہا ہے۔بارہا دعوے کیے جاتے ہیں کہ سیاست کے نظام کو بہتر کیا جا رہا ہے،لیکن سیاسی حالات مزید بدتر ہو جاتے ہیں۔اختلاف رائے کو برداشت نہ کیا گیا تو حالات کبھی درست نہیں ہوں گے۔مثبت تنقید کو بھی برداشت کرنے کی ضرورت ہے۔ویسے مثبت تنقید کی تعریف انتہائی مشکل ہے،لیکن مسئلے کا حل ضرور نکالنا چاہیے۔سیاسی استحکام وقت کی اہم ضرورت ہے،اگر اس کو نظر انداز کر دیا گیا تو کسی کے پاس بھی کچھ نہیں رہے گا۔
سیاسی مذاکرات کے ذریعے تمام مسائل حل ہو سکتے ہیں اگر نیک نیتی سے کیے جائیں۔مذاکرات کر کے ایسے انتخابات منعقد کیے جا سکتے ہیں جو سب کے لیے قابل قبول ہوں۔ہر الیکشن کے بعد تمام ہارنے والی پارٹیاں اس بات کا واویلا کرتی ہیں کہ دھاندلی ہو گئی ہے۔مذاکرات کر کےصاف اور آزاد انتخابات کیے جا سکتے ہیں۔آئین کی بالادستی بھی ضروری ہے۔اگرآئین کو نظر انداز کیا گیا تو پاکستان کا سیاسی نظام کبھی بھی مستحکم نہیں ہو گا۔ترقی یافتہ ممالک میں آئین کو فوقیت دی جاتی ہے،جس کی وجہ سے وہ ممالک بے انتہا ترقی یافتہ ہو گئے ہیں۔تمام سیاسی جماعتیں آئین کی تقدیس پر متفق ہو جائیں تو بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے۔افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ ہر پارٹی کو آئین اس وقت یاد آتا ہے جب وہ مشکل میں ہو،لیکن وہی پارٹی اگر مشکل سے نکل جائے تو وہ ائین کی پامالی شروع کر دیتی ہے۔سیاسی مخالفت کو اگر ملک کی بہتری کے لیے استعمال کیا جائے تو اس سے بڑی بات کوئی ہو ہی نہیں سکتی۔مثال کے طور پر مضبوط جمہوریت کے لیے ضروری ہے کہ اپوزیشن مضبوط ہو۔مضبوط اپوزیشن حکومت کو مجبور کرسکتی ہے کہ کوئی بھی کام قوم کے مفاد کے خلاف نہ کیا جائے۔محاسبہ حکومت کو مجبور کر دیتا ہے کہ وہ آئین کی پیروی کرے۔
مذہبی سیاسی جماعت ہو یا سیکولر،علاقائی جماعت ہو یا لسانی،تمام جماعتیں ملک کے مفاد میں کام کریں۔تمام جماعتیں سیاسی استحکام کے لیے ایک میز پر بیٹھیں۔تمام جماعتیں مل کر ہی پاکستان کی سالمیت کو محفوظ رکھ سکتی ہیں۔اس وقت ملک کئی سنگین مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔دہشت گردی،مہنگائی،تعلیمی زوال،ٹیکسٹائل انڈسٹری کا زوال،زرعی مسائل سمیت دیگر کئی قسم کے مسائل پاکستان کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔یہ سب مسائل حل ہو سکتے ہیں اگر سیاسی نظام درست ہو جائے۔سیاسی اختلافات کی وجہ سے چھوٹے چھوٹے مسائل بڑے مسائل میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ایک جماعت سمجھتی ہے کہ اگر ایک عمل ہو گیا تو اس کا ووٹ بینک خراب ہو سکتا ہے اس لیے وہ جماعت شدت سے مخالفت کرکے ایک اچھے کام کو روک دیتی ہے۔مخالفت کرنے والی جماعت سیاسی مفاد تو حاصل کر لیتی ہے لیکن ملک کا نقصان ہو جاتا ہے۔پاکستان میں ایک ایسا نظام قائم ہونا چاہیے جو ہر حال میں پاکستان کی سالمیت کا تحفظ کرے۔بعض اوقات حکومت تبدیل ہو جاتی ہے تو آنے والی حکومت سابقہ حکومت کے کاموں کو روک دیتی ہے۔اس عمل سے ملک کا نقصان ہو جاتا ہے،اس لیے ایسا سیاسی انتظام کرنا ہوگا کہ جو بھی حکومت آئے یا جائے،کوئی فرق نہ پڑےاوراچھے کام کو روکا نہ جا سکے۔اب بھی وقت ہے کہ تمام جماعتیں مذاکرات کی طرف بڑھیں۔مذاکرات کے مثبت نتائج بھی ضروری ہیں ورنہ مذاکرات کاکوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
سکھر بیورو چیف سید نصیر حسین زیدی سکھر: ڈسٹرکٹ آفیسر ایلیمنٹری، سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری سکھر سید غلام مرتضیٰ شاہ نے مختلف
بہاولنگر: تھانہ صدر بہاولنگر کی حدود میں سوتیلی ماں کا بیٹے کو قتل کرنے کا معاملہ
ہارون آباد (سٹی رپورٹر)شہر کی معروف سماجی
سکھر بیورو چیف سید نصیر حسین زیدی اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے وفد کا فیری ہوم سکھر کا دورہ، خواتین کو خودمختار بنانے پر زور
عالمی ماہرین کی مدد سے نئی ہیلتھ اسٹریٹجی تیار کرلی ہے۔وفاقی وزیر صحت