*حرام کمائی اور حج: ایک خطرناک خود فریبی*
بدھ 29 اپریل 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
ہمارے معاشرے میں ایک عجیب اور خطرناک سوچ جڑ پکڑتی جا رہی ہے: “چاہے جیسے بھی مال کما لو—رشوت، دھوکہ، حق تلفی—پھر حج یا عمرہ کر کے سب گناہ دھل جائیں گے۔” یہ خیال نہ صرف غلط ہے بلکہ دین کی روح کے بھی خلاف ہے۔
قرآن واضح حکم دیتا ہے کہ حلال اور پاکیزہ رزق اختیار کرو اور ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ۔ نبی کریم ﷺ نے بھی فرمایا کہ اللہ پاک ہے اور پاک ہی کو قبول فرماتا ہے۔ ایک حدیث میں ایسے شخص کا ذکر ہے جو عبادت اور دعا میں مشغول ہے، مگر اس کی کمائی حرام ہے—تو اس کی دعا کی قبولیت پر سوال اٹھتا ہے۔
فقہی اعتبار سے اگر کوئی شخص حرام مال سے حج کر بھی لے تو اس کا فرض تو ادا ہو جاتا ہے، مگر گناہ اپنی جگہ باقی رہتا ہے اور ایسے حج کی قبولیت مشکوک ہو جاتی ہے۔ اصل مسئلہ “قبولیت” کا ہے، جو حلال کمائی اور خلوص نیت کے بغیر ممکن نہیں۔
مزید اہم بات یہ ہے کہ حقوق العباد—یعنی لوگوں کے حقوق—صرف عبادت سے معاف نہیں ہوتے۔ اگر کسی نے کسی کا حق مارا ہے تو اسے واپس کرنا یا معاف کروانا ضروری ہے، ورنہ قیامت کے دن نیکیاں بھی اس کا بوجھ نہیں اٹھا سکیں گی۔
یہ غلط سوچ ہمارے معاشرے میں بدعنوانی کو جواز دیتی ہے اور عبادت کو محض ایک رسمی عمل بنا دیتی ہے۔ حالانکہ اسلام عبادت اور اخلاق کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کرتا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی عبادات کو حلال رزق اور دیانت داری کے ساتھ جوڑیں۔ حج اور عمرہ گناہوں کی “واشنگ مشین” نہیں، بلکہ ایک ایسی عبادت ہیں جو انسان کو اندر سے بدلنے کا تقاضا کرتی ہیں۔
اگر ہم نے اس خود فریبی کو ترک نہ کیا تو ہمیں اعمال تو ملیں گے، مگر قبولیت نہیں۔ اور یہی سب سے بڑا خسارہ ہے۔
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333