13

افسانہ عنوان. کہ سجنی خوب صورت ہے تحریر. ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور

افسانہ
عنوان. کہ سجنی خوب صورت ہے
تحریر. ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
رات کی پیشانی پہ جب چاند نے خاموشی سے ہاتھ رکھا تو سچ میں مجھے یوں لگا کاینات نے تمہارا چہرہ یاد کر لیا ہو،تمہاری آنکھیں……….
اف تمہاری آنکھیں اتنی حسین ہیں کہ الفاظ اس حسن کی وسعت کو احاطہ قلم میں لانے سے انکاری ہو جاتے ہیں،تمہاری مست نیلگوں آنکھیں بالکل ایسی تھیں جیسے کسی خواب نے گھپ سیاہ اندھیروں میں سفید روشنی کے دو در کھول دییے ہوں اور ان میں نیند کی نیلی تتلیاں اڑ رہی ہوں.
اور تمہاری مسکراہٹ،بیک وقت گالوں کے ڈمپل اور ہونٹوں کی پنکھڑیوں کی مستی،میں دعوے سے کہہ رہا ہوں کہ جب جب وہ مسکراتی کاینات تھم گیی،اور ہوا سراسیمگی سے اپنے قدموں کی چاپ سننے لگتی…..
مجھے کبھی کبھی یوں لگتا کہ تم اس دنیا کی ہو ہی نہیں………. ؀؀؀؀؀؀؀؀
بلکہ کسی خوابیدہ کہکشاں کی وہ روشنی ہو جو فرشتوں کی غلطی سے زمین پہ اتر آی ہو. تمہارے بالوں کی تاریکی میں رات اپنے ستارے رکھ کر بھول جاتی ……. اور تمہارا چہرہ دیکھ کر ایسا لگتا ، جیسے کسی شاعر کے دل میں خدا نے اچانک چاند رکھ دیا ہو…..
مگر اس کی خوب صورتی کا قصہ صرف آیینے تک محدود نہیں اس کے چہرے کی ملاحت میں ایک عجب سی روشنی ہے جیسے کسی پرانی مسجد کے صحن میں شام کے وقت چراغ جل اٹھے ہوں……
جب وہ پہلی بار میرے سامنے آی تھی تو مجھے یوں لگا جیسے وقت نے ایک لمحے کے لیے سانس روک لی ہو…. اس کے گھنگھریالے بالوں کی لٹیں اس کے چہرے پہ یوں ٹہھری تھیں جیسے چلتی ہوا نے بھی ادب سے قدم روک لیے ہیں…
مجھے اپنی ہی قسمت؀پہ رشک ہوا… میں نے دل ہی دل میں رب سے دعا کی اے مالک! اگر حسن کسی بزرگ کی دعا کا صلہ ہے تو میرے نصیب میں کیوں لکھا??????
اس سوچ نے میرے سارے بدن پہ کپکپکی طاری کر دی اور مجھے بے تحاشا خوف محسوس ہوا.کیوں کہ دنیا حسین چہروں سے جلد ہی حسد کرنا شروع کر دیتی ہے…. لوگوں کی نظریں اس کے چہرے پہ جب پڑتیں میرے دل میں شدید اضطراب پیدا ہو جاتا جیسے میں کسی قیمتی خزانے کا؀نگہبان ہوں؀اور اسے دنیا کی حاسد نظروں سے بچانا ہی میرا اولین فریضہ ہو… ایک شام وہ میرے ساتھ دریا کے کنارے بیٹھی تھی ،ٹھنڈی مست ہوا چل رہی تھی،سورج ڈوب رہا تھا اور اس کی بنفشی شعاعیں خوب روشن تھیں گویا قدرت کی دونوں صناییاں دو بدو تھیں. ڈوبتے ہوے سورج کی مدھم شعا عوں کے عکس نے اس کی شہابی رنگت کو مزید شہابی کر دیا تھا،
میں نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اس کے چہرے سے نظریں ہٹاتے ہوے کہا کہ لوگ کہتے ہیں چاند خوب صورت ہوتا ہے………. ؀؀
اس حسن دلربا نے میرا سوال
میری ہی طرف لوٹا دیا….
بولی!آپ کیا کہتے ہیں??
میں نے آہستہ سے جواب دیا،چاند…… ہو گا خوب صورت لیکن ایک شہابی رنگت ،سروقد،گھنگھریا لے بالوں،جاندار مسکراہٹ اور تیکھے ڈمپلز والی دلربا سے کم……… ؀؀؀؀؀؀
وہ دریا کی طرف منہ کر کے ہنس دی مگر اس کی مسکراہٹ میں جو پاکیزگی،معصومیت اور وسعت تھی, اس کے سامنے دریا کی پاکیزگی،معصومیت اور وسعت ماند پڑ گیی.
مجھے اپنے اوپر بے تحاشا پیار آیا کہ میں اس دنیا کا سب؀سے مالدار شخص ہوں کہ مجھے نوازنے والے نے ایسی خوب صورت سجنی سے نوازا ہے جس کی شکل و صورت تو بے مثال ہے ہی ،اخلاقیات کا بھی جواب؀نہیں…..
اس خیال نے میری تمام مشکلات کو آسان بنا؀دیا؀کہ سجنی خو بصورت تو ہے، سو ہے خوب سیرت بھی ہے ….
ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
Punnamnaureen&gmail. Com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں