82

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک* *عنوان: ایک نظر مسلم ریاست اور امتِ مسلمہ پر* *کالمکار: جاوید صدیقی*

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

*عنوان: ایک نظر مسلم ریاست اور امتِ مسلمہ پر*

*کالمکار: جاوید صدیقی*

قرآن پاک میں یہود و نصاریٰ سے دوستی کرنے ، نبھانے اور بھائی چارگی کو اپنانے پر شدید ترین الفاظ میں منع فرمایا ھے۔ امتِ مُسلمہ کو صرف ایک دوسرے مُسلمان سے سچی، حقیقی، بھائی چارگی اور ایثار و قربانی کی ترغیب دی ھے، جس کی عملی مثال ہجرتِ مدینہ اور ریاستِ مدینہ ہے۔ جب سے ھم نے قرآن کو چھوڑا ھے ھم غافل، اندھے اور جاہل ہوگئے ہیں، اور تو اور قرآن کے مُنحرف ہوتے جارہے ہیں، یہی وجہ ھے کہ قرآن کے مُنحرفوں کا انجام سوائے تباہی، بربادی اور رسوائی کے کچھ حاصل نہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ ایک طویل جنگ ھے جس میں سب سے زیادہ مُسلم ریاستوں کو بُھگتنا ہوگا کیونکہ مُسلم ریاستوں نے خِلافت کا انکار کرتے ہوئے مَلُوکیت، بَادشاہت اور جَمہوریت کو گلے لگایا یہی نہیں بلکہ مُسلم ریاستوں نے باہمی اتفاق و اتحاد رکھنے کے بجائے آپس کی بلاوجہ چَپکلش، نَفرت اور بُغض کے بدترین عمل کو اپنائے رکھا۔ ترکیہ کے خَلیفہ عبدالمجید نے اِسرائیل، امریکہ، برطانیہ، فرانس، اٹلی، جرمنی اور دیگر صَیہونی سازشوں کو اپنے تَدبر، عَقل و شَعور، سِیاسی بَصیرت اور دِین سے رہنمائی لیتے ہوئے اپنے دور میں ہمیشہ غیر مُسلموں کو ہر طرف سے بَدترین شِکست سے دُوچار رکھا لیکن خاندانی اور مَحلاتی سازشوں نے بعد الموت خلیفہ عبدالمجید کی خلافت اور اسلامی شعائر کو ہٹا کر یورپی تہذیب کی غلامی میں ڈبو ڈالا جس میں کمال اتاترک سرِ فہرست غدارانِ وطن تاریخ میں جانا جاتا ھے، پھر امریکہ اور برطانیہ کی سازشوں نے یہودیوں کو فلسطین میں آبادکاری کیلئے تمام تر کوششیں تیز کردیں اور اپنی سازشوں، مکاریوں، اور دھوکہ دہی سے عام فلسطینیوں کو کہیں لالچ سے تو کہیں بیوقوف بناکر زمینیں خریدنا شروع کردیں، اور پھر بقیہ علاقوں پر بھی قبضہ کرنا شروع کردیا۔ پاکستان کے وجود میں آنے کے ایک سال بعد امریکہ نے فلسطین میں قائم یہودی آبادی کو اسرائیل کے نام سے ریاست کا اعلان کیا اور دنیا میں متعارف کرایا اور یو این او کی ممبر شب بھی دلوادی جو سراسر امریکہ کی بدمعاشی، غنڈہ گردی، اور انسانی حقوق کی سب سے بڑی حق تلفی ھے۔ اس بابت عرب دنیا خاموشی سے نہ صرف تماشہ دیکھتی رہی بلکہ فلسطین کے بجائے اسرائیل کے دست بازو بن گئے کیونکہ انکی عیاشیوں اور خواہش نفس کیلئے اسرائیلی حسین و جمیل دوشیزاؤں نے عرب شہزادوں اور عرب نوجوان نسل کو اپنی زلفوں باہوں کا اسیر بنادیا تھا جو تاحال جاری ھے۔۔۔ معزز قارئین!! یاد رھے کہ قائداعظم محمد علی جناح ؒ اپنے دورِ طالبعلمی میں ہی یہودیوں اور عیسائیوں اور تمام کی تمام زائینسٹوں کے اصل چہروں اور انکی سازشوں سے واقف ہوگئے تھے اور بہت قریب سے ان کی سازشوں کے مطالعہ کرچکے تھے اسی لئے آپ قائداعظم محمد علی جناح ؒ نے اپنی وفات سے قبل ریاستِ پاکستان کیلئے وصیت کر ڈالی تھی۔ آپ نے اپنی وصیت میں لکھا تھا کہ پاکستان میں خلافت کا نظام قائم کیا جائیگا اور خاص طور پر جمہوریت کو قطعی لاگو نہیں کرنا کیونکہ جمہوریت یہود و ہنوذ اور نصاریٰ کا پاکستان کو تباہ کرنے کا بہترین اور آسان آلہ ھے اسی لئے جمہوریت کو نہیں آنا چاہئے دوسرا یہ کہ اسرائیل کو تا قیامت تسلیم نہیں کرنا ھے۔ قائداعظم محمد علی جناح کے انتقال کے بعد اسرائیل کے متعلق وصیت کو تسلیم کرلیا لیکن نظامِ خلافت کی مخالفت اور نظام جمہوریت کو ہی پسند پشت کرلیا گیا۔ یہ بھی انہیں وقتوں نے اپنے ایجنٹوں اور غلاموں سے کرایا جو پاکستان کو بنتا قبول نہیں کررھے تھے۔ آج پاکستان کو وجود میں آئے تقریباً انہتر سال ھوا چاہتے ہیں لیکن پاکستان کا نظام نہ جمہوری ھے نہ بادشاہی نہ مملکت اور نہ ہی خلافت یہاں جھوٹ، فریب، دھوکہ اور ظلم و بربریت کیساتھ طاقت رکھنے والا ہی نظام رائج ہے بظاہر آئین و دستور میں حاکم اللہ اور نظام اسلام درج ھے مگر اسکی شقین اس قدر کمزور لاغر کردی گئیں ہیں کہ جیسے دین کا مزاق بنایا جارھا ھے کیونکہ دین مکمل رائج ہونے کیلئے رب العزت نے آپ ﷺ پر نازل کیا۔ آپ ﷺ نے حج الوداع کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے بیان دیا کہ تم گواہ رہنا کہ میں نے اللہ کے دین کو مکمل کرلیا ھے اب اس دین کی پیروی و اطاعت تمام امت پر لازمی ھے۔ اس دین میں نہ رتی برابر کمی ہوسکتی ھے اور نہ ہی اضافہ یہی رب العزت کا احکام ھے۔ ہمارے آئین و دستور کی کمزوری، کمی اور نقاص کے باعث اس میں عام عوام کمزور، مرنے، مٹنے اور بے وقت، بدترین زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ آئین و دستور کی کمزوری، کمی اور نقاص کے باعث اس میں طاقتور، دولت مند، سرمایہ دار، سیاستدان، اور زمیندار سب کے سب طاقتور ھونے کے ناطے سمجھتے ہیں کہ عیش کی زندگی گزارنے کا حق صرف اور صرف انہیں حاصل ھے یہی سبب ھے کہ عوام بد ترین غلام سے بھی کم تر سمجھی جاتی ھے اسی لئے ان پر خچروں اور گدھوں کی طرح حکومتی مالیتی بوجھ اٹھانے کیلئے لاد دیا جاتا ھے اور چابک سے مار مار کر چلایا جاتا ھے نہ انہیں جینے کیلئے پانی ، نہ کھانے کیلئے خوراک دی جاتی ھے حتیٰ کہ رہنے کیلئے ظالم موسم کے حوالے بے یارو مددگار چھوڑ دیا جاتا ھے۔ یہی وجہ ھے کہ ایمان دار اور ایمان کے علمبرداروں کا اس سرزمین میں کوئی جگہ نہیں۔ گویا ملک میں عرصہ دراز سے دجالی و فرعونی نظام حکومت یعنی جمہوریت چل رہی ھے حیرت تو یہ ھے کہ عوام اچھی طرح جانتی ھے کہ جمہوریت سے آج تک عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا البتہ ان اشرفیاء نے قومی دولت کو لوٹ گھسٹا جبکہ جنرل ایوب اور جنرل ضیاءالحق کا مارشل لاء یا پھر جنرل پرویز مشرف کا ایمرجنسی دور ان تینوں ادوار میں مہنگائی میں کمی، روپے کی قدر میں اضافہ، عام انسان کی بہتر زندگی ممکن رہی لیکن جب جب جمہوری حکومتیں آئیں انھوں نے صرف جھوٹے نعرے، جھوٹے دعوے، دھوکہ فریب کے سوا کچھ نہ دیا البتہ تباہی بربادی ذخیرہ اندوزی لوٹ مار قتل و غارت لاقانونیت کا راج ہی رھا۔ خیر اب بات کرتے ہیں مشرقِ وسطیٰ کی تو عربوں نے اپنی دولت کو عیش و تعیش اور شراب و شباب میں لٹائی ہے ان جاہلوں کی جاہلیت سے یہودیوں اور عیسائیوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا ھے اور اٹھا رھے ہیں۔ یہ عرب بدو، جاہل ابتک ان یہود و نصاریٰ اور صیہونی سازشوں مکاریوں کو نہ سمجھ سکے اور نہ سمجھنا چاہتے ہیں۔ ہوس پرستی میں اس قدر اوندھے گر چکے ہیں کہ انہیں نہ اسلام کا خیال رھا نہی اپنی ایمان کی سلامتی کا خیال۔ عرب امارات بشمول سعودی عرب کے بادشاہوں کو برسوں سے رہن کی بیماری کی عادت سی ہوگئی ھے اور دنیا پرستی کے ایسے نشہ میں غرق ہوچکے ہیں کہ انہیں عالمِ اسلام کی کوئی پرواہ نہیں یہ خودغرضی میں سب کچھ بھلا بیٹھے ہیں۔ عربوں کی دولت سے یہ یہود و نصاریٰ، ہنوذ و صیہونیوں نے اپنی افواج اور خفیہ ایجنسیوں کے دفاتر ان عرب ریاستوں میں قائم کئے تاکہ ان پر کڑی نظر رکھی جاسکے۔ مسالک کی تقسیم اور تعصب کو قائم رکھا جاسکے تاکہ یہ ایک امت بن نہ سکیں۔ اسلام آباد میں پاکستان نے ایک بہترین موثر کردار ادا کیا لیکن امریکہ جوکہ پہلے ہی غلاظت بھرا ذہن و سوچ لیکر آیا تھا اور ناجائز اولاد اسرائیل کے حق میں مقدمہ لڑنا چاہتا تھا اسی لئے امن و سکون کی بات چیت اور معاہدوں سے فوری راہ فرار اختیار کی۔ اب کیونکہ معاہدے بناء مثبت نتیجہ ختم ھوا تو ایک بھیانک جنگ عنقریب شروع ہوسکتی ھے اس جنگ میں پہلے پہل ترکیہ اور عراق بھی شامل ہوسکتا ھے امریکہ اور اسرائیل اپنی غنڈہ گردی سے باز نہ آئے تو جنگ نہ صرف طویل پکڑے گی بلکہ پھیلے گی اور اس جنگ سے عرب امارات بشمول سعودی عرب بھی ناتلافی نقصان سے دوچار ہوگا۔ یہ بھی ممکن ہوسکتا ھے کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کی بجلی کی تنصیبات تباہ کرنا شروع کر سکتا ھے۔ جواب میں وہ سعودی عرب، یو اے ای، قطر اور دیگر خلیجی ممالک کی بجلی کی تنصیبات تباہ کریگا پھر امریکہ اور اسرائیل اسکی تیل و گیس کی تنصیبات اور کنوؤں پر حملہ اور انکو مکمل تباہ کردے۔ جواب میں ایران خلیجی ممالک کی تیل و گیس کے ساتھ ساتھ پانی کی تنصیبات بھی تباہ کر سکتا ھے۔ اس کے بعد خلیجی ممالک کے پاس جو کچھ ہے اس سے ایران پہ حملے اور ایران کے پاس جو کچھ ہے وہ عربوں کو مارے۔ امریکہ و اسرائیل اسکو سوشل میڈیا کے ذریعے شیعہ سنی رنگ دے کر اس کو مزید پھیلانے کی کوشش کرے ان ملکوں تک جو جنگ میں شریک نہیں ہوئے۔ خلیج میں موجود کروڑوں پاکستانی، انڈین اور بنگالی بےروزگار ہوکر واپس آجائیں۔ ایران اور گلف کی تیل، بجلی و پانی کی تنصیبات کی تباہی کے ساتھ ہی یہ ممالک حقیقت میں پتھر کے دور میں پہنچ سکتے ہیں۔ یہ ممکنات میں سے ہوگا کہ دنیا چند سیکنڈز میں ستر فیصد تیل و گیس سے محروم ہو جائے۔ تیل ہزار روپے لیٹر بھی نہیں ملے۔ خلیج اور ایران کے تیل پہ انحصار کرنے والے چین، جاپان، انڈیا، پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے ممالک کی معیشتیں تباہ ہوسکتی ہیں چونکہ آدھی سے زیادہ کھاد بھی خلیجی ممالک سے آتی ہے تو تیل اور بجلی کے ساتھ کھاد بھی ناپید ہو جائے اور فصلوں کی پیداوار کم ہوتے ہی قحط جیسی کیفیت سامنے آجائے۔ ایسی تباہی ہوگی جس کا آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔ اس کے بعد تیل کے سب سے بڑے ذخائر امریکہ کے پاس ہونگے۔ وینزویلا اور کینیڈا کے تیل پر اسکا پہلے ہی قبضہ ہے۔ دوسرے نمبر پہ روس ہوگا۔ پوری دنیا حقیقت میں امریکہ کی محتاج ہو جائیگی۔ امریکہ کا چین جیسا حریف لڑے بغیر شکست کھا جائیگا۔ اسرائیل کے حریف تمام ممالک ایک دوسرے سے لڑ لڑ کر ختم ہو سکتے ہیں۔ اسرائیل کی جو تباہی ہوئی ہے وہ بہت تیزی سے تعمیر نو کر لے گا۔ اب جنگ بندی نہ ہونے پر ایٹم بم کے استعمال کے بغیر بھی ایٹم بم سے زیادہ تباہی ہونے کے امکانات بڑھ چکے ہیں۔ اس لئے پاکستان کو اب بھی جنگ بندی کی کوششیں جاری رکھتے ہوئے تمام مسلم ممالک بلخصوص عرب امارات اور سعودی عرب کیساتھ ساتھ ایران کو بھی درمیانہ راستہ استوار کرنے کیلئے آمادہ کرنا چاہئے سب سے بڑھ کر امریکہ یورپ اور یو این او پر سب سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی ضرورت ھے کہ ڈونلڈ ٹرم اور نیتن یاہو کو دنیا تباہ کرنے کی ہرگز اجازت نہ دی جائے۔ امریکی عوام کا اب آگاہ کرنے کی ضرورت ھے کہ ڈونلڈ ٹرم اسٹیریم کیس کے سلسلے میں نیتن یاہو کے ہاتھوں بلیک میل ہوکر امریکہ اور امریکی عوام کو دنیا میں رسوا اور جھلستی آگ میں جھونک رہے ہیں یہ تسلسل نہ رکا تو جوہری جنگ میں منتقل ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ عیسائی مذہبی و روحانی پیشوا نے بھی ڈونلڈ ٹرم کو باز آنے کی تلقین کی ھے اور امن و استحکام کے راستے کو اپنانے کا مشورہ دیا ھے جسے ڈونلڈ ٹرم نے قبول نہیں کیا اور یہودی زائینسٹوں نے ہاتھوں ناچ رھا ھے یہ خود امریکہ کے مفاد میں بھی بہتر نہیں، اس صورتحال میں عرب امارات خاص طور پر یو اے ای کا کردار امت مسلمہ کیلئے بہت اہمیت کا حامل ھے۔ یو اے ای کو اسرائیل اور امریکہ سے دوستانہ تعلقات فوری منقطع کردینے چاہئیں اور ایک مسلم بلاک فوری ہنگامی بنیادوں پر استوار کردینا چاہئے اس دباؤ سے یہودی و نصاریٰ کی زائینسٹ اپنے شیطانی خباثتی عزائم سے رک سکتے ہیں کیونکہ ان کے دلوں میں طاقت کا خوف رہتا ھے یہی عمل امت مسلمہ کی بقاء و سلامتی کی ضمانت ھے وگرنہ عربوں کی خود غرضیاں انہیں بھی نہیں بچاسکیں گی ۔۔۔۔!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں