افسانہ
عنوان. آلو کی بھجیا
تحریر. ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
اسے اپنی چھوٹی خالہ کے گھر سے بالکل اپنی ماں کے ذایقے جیسی آلو کی بھجیا مل ہی گیی تھی،پہلا لقمہ منہ میں ڈالتے ہی فضل الہی کو یوں لگا جیسے وقت کا پہیہ تھم سا گیا ہو،اس کی آنکھوں کے سامنے دھند سی چھا گیی،وہی مٹی کا صحن،وہی گارے سے لیپ شدہ دیواریں،وہی گارے کے چولہے میں خشک اپلوں کے
آنچ دیتے نارنجی شعلے جو بیچ بیچ میں سے نیلی شعا عیں بھی چھوڑ دیتے تھے،اور اس کی ماں کی پسینے سے عرق آلود پیشانی کے ساتھ،مسکراتی ہوی آنکھیں،تیزی سےآلو کے باریک چھلکے اتارتی ، اسے ہولے ہولے سمجھاتی……..
پڑھ لے فضل الہی……….
توں واقعی بڑا آدمی بنے گا………………..
یادوں کی خوشبو… لیپ گارے کی خوشبو سے زیادہ تھی مگر آلو کی بھجیا سے کم تھی…… فضل الہی کے ہاتھ کانپنے لگے،نوالہ حلق میں اٹک گیا…. خالہ نے فٹا فٹ گھڑونچی سے پانی نکال کر فضل الہی کو دیا ،مگر اس نے پانی کے گلاس کو بنا چھوے ہی پڑا رہنے دیا وہ آلو کی بھجیا کے اس دل پسند ذایقے کو ضایع نہیں کرنا چاہتا تھا جس کا سواد لینے وہ ہزاروں میلوں کی مسافت طے کر کیی سالوں کے توبہ شکن انتظار کے بعد پہنچا تھا………..
یہ صرف آلو کی بھجیا ہی نہ تھی…یہ اس کی ماں کی محبت تھی جو مدتوں بعد اسے میسر ہوی تھی……..
پتر کی ہویا……….. اس کی خالہ کی آواز میں اپنایت مگر اس کے دل میں ایک بہت بڑا خلا تھا جو کسی بھی آواز سے نہ بھرتا تھا…….
اس نی ارد گرد دیکھا…. وہی پرانا گھر وہی پرانے گھر میں سجا ہوا فرنیچر،مگر لوگ بدل چکے تھے کچھ قبروں میں سو رہے تھےکچھ کاروان حیات کی روانی کے لیے شہروں کی بھیڑ میں گم ہوچکے تھے…. گاوں وہی تھا مگر اپناییت مفقود تھی…
اسے اچانک احساس ہوا کہ اس نے زندگی کی بازی جیت لی ہے مگر اس جیت میں ہار کی آمیزش تھی جو اسے ایک پل چین نہ لینے دیتی تھی….. ….
ٹاٹ سکول سے پڑھنے والا روٹی کے نوالے نوالے کو ترسنے والا اب کیی کیی فیکٹریوں کا مالک تھا…..
فیکٹریاں،پجارو،بینک بیلنس، سب کچھ تھا اس کے پاس مگر ماں کے ہاتھ کی ایک پلیٹ آلو کی بھجیا کے سامنے سب ہیچ تھا…..
وہ آہستہ سے اٹھا،صحن میں آیا،مٹی کو چھوا اس مٹی میں اس کے بچپن کی ہنسی بھی تھی اور اس کی ماںکی دعا ییں بھی….
سوندھی سوندھی مٹی کی بھینی خوشبو نے اسے ماںکی یاد میں بالکل پاگل کر دیا…. مجھے معاف کر دینا ماں میں دنیا داری کے دھندوں میں اتنا غرق ہو گیا کہ تیرے جیتے جی آلو کی بھجیا کھانے بروقت نہ پہنچ سکا…..
اگلے دن جب وہ واپس جانے لگا اور اس نے پجارو کا دروازہ کھولا،ایک لمحے کو اس نے اپنی گاڑی کو دیکھا اور ایک لمحے کو اپنے گاوں کی کچی پگڈنڈی کو……..پہلی بار اسے لگا کہ اصل راستہ یہی کچی پگڈنڈی ہے نہ کہ وہ پکی سڑکیں جنہوں نے اسے اپنوں ہی سے دور کر دیا…………
اس نےڈراییور کو رخصت کیا اور خود آہستہ آہستہ اس پگڈنڈی پہ چلنے لگا..
شاید اب وہ واپس نہیں جا رہا تھا بلکہ پہلی بار واپس لوٹ رہا تھا…..اور اس کے دل میں ایک ہی خواہش نے انگڑای لی کہ کاش آلو کی مزے دار،دیسی گھی کے تڑکے اور ہرے دھنیے کی مست خوشبو کی طرح بھلا وقت بھی واپس لوٹ آتا
ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
Doctorpunnamnaureen&gmail. com