15

پاکستان کا صنعتی بحران:وجوہات اور حل تحریر:اللہ نوازخان

پاکستان کا صنعتی بحران:وجوہات اور حل
تحریر:اللہ نوازخان
allahnawazk012@gmail.com
کسی بھی ملک کی ترقی میں صنعتیں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔صنعتوں کی وجہ سے کسی بھی ملک کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے۔بے شمار ممالک کی مثالیں دی جا سکتی ہیں،جہاں صنعتی ترقی کی وجہ سے غربت ختم ہوئی۔بہت سے ممالک موجود ہیں جو صنعتوں پر توجہ نہ دینےکی وجہ سے ابھی تک غریب ہیں۔پاکستان میں بھی صنعتی بحران بہت بڑھ چکا ہے۔فوری طور پر صنعتی بحران پیدا نہیں ہوا بلکہ کئی دہائیوں سے یہ بحران پیدا ہونا شروع ہوا۔اس وقت صنعتی شعبہ بہت حد تک زوال پذیر ہو گیا ہے۔افسوسناک صورتحال تو یہ ہے کہ اس بحران کو ختم کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی۔بہت سے کارخانے بند ہو چکے ہیں اور بے شمار بند ہونے والے ہیں۔کارخانوں کی بندش سے غربت اور بےروزگاری میں بہت اضافہ ہو گیا ہے۔جو کارخانے چل رہے ہیں ان کی پیداواری صلاحیت کم ہو گئی ہے اورمصنوعات بھی مہنگی پیدا ہو رہی ہیں۔بہت سی وجوہات کی وجہ سے پاکستان میں صنعتی بحران پیدا ہوا ہے۔سب سے بڑا مسئلہ توانائی کا ہے۔مہنگی بجلی یا مہنگے ایندھن کی وجہ سے بہت بڑا بحران پیدا ہوا ہے۔لوڈ شیڈنگ بھی ایک بڑی وجہ ہے،جس سے پیداواری صلاحیت متاثر ہوئی ہے یا کارخانے بند ہوئے ہیں۔مالیاتی دباؤ نے بھی صنعتی شعبے کو بہت زیادہ متاثر کیا ہے۔روپے کی گرتی ویلیو اور ڈالر کی بڑھتی قیمت کی وجہ سے صنعتوں کو شدید نقصان پہنچا۔اس افسوسناک صورتحال کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ سیاسی عدم استحکام بھی صنعتی شعبے کو زوال پذیر کر رہا ہے۔حکومتی ناقص پالیسیاں بھی اس زوال کی ذمہ دار ہیں۔بڑی صنعتوں کے علاوہ چھوٹی صنعتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔توانائی کا بحران کئی سالوں سے جاری ہے مگر اس پر قابو پانے کی کوشش نہیں کی جا رہی یا جان بوجھ کر ایسا کیا جا رہا ہے۔پاکستان میں خام مال کی کمی کی وجہ سے بیرون ممالک خام مال منگوانا پڑتا ہے اور وہ خام مال انتہائی مہنگا خریدا جاتا ہے،جس کی وجہ سےپیداواری لاگت بہت بڑھ جاتی ہے۔ماضی میں بھی صنعتی شعبے کو خاص طور پر نقصان پہنچاہے۔اس بحران کی ایک اور بڑی وجہ غربت اور مہنگائی بھی ہے۔غربت کی وجہ سے قوت خرید کم ہوئی،جس کا نقصان اس شعبے کو بہت زیادہ ہوا ہے۔بیرونی قرضوں کا دباؤ بھی بہت زیادہ پریشانی کا سبب بنا ہے۔بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے لیے نئے قرضے لیے جاتے ہیں۔دیگربہت سی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے نجی سرمایہ کاری میں بھی کمی ہوئی۔نجی سرمایہ کاری میں تقریبا 46 فیصد کمی گزشتہ چند سالوں میں ہوئی ہے۔بعض کارخانوں میں ابھی تک پرانی مشینری کا استعمال کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے پیداوار کم ہو رہی ہے۔ٹیکنالوجی کی کمی کے علاوہ کرپشن اور ناقص انفراسٹرکچر بھی صنعتی بحران کا سبب بناہے۔ماضی میں کارخانوں کو قومی ملکیت میں لینا بھی بہت نقصان دہ ثابت ہوا۔بیرونی عوامل بھی صنعتی شعبے کو متاثر کر رہے ہیں۔مثال کے طور پر یوکرین اورروس کے درمیان جنگ یاایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے اثرات بھی پاکستان کے صنعتی شعبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ان جنگوں کی وجہ سے تیل کی قیمتیں بڑھیں اور خام مال بھی پہلے سے زیادہ قیمت پر خریدنا پڑا۔پاکستان کی مصنوعات پرزیادہ ٹیکسز بھی عائد کر دیے جاتے ہیں،یوں پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے اور یہ مصنوعات اگر عالمی منڈی میں بیچی جائیں تو دیگر ممالک کی مصنوعات کی نسبت زیادہ مہنگی ہوتی ہیں۔اب اگر ایک صارف کو سستی مصنوعات حاصل ہوں تو مہنگی کیوں خریدے گا؟مصنوعات مہنگی ہونے کی وجہ سے برآمدات میں کمی ہو جاتی ہے۔خاص طور پر ٹیکسٹائل،چمڑے اور انجینئرنگ سیکٹر زیادہ متاثر ہوئے۔
زوال پذیر صنعتی شعبے کو اب بھی سنبھالا جا سکتا ہے۔بہترین پالیسیاں بنائی جائیں۔مستقل بنیادوں پر قابل عمل پالیسیاں بناناہوں گی،ایسی پالیسیاں جس سے صنعتی شعبہ متاثر نہ ہو۔مثال کے طور پر نئی حکومت پرانی حکومت کی پالیسیاں تبدیل کر دیتی ہے جس سے صنعتی شعبہ شدید متاثر ہوتا ہے،ایسی پالیسیاں بنائی جائیں جو اس شعبے کو متاثر نہ کر سکیں۔بجلی یا ایندھن کی قیمت سستی کی جائے،تاکہ پیداواری صلاحیت بڑھائی جا سکے اور اس کی قیمت بھی کم ہو۔توانائی کے لیے دیگر ذرائع بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں،جیسے سولر انرجی پر کارخانوں کو منتقل کیا جا سکتا ہے۔سولر کے علاوہ ہوا اور ہائیڈرو پاور پر بھی کام کیا جائے تاکہ صنعتی شعبہ بہتری کی طرف بڑھ سکے۔مقامی طور پر بھی خام مال پیدا کیا جائے۔مثال کے طور پر ٹیکسٹائل انڈسٹریز کے لیے کپاس کی زیادہ سے زیادہ کاشت کی جائے۔ایندھن کے لیے کوئلہ کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔صنعتی شعبہ اگر ترقی کرتا ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ ملک میں غربت کم ہو رہی ہے۔لاکھوں افراد برسر روزگار ہو جائیں گے اور یہ لاکھوں افراد لاکھوں خاندانوں کے لیے اہم ضروریات مہیا کر سکتے ہیں۔پیداوار بھی بڑھائی جائے لیکن سستی مصنوعات بنانا بھی انتہائی ضروری ہے۔جو کارخانے بند ہیں ان کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔جدید مشینری کو درآمد کرنا بھی ضروری ہے تاکہ زیادہ فائدہ اٹھایاجاسکے اور جدید تحقیقات سے بھی فائدہ اٹھانےکی ضرورت ہے۔سرمایہ کاری کی بھی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی تاکہ پاکستان میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہو سکے۔درآمدات میں بھی کمی کرنے کی ضرورت ہے اور برآمدات میں اضافہ کیا جائے۔صنعتی شعبے کو بحران سے نکالنا مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔جتنی جلدی ممکن ہو سکے،فوری طور پر صنعتوں کی بحالی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں